Qaalatil-A `raabu aamannaa qul lam tu`minoo wa laakin qoolooo aslamnaa wa lamma yadkhulil eemaanu fee quloobikum wa in tutee`ul laaha wa Rasoolahoo laa yalitkum min a`maalikum shai`aa; innal laaha Ghafoorur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ یوں) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور تم خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اعراب باديهنشين گفتند: ايمان آورديم. بگو: ايمان نياوردهايد، بگوييد كه تسليم شدهايم، و هنوز ايمان در دلهايتان داخل نشده است. و اگر خدا و پيامبرش را اطاعت كنيد از ثواب اعمال شما كاسته نمىشود، زيرا خدا آمرزنده و مهربان است.
دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ یوں) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور تم خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الأعراب: دیہاتی عرب، جو شہروں میں نہیں رہتے تھے۔
آمَنَّا: ہم ایمان لے آئے (دل کی تصدیق کے ساتھ)۔
أَسْلَمْنَا: ہم نے اسلام قبول کیا، یعنی ظاہری طور پر اطاعت اور انقیاد اختیار کیا۔
لَا يَلِتْكُم: تمہارے اعمال کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک اہم حقیقت بیان فرمائی ہے جو آج بھی ہمارے لیے درسِ عبرت ہے۔ کچھ دیہاتی عرب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بڑے فخر سے کہنے لگے: "ہم ایمان لے آئے ہیں!" انہوں نے یہ دعویٰ صرف زبان سے کیا تھا، حالانکہ ان کے دلوں میں ایمان کی حلاوت اور اس کی حقیقت ابھی داخل نہیں ہوئی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا کہ انہیں سمجھائیں: "تم یہ نہ کہو کہ ہم ایمان لے آئے، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کر لیا ہے (یعنی ہم ظاہری طور پر تابع اور فرمانبردار ہو گئے ہیں)۔" اس کی وجہ یہ ہے کہ ایمان دل کا معاملہ ہے، جبکہ اسلام ظاہری عمل اور اطاعت کا نام ہے۔ ایمان اس وقت مکمل ہوتا ہے جب دل میں یقینِ کامل پیدا ہو جائے اور وہ صرف زبانی دعویٰ سے ثابت نہیں ہوتا۔
یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم واقعی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کرو گے، اپنے اعمال کو خالص اللہ کے لیے بناؤ گے اور نفاق سے بچو گے، تو اللہ تمہارے اعمال کے ثواب میں سے کچھ بھی کم نہیں کرے گا۔ وہ تمہاری چھوٹی چھوٹی نیکیوں کو بھی ضائع نہیں ہونے دے گا۔ اللہ تعالیٰ بڑا بخشنے والا ہے اور اپنے بندوں پر بے حد رحم فرمانے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت اہم سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کا دعویٰ زبان سے کرنے کے بجائے اپنے اعمال سے ثابت کرنا چاہیے۔ آج بھی بہت سے لوگ صرف زبانی دعوے کرتے ہیں کہ ہم مومن ہیں، لیکن ان کے اعمال، ان کا طرزِ زندگی اور ان کے معاملات اس دعوے کی تصدیق نہیں کرتے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کریں، اپنے اعمال کو سنواریں، اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا حقیقی مقصد بنائیں۔ یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ نے ہمیں بشارت دی ہے کہ اگر ہم خلوص کے ساتھ اطاعت کریں گے تو ہمارے اعمال کا کوئی حصہ ضائع نہیں ہوگا، بلکہ اللہ اپنے فضل و کرم سے ہمیں بھرپور اجر عطا فرمائے گا۔ اللہ غفور ہے، وہ ہماری کوتاہیوں کو معاف کر دیتا ہے، اور رحیم ہے، وہ اپنے بندوں پر رحمت کی بارش کرتا ہے۔ آئیے! ہم اپنے ایمان کو صرف زبانی دعویٰ نہ بنائیں، بلکہ اسے اپنے دلوں میں جگہ دیں اور اپنے اعمال سے اس کا عملی ثبوت پیش کریں۔
اے اہل ایمان! بہت گمان کرنے سے احتراز کرو کہ بعض گمان گناہ ہیں۔ اور ایک دوسرے کے حال کا تجسس نہ کیا کرو اور نہ کوئی کسی کی غیبت کرے۔ کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے؟ اس سے تو تم ضرور نفرت کرو گے۔ (تو غیبت نہ کرو) اور خدا کا ڈر رکھو بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا مہربان ہے
لوگو! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور تمہاری قومیں اور قبیلے بنائے۔ تاکہ ایک دوسرے کو شناخت کرو۔ اور خدا کے نزدیک تم میں زیادہ عزت والا وہ ہے جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ بےشک خدا سب کچھ جاننے والا (اور) سب سے خبردار ہے
دیہاتی کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ کہہ دو کہ تم ایمان نہیں لائے (بلکہ یوں) کہو کہ ہم اسلام لائے ہیں اور ایمان تو ہنوز تمہارے دلوں میں داخل ہی نہیں ہوا۔ اور تم خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو گے تو خدا تمہارے اعمال سے کچھ کم نہیں کرے گا۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔