Yaaa aiyuhan Nabiyyu innaaa ahlalnaa laka azwaa jakal laatee aayaita ujoora hunna wa maa malakat yameenuka mimmaaa afaaa`al laahu `alaika wa banaati `ammika wa banaati `ammaatika wa banaati khaalika wa banaati khaalaa tikal laatee haajarna ma`aka wamra atam mu`minatan inw wahabat nafsahaa lin Nabiyyi in araadan Nabiyyu ai yastan kihahaa khaalisatal laka min doonil mu`mineen; qad `alim naa maa faradnaa `alaihim feee azwaajihim wa maa malakat aimaanuhum likailaa yakoona `alaika haraj; wa kaanal laahu Ghafoorar Raheema
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى پيامبر، ما زنانى را كه مهرشان را دادهاى و آنان را كه به عنوان غنايم جنگى كه خدا به تو ارزانى داشته است مالك شدهاى و دختر عموها و دختر عمهها و دختر داييها و دختر خالههاى تو را كه با تو مهاجرت كردهاند بر تو حلال كرديم؛ و نيز زن مؤمنى را كه خود را به پيامبر بخشيده باشد، هرگاه پيامبر بخواهد او را به زنى گيرد. اين حكم ويژه توست نه ديگر مؤمنان. ما مىدانيم در باره زنانشان و كنيزانشان چه حكمى كردهايم، تا براى تو مشكلى پيش نيايد. و خدا آمرزنده و مهربان است.
اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
آیت نمبر 50 کے اہم الفاظ کے معانی:
أُجُورَهُنَّ: ان کے مہر (جو شادی کے وقت دیے جاتے ہیں)
مَا مَلَكَتْ يَمِينُكَ: وہ لونڈیاں جو تمہاری ملکیت میں ہوں
أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْكَ: اللہ نے جو تمہیں غنیمت کے طور پر عطا کیں
هَاجَرْنَ مَعَكَ: جنہوں نے تمہارے ساتھ مکہ سے مدینہ ہجرت کی
وَهَبَتْ نَفْسَهَا: جس نے اپنے آپ کو ہبہ کیا (بغیر مہر کے)
يَسْتَنكِحَهَا: اس سے نکاح کرنا چاہے
خَالِصَةً لَّكَ: خاص طور پر صرف آپ کے لیے
حَرَجٌ: تنگی، رکاوٹ یا پریشانی
تفسیر:
اے نبیِ مکرم! اللہ تعالیٰ آپ کو مخاطب کرتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے کہ ہم نے آپ کے لیے حلال کیا ہے: آپ کی وہ بیویاں جنہیں آپ نے ان کے مہر ادا کیے ہیں، اور وہ لونڈیاں جو اللہ نے آپ کو غنیمت کے طور پر عطا فرمائیں (یعنی جنگوں میں جو قیدی ہاتھ آئیں)۔ نیز ہم نے آپ کے لیے حلال کیا ہے آپ کے چچا کی بیٹیوں سے، پھوپھیوں کی بیٹیوں سے، ماموں کی بیٹیوں سے اور خالاؤں کی بیٹیوں سے نکاح کرنا، بشرطیکہ وہ آپ کے ساتھ ہجرت کر کے آئی ہوں۔
اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ایک اور خصوصیت عطا فرمائی جو امت کے لیے نہیں ہے: اگر کوئی مؤمن عورت اپنے آپ کو بغیر مہر کے نبی ﷺ کو ہبہ کر دے، اور نبی ﷺ اس سے نکاح کرنا چاہیں، تو یہ صرف آپ کے لیے جائز ہے، عام مؤمنین کے لیے نہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے عام مؤمنین کے لیے جو احکام مقرر کیے ہیں وہ ہمیں معلوم ہیں: ان کے لیے چار بیویوں کی حد مقرر کی گئی ہے، اور ان کے لیے لونڈیوں کا معاملہ بھی طے کیا گیا ہے۔ لیکن آپ کے لیے ہم نے یہ وسعت دی ہے تاکہ آپ پر کوئی تنگی یا پریشانی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے گناہوں کو بخشنے والا اور ان پر رحم فرمانے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی اپنے نبی ﷺ سے محبت اور شفقت کا بھرپور اظہار ملتا ہے۔ اللہ نے اپنے محبوب رسول ﷺ کو جو خصوصی رعایتیں عطا فرمائیں، وہ آپ کی عظمت اور مرتبے کی دلیل ہیں۔ ہمیں اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کی مشکلات کو آسان فرماتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی زندگیوں میں اللہ کے احکام کو خوشی سے قبول کریں، کیونکہ اللہ جو حکم دیتا ہے وہ ہماری بھلائی کے لیے ہی ہوتا ہے۔ نیز ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سنت کو اپنانے کی کوشش کرنی چاہیے، کیونکہ آپ ﷺ کی زندگی ہمارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرکے ان کو ہاتھ لگانے (یعنی ان کے پاس جانے) سے پہلے طلاق دے دو تو تم کو کچھ اختیار نہیں کہ ان سے عدت پوری کراؤ۔ ان کو کچھ فائدہ (یعنی خرچ) دے کر اچھی طرح سے رخصت کردو
اے پیغمبر ہم نے تمہارے لئے تمہاری بیویاں جن کو تم نے ان کے مہر دے دیئے ہیں حلال کردی ہیں اور تمہاری لونڈیاں جو خدا نے تم کو (کفار سے بطور مال غنیمت) دلوائی ہیں اور تمہارے چچا کی بیٹیاں اور تمہاری پھوپھیوں کی بیٹیاں اور تمہارے ماموؤں کی بیٹیاں اور تمہاری خالاؤں کی بیٹیاں جو تمہارے ساتھ وطن چھوڑ کر آئی ہیں (سب حلال ہیں) اور کوئی مومن عورت اگر اپنے تئیں پیغمبر کو بخش دے (یعنی مہر لینے کے بغیر نکاح میں آنا چاہے) بشرطیکہ پیغمبر بھی ان سے نکاح کرنا چاہیں (وہ بھی حلال ہے لیکن) یہ اجازت (اے محمدﷺ) خاص تم ہی کو ہے سب مسلمانوں کو نہیں۔ ہم نے ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں جو (مہر واجب الادا) مقرر کردیا ہے ہم کو معلوم ہے (یہ) اس لئے (کیا گیا ہے) کہ تم پر کسی طرح کی تنگی نہ رہے۔ اور خدا بخشنے والا مہربان ہے
(اور تم کو یہ بھی اختیار ہے کہ) جس بیوی کو چاہو علیحدہ رکھو اور جسے چاہو اپنے پاس رکھو۔ اور جس کو تم نے علیحدہ کردیا ہو اگر اس کو پھر اپنے پاس طلب کرلو تو تم پر کچھ گناہ نہیں۔ یہ (اجازت) اس لئے ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ غمناک نہ ہوں اور جو کچھ تم ان کو دو۔ اسے لے کر سب خوش رہیں۔ اور جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے خدا اسے جانتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور بردبار ہے
(اے پیغمبر) ان کے سوا اور عورتیں تم کو جائز نہیں اور نہ یہ کہ ان بیویوں کو چھوڑ کر اور بیویاں کرو خواہ ان کا حسن تم کو (کیسا ہی) اچھا لگے مگر وہ جو تمہارے ہاتھ کا مال ہے (یعنی لونڈیوں کے بارے میں تم کو اختیار ہے) اور خدا ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔