ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَبّ: پیدا کرنے والا، پالنے والا، اور انتظام کرنے والا۔
- أَوْلِيَاء: دوست، مددگار، یا معبود۔
- لَا يَمْلِكُونَ: وہ قدرت نہیں رکھتے۔
- الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ: اندھا اور بینا (یہاں کافر اور مومن کی مثال ہے)۔
- الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ: اندھیرے اور روشنی (یہاں کفر اور ایمان کی مثال ہے)۔
- الْقَهَّارُ: سب پر غالب، ہر چیز کو زیر کرنے والا۔
تفسیر:
اے نبی کریم ﷺ! آپ ان مشرکین سے پوچھیں جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں: "یہ آسمان اور زمین کا رب کون ہے؟" اگر وہ جواب نہ دیں تو آپ خود فرما دیں کہ "اللہ ہی ان کا رب ہے، خالق ہے، اور ان کا انتظام کرنے والا ہے۔" حقیقت یہ ہے کہ مشرکین خود بھی اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ ہی خالق اور مالک ہے۔ پھر آپ انہیں حجت کے ساتھ الزام دیں: "کیا تم نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے دوست اور معبود بنا لیے ہیں جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کے مالک نہیں؟ جو اپنی جان سے بھی کوئی بلا ٹال نہیں سکتا اور نہ اپنے لیے کوئی بھلائی لا سکتا ہے، تو وہ تمہارے کس کام آئیں گے؟"
پھر اللہ تعالیٰ انہیں سمجھانے کے لیے مثالیں دیتا ہے: "کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں؟" بالکل نہیں! اندھا تو راستہ نہیں دیکھ سکتا، وہ ٹھوکریں کھاتا ہے، جبکہ بینا سیدھا راستہ دیکھ کر چلتا ہے۔ اسی طرح کافر اندھے کی مانند ہے جو حق کو نہیں دیکھتا، اور مومن بینا کی مانند ہے جو حق کو پہچان کر اس پر چلتا ہے۔ اسی طرح کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! اندھیرا گمراہی اور کفر ہے، اور روشنی ہدایت اور ایمان ہے۔ یہ دونوں کبھی یکساں نہیں ہو سکتے۔
پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس دعوے کا پردہ فاش کرتا ہے: "کیا انہوں نے اللہ کے لیے ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق پیدا کی ہو، جس سے ان پر خلقت مشتبہ ہو گئی ہو؟" یعنی اگر ان کے معبود واقعی کچھ پیدا کرتے تو شاید انہیں شبہ ہوتا کہ یہ بھی اللہ کی طرح خالق ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے معبود کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے، وہ خود مخلوق ہیں۔
آخر میں اللہ تعالیٰ اپنا تعارف کراتے ہوئے فرماتا ہے: "اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے، وہی واحد ہے جس کی عبادت کا حق ہے، اور وہی قہار ہے جو ہر چیز پر غالب ہے۔" وہ ایسا رب ہے جس کی قدرت کے آگے ہر چیز مغلوب ہے، اس کی مرضی کے بغیر کوئی ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانو! ذرا غور کریں، جس رب نے یہ وسیع آسمان، یہ زمین، یہ پہاڑ، یہ سمندر، یہ چاند سورج اور ستارے پیدا کیے، کیا وہ تنہا عبادت کا مستحق نہیں؟ کیا ہم اس کے سامنے اپنے سر جھکائیں یا ان بے جان چیزوں کے آگے جنہیں نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان؟ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم اس کی نشانیوں پر غور کریں اور اس کی عبادت کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو روشنی کی مانند چمکائیں، اندھیروں سے بچیں، اور صرف اسی ایک اللہ کے آگے جھکیں جو واحد ہے، قہار ہے، اور ہر چیز کا خالق ہے۔ کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس رب کو پہچان کر اس کی عبادت کرتے ہیں، ان کی زندگیاں نور سے بھر جاتی ہیں اور ان کے دلوں کو سکون ملتا ہے۔
📜 آیت 14-18 — رعد
ترجمہ — رعد 16
سورہ رعد آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون…سورہ آیت 16/43 — رعد الرعد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رعد سنیں, رعد ترجمہ, رعد mp3, رعد pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








