اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
طَوْعًا: خوشی اور رضامندی سے۔
کَرْهًا: ناچاری اور مجبوری سے۔
ظِلَالُهُم: ان کے سائے۔
بِالْغُدُوِّ: صبح کے وقت۔
وَالْآصَالِ: شام کے اوقات (عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک)۔
تفسیر آیت:
اللہ تعالیٰ اپنی عظمت اور کبریائی کا اعلان فرما رہے ہیں کہ آسمانوں اور زمین میں جو بھی مخلوق ہے، سب اسی کے حضور سجدہ کرتی ہے اور اس کی عبادت کے سامنے سر جھکاتی ہے۔ یہ سجدہ دو طرح کا ہے: ایک طوعاً، یعنی خوشی اور اپنی مرضی سے، جو مومنین کا حال ہے۔ وہ اللہ کی عبادت کو اپنی سعادت سمجھتے ہیں اور محبت سے اس کے حضور جھکتے ہیں۔ دوسرا کَرْہاً، یعنی مجبوری اور ناچاری سے، جو کافروں اور منافقوں کا حال ہے۔ وہ اگرچہ اللہ کی عبادت سے منہ موڑتے ہیں اور اس کے حضور سجدہ کرنے میں تکبر کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں وہ اللہ کے حکم کے سامنے مجبور ہیں۔ ان کی فطرت، ان کے وجود کی ساخت، اور ان کے گرد و پیش کا نظام سب اللہ کی عظمت کا اقرار کرتا ہے، چاہے وہ خود زبانی طور پر انکار کریں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ان کی ظلیں (سائے) بھی اللہ کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ صبح کے وقت اور شام کے اوقات میں جب سائے لمبے ہوتے ہیں اور زمین پر پھیلتے ہیں، تو وہ بھی اللہ کے حکم سے حرکت کرتے ہیں اور اس کی عظمت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ ایک حیرت انگیز حقیقت ہے کہ سائے بھی اپنے وجود اور حرکت کے ذریعے اللہ کی اطاعت کرتے ہیں، اور یہ سجدہ ان کی زبانِ حال سے ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی عظمت کے سامنے ہر چیز سر تسلیم خم کرتی ہے۔ مومن کو چاہیے کہ وہ اپنے رب کے حضور اس طرح سجدہ کرے جیسے سائے بے اختیار ہو کر جھک جاتے ہیں — بغیر کسی تکبر کے، بغیر کسی ہچکچاہٹ کے۔ جب پوری کائنات اپنے خالق کے سامنے عاجز ہے، تو ہم کیوں نہ اپنے رب کے حضور جھکیں؟ سجدہ وہ مقام ہے جہاں بندہ اپنے رب کے سب سے قریب ہوتا ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب ہم اپنی تمام تر کمزوری اور عاجزی کا اعتراف کرتے ہیں، اور اللہ اپنے بندے کو عزت اور رحمت سے نوازتا ہے۔
آئیے ہم اپنے رب کے حضور سجدہ کریں، اس کی عبادت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اور اس کی اطاعت میں ایسے جھکیں جیسے سائے صبح و شام جھکتے ہیں۔ اللہ ہمیں اپنی عبادت کی توفیق دے اور ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے بھر دے۔ آمین۔
اور رعد اور فرشتے سب اس کے خوف سے اس کی تسبیح و تحمید کرتے رہتے ہیں اور وہی بجلیاں بھیجتا ہے پھر جس پر چاہتا ہے گرا بھی دیتا ہے اور وہ خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں۔ اور وہ بڑی قوت والا ہے
سودمند پکارنا تو اسی کا ہے اور جن کو یہ لوگ اس کے سوا پکارتے ہیں وہ ان کی پکار کو کسی طرح قبول نہیں کرتے مگر اس شخص کی طرح جو اپنے دونوں ہاتھ پانی کی طرف پھیلا دے تاکہ (دور ہی سے) اس کے منہ تک آ پہنچے حالانکہ وہ (اس تک کبھی بھی) نہیں آسکتا اور (اسی طرح) کافروں کی پکار بیکار ہے
ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے
اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔