رعد · 17/43
ترجمہ تلفظ — رعد
أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ ۝١٧
Anzala minas samaaa`i maaa`an fasaalat awdiyatum biqadarihaa fahtamalas sailu zabadar raabiyaa; wa mimmmaa yooqidoona `alaihi fin naarib tighaaa`a bilyatin aw mataa`in zabadum misluh; kazaalika yadribul laahul haqqa wal baatil; fa ammaz zabadu fa yazhabu jufaaa`aa; wa ammaa maa yanfa`un naasa fa yamkusu fil ard; kazaalika yadribul laahul amsaal
📖 اردو ترجمہ
اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • اودية: وادیاں، نالے۔
  • بقدرها: اپنی گنجائش اور وسعت کے مطابق۔
  • زبدًا رابیًا: جھاگ جو پانی کی سطح پر اٹھ کر بلند ہو جاتا ہے۔
  • یوقدون: آگ پر پگھلاتے ہیں۔
  • ابتعاء حلیة: زیور بنانے کی غرض سے۔
  • متاع: برتن اور دوسری اشیاء جو استعمال میں آئیں۔
  • جفاء: پھینکا ہوا بیکار مادہ جو کناروں پر اٹھ کر رہ جاتا ہے۔
  • یمکث: ٹھہرتا ہے، باقی رہتا ہے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں حق اور باطل کی مثال بہت خوبصورت انداز میں بیان فرمائی ہے تاکہ لوگ سمجھ سکیں کہ حق کا انجام کیا ہے اور باطل کا انجام کیا ہے۔

پہلی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان سے بارش برساتا ہے، پھر وہ پانی زمین کے نالوں اور وادیوں میں اپنی اپنی گنجائش کے مطابق بہتا ہے۔ کوئی نالا چھوٹا ہے تو کم پانی لے جاتا ہے، کوئی بڑا ہے تو زیادہ پانی لے جاتا ہے۔ جب سیلاب آتا ہے تو پانی کی سطح پر جھاگ اور کچرا اٹھ کر تیرنے لگتا ہے، جو پانی کے اوپر بلند ہو جاتا ہے، لیکن یہ جھاگ بیکار ہوتا ہے اور جلد ہی غائب ہو جاتا ہے۔ اصل چیز پانی ہے جو زمین میں جذب ہو کر فصلوں کو اگاتا ہے اور لوگوں کے کام آتا ہے۔

دوسری مثال معدن کی ہے۔ لوگ سونے، چاندی، تانبے جیسی دھاتوں کو آگ پر پگھلاتے ہیں تاکہ زیور بنائیں یا برتن اور دوسری مفید چیزیں تیار کریں۔ جب دھات پگھلتی ہے تو اس پر بھی میل کچیل اور جھاگ آ جاتا ہے، لیکن وہ جھاگ بیکار ہوتا ہے اور پھینک دیا جاتا ہے۔ اصل چیز خالص دھات ہے جو باقی رہتی ہے اور لوگوں کے کام آتی ہے۔

ان دو مثالوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ حق اور باطل کی حقیقت واضح فرما دیتے ہیں۔ حق اس پانی اور خالص دھات کی مانند ہے جو زمین میں ٹھہرتا ہے اور لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ باطل اس جھاگ اور میل کچیل کی مانند ہے جو اوپر اٹھتا ہے، کچھ دیر نظر آتا ہے، لیکن پھر غائب ہو جاتا ہے اور کوئی فائدہ نہیں دیتا۔

یہی حال حق اور باطل کا ہے۔ باطل چاہے کتنا ہی بڑا اور طاقتور نظر آئے، آخرکار ختم ہو جاتا ہے، جیسے جھاگ پانی سے غائب ہو جاتا ہے۔ لیکن حق ہمیشہ باقی رہتا ہے، چاہے اسے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے، کیونکہ حق ہی لوگوں کے لیے نفع بخش ہے۔

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ ہمیں حق کو اپنانا چاہیے اور باطل سے بچنا چاہیے۔ باطل کی چمک دمک دیکھ کر دھوکہ نہیں کھانا چاہیے، کیونکہ وہ عارضی ہے۔ حق کی راہ چاہے مشکل ہو، لیکن اس کا انجام کامیابی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مثالیں اس لیے بیان فرمائیں تاکہ لوگ غور کریں اور سمجھیں کہ کون سی چیز حقیقت میں قیمتی ہے اور کون سی بیکار۔ جس طرح پانی اور خالص دھات لوگوں کے کام آتی ہے، اسی طرح حق اور ایمان دل کو سکون دیتا ہے اور آخرت میں کامیابی عطا کرتا ہے۔ اللہ ہمیں حق کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 15-19 — رعد

15وَلِلَّهِ يَسْجُدُ مَن فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ طَوْعًا وَكَرْهًا وَظِلَالُهُم بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ ۩
اور جتنی مخلوقات آسمانوں اور زمین میں ہے خوشی سے یا زبردستی سے خدا کے آگے سجدہ کرتی ہے اور ان کے سائے بھی صبح وشام (سجدے کرتے ہیں)
16قُلْ مَن رَّبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ قُلِ اللَّهُ ۚ قُلْ أَفَاتَّخَذْتُم مِّن دُونِهِ أَوْلِيَاءَ لَا يَمْلِكُونَ لِأَنفُسِهِمْ نَفْعًا وَلَا ضَرًّا ۚ قُلْ هَلْ يَسْتَوِي الْأَعْمَىٰ وَالْبَصِيرُ أَمْ هَلْ تَسْتَوِي الظُّلُمَاتُ وَالنُّورُ ۗ أَمْ جَعَلُوا لِلَّهِ شُرَكَاءَ خَلَقُوا كَخَلْقِهِ فَتَشَابَهَ الْخَلْقُ عَلَيْهِمْ ۚ قُلِ اللَّهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ
ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے
17أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا فَاحْتَمَلَ السَّيْلُ زَبَدًا رَّابِيًا ۚ وَمِمَّا يُوقِدُونَ عَلَيْهِ فِي النَّارِ ابْتِغَاءَ حِلْيَةٍ أَوْ مَتَاعٍ زَبَدٌ مِّثْلُهُ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْحَقَّ وَالْبَاطِلَ ۚ فَأَمَّا الزَّبَدُ فَيَذْهَبُ جُفَاءً ۖ وَأَمَّا مَا يَنفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ ۚ كَذَٰلِكَ يَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ
اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)
18لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنَىٰ ۚ وَالَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ ۚ أُولَٰئِكَ لَهُمْ سُوءُ الْحِسَابِ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے
19۞ أَفَمَن يَعْلَمُ أَنَّمَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ الْحَقُّ كَمَنْ هُوَ أَعْمَىٰ ۚ إِنَّمَا يَتَذَكَّرُ أُولُو الْأَلْبَابِ
بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں
رعدقرآن فہرست
43آیت
مدنیRevelation
17آیت

ترجمہ — رعد 17

سورہ رعد آیت 17 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے…

سورہ آیت 17/43 — رعد الرعد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رعد سنیں, رعد ترجمہ, رعد mp3, رعد pdf. آیت 15–19. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں