ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- قَائِمٌ عَلَىٰ کُلِّ نَفْسٍ: ہر نفس پر نگہبان و نگران، جو ہر شخص کے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے۔
- بِمَا کَسَبَتْ: اس کے کیے ہوئے اعمال کے ساتھ، نیک یا بد۔
- شُرَکَاءَ: شریک ٹھہرانے والے، معبودوں کو اللہ کا شریک بنانا۔
- سَمُّوهُمْ: ان کے نام اور صفات بتاؤ۔
- تُنَبِّئُونَهُ: تم اللہ کو خبر دیتے ہو۔
- بِظَاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ: صرف ظاہری الفاظ سے، بغیر کسی حقیقت کے۔
- زُیِّنَ: خوشنما بنا دیا گیا۔
- مَکْرُهُمْ: ان کا فریب اور چال۔
- صُدُّوا: روک دیے گئے۔
- السَّبِیلِ: راہِ ہدایت۔
- یُضْلِلِ اللَّهُ: جسے اللہ گمراہی میں چھوڑ دے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرکین کو مخاطب کر کے ان کے باطل عقیدے کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ذات جو ہر نفس پر قائم ہے، ہر شخص کے اعمال کا مکمل ریکارڈ رکھتی ہے، نیکی اور بدی کو جانتی ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دینے والی ہے، کیا وہ عبادت کے لائق نہیں؟ یقیناً وہی عبادت کا مستحق ہے، نہ کہ وہ بت اور مجسمے جو نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔
پھر اللہ تعالیٰ ان مشرکین کے اس فعل پر تعجب کا اظہار فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے لیے شریک مقرر کر دیے، حالانکہ اللہ تو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنے ان شریکوں کے نام اور صفات بتاؤ، کیا ان میں کوئی ایسی صفت ہے جو انہیں عبادت کے لائق بنائے؟ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دے رہے ہو جو وہ خود نہیں جانتا؟ اللہ تو اپنے علم میں محیط ہے، اسے کسی شریک کا علم نہیں، کیونکہ اس کا کوئی شریک ہے ہی نہیں۔ تمہارا یہ دعویٰ محض ظاہری الفاظ ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ اصل حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے کافروں کے مکروفریب کو ان کی نظر میں خوشنما بنا دیا ہے، ان کے شرک کو ان کے لیے خوبصورت دکھایا ہے، اور یوں وہ اللہ کی راہ سے روک دیے گئے ہیں۔ وہ اپنے اس فعل کو بہت اچھا سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی ہلاکت کا سبب ہے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ ایک اہم حقیقت بیان فرماتا ہے کہ جسے اللہ گمراہی میں چھوڑ دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ جو شخص حق کو دیکھ کر بھی اسے قبول نہ کرے، اللہ اسے اس کی ضد اور ہٹ دھرمی کی سزا دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ جس اللہ نے ہمیں پیدا کیا، ہمارا رزق دیتا ہے، ہمارے ہر عمل کا حساب رکھتا ہے، کیا وہ عبادت کا مستحق نہیں؟ ہمیں اپنی زندگیوں میں شرک کے تمام اقسام سے بچنا چاہیے، چاہے وہ ظاہری شرک ہو یا چھپا ہوا شرک جیسے ریاکاری اور دنیا کی محبت۔ اللہ کی راہ پر چلنا ہی کامیابی کا راستہ ہے، اور جو اس راہ سے بھٹک جائے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو شرک کی تمام اقسام سے پاک کریں اور خالص اللہ کی عبادت کریں، کیونکہ وہی ہمارا حقیقی معبود اور مددگار ہے۔
📜 آیت 31-35 — رعد
ترجمہ — رعد 33
سورہ آیت 33/43 — رعد الرعد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رعد سنیں, رعد ترجمہ, رعد mp3, رعد pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








