رعد · 16/43
ترجمہ تلفظ — رعد
قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ ۚ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ۝١٦
Wul mar Rabbus samaawaati wal ard; qulillaah; qul afattakhaztum min dooniheee awliyaaa`a laa yamlikoona li anfusihim naf`anw wa laa darraa; qul hal yastawil a`maa wal baseeru am hal tastawiz zulumaatu wannoor; am ja`aloo lillaahi shurakaaa`a khalaqoo kakhalqihee fatashaa bahal khalqu `alaihim; qulil laahu Khaaliqu kulli shai`inw wa Huwal Waahidul Qahhar
📖 اردو ترجمہ
ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • رَبّ: پیدا کرنے والا، پالنے والا، اور انتظام کرنے والا۔
  • أَوْلِيَاء: دوست، مددگار، یا معبود۔
  • لَا يَمْلِكُونَ: وہ قدرت نہیں رکھتے۔
  • الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ: اندھا اور بینا (یہاں کافر اور مومن کی مثال ہے
  • الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ: اندھیرے اور روشنی (یہاں کفر اور ایمان کی مثال ہے
  • الْقَهَّارُ: سب پر غالب، ہر چیز کو زیر کرنے والا۔

تفسیر:

اے نبی کریم ﷺ! آپ ان مشرکین سے پوچھیں جو اللہ کے ساتھ دوسروں کی عبادت کرتے ہیں: "یہ آسمان اور زمین کا رب کون ہے؟" اگر وہ جواب نہ دیں تو آپ خود فرما دیں کہ "اللہ ہی ان کا رب ہے، خالق ہے، اور ان کا انتظام کرنے والا ہے۔" حقیقت یہ ہے کہ مشرکین خود بھی اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ اللہ ہی خالق اور مالک ہے۔ پھر آپ انہیں حجت کے ساتھ الزام دیں: "کیا تم نے اللہ کو چھوڑ کر ایسے دوست اور معبود بنا لیے ہیں جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کے مالک نہیں؟ جو اپنی جان سے بھی کوئی بلا ٹال نہیں سکتا اور نہ اپنے لیے کوئی بھلائی لا سکتا ہے، تو وہ تمہارے کس کام آئیں گے؟"

پھر اللہ تعالیٰ انہیں سمجھانے کے لیے مثالیں دیتا ہے: "کیا اندھا اور بینا برابر ہو سکتے ہیں؟" بالکل نہیں! اندھا تو راستہ نہیں دیکھ سکتا، وہ ٹھوکریں کھاتا ہے، جبکہ بینا سیدھا راستہ دیکھ کر چلتا ہے۔ اسی طرح کافر اندھے کی مانند ہے جو حق کو نہیں دیکھتا، اور مومن بینا کی مانند ہے جو حق کو پہچان کر اس پر چلتا ہے۔ اسی طرح کیا اندھیرے اور روشنی برابر ہو سکتے ہیں؟ ہرگز نہیں! اندھیرا گمراہی اور کفر ہے، اور روشنی ہدایت اور ایمان ہے۔ یہ دونوں کبھی یکساں نہیں ہو سکتے۔

پھر اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس دعوے کا پردہ فاش کرتا ہے: "کیا انہوں نے اللہ کے لیے ایسے شریک بنائے ہیں جنہوں نے اللہ کی مخلوق جیسی مخلوق پیدا کی ہو، جس سے ان پر خلقت مشتبہ ہو گئی ہو؟" یعنی اگر ان کے معبود واقعی کچھ پیدا کرتے تو شاید انہیں شبہ ہوتا کہ یہ بھی اللہ کی طرح خالق ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے معبود کچھ بھی پیدا نہیں کر سکتے، وہ خود مخلوق ہیں۔

آخر میں اللہ تعالیٰ اپنا تعارف کراتے ہوئے فرماتا ہے: "اللہ ہی ہر چیز کا خالق ہے، وہی واحد ہے جس کی عبادت کا حق ہے، اور وہی قہار ہے جو ہر چیز پر غالب ہے۔" وہ ایسا رب ہے جس کی قدرت کے آگے ہر چیز مغلوب ہے، اس کی مرضی کے بغیر کوئی ذرہ بھی حرکت نہیں کر سکتا۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانو! ذرا غور کریں، جس رب نے یہ وسیع آسمان، یہ زمین، یہ پہاڑ، یہ سمندر، یہ چاند سورج اور ستارے پیدا کیے، کیا وہ تنہا عبادت کا مستحق نہیں؟ کیا ہم اس کے سامنے اپنے سر جھکائیں یا ان بے جان چیزوں کے آگے جنہیں نہ فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان؟ اللہ نے ہمیں عقل دی ہے تاکہ ہم اس کی نشانیوں پر غور کریں اور اس کی عبادت کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو روشنی کی مانند چمکائیں، اندھیروں سے بچیں، اور صرف اسی ایک اللہ کے آگے جھکیں جو واحد ہے، قہار ہے، اور ہر چیز کا خالق ہے۔ کیا ہی خوش قسمت ہیں وہ لوگ جو اس رب کو پہچان کر اس کی عبادت کرتے ہیں، ان کی زندگیاں نور سے بھر جاتی ہیں اور ان کے دلوں کو سکون ملتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 14-18 — رعد

14لَهُ دَعْوَةُ الْحَقِّ ۖ وَالَّذِينَ يَدْعُونَ مِن دُونِهِ لَا يَسْتَجِيبُونَ لَهُم بِشَيْءٍ إِلَّا كَبَاسِطِ كَفَّيْهِ إِلَى الْمَاءِ لِيَبْلُغَ فَاهُ وَمَا هُوَ بِبَالِغِهِ ۚ وَمَا دُعَاءُ الْكَافِرِينَ إِلَّا فِي ضَلَالٍ
سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے
15وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۩
اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)
16قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ ۚ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے
17أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ
اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)
18لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَالَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ سُوءُ الْحِسَابِ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے
رعدقرآن فہرست
43آیت
مدنیRevelation
16آیت

ترجمہ — رعد 16

سورہ رعد آیت 16 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون…

سورہ آیت 16/43 — رعد الرعد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رعد سنیں, رعد ترجمہ, رعد mp3, رعد pdf. آیت 14–18. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں