رعد · 33/43
ترجمہ تلفظ — رعد
أَفَمَنۡ هُوَ قَآئِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡۗ وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلۡ سَمُّوهُمۡۚ أَمۡ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَم بِظَٰهِرٍ مِّنَ ٱلۡقَوۡلِۗ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ مَكۡرُهُمۡ وَصُدُّواْ عَنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٍ  ۝٣٣
Afaman Huwa qaaa`imun `alaa kulli nafsim bimaa kasabat; wa ja`aloo illlaahi shurakaaa`a qul samoohum; am tunabbi`oona hoo bimaa laa ya`lamu fil ardi; am bizaahirim minal qawl; bal zuyyina lillazeena kafaroo makruhum wa suddoo `anis sabeel; wa mai yudlilil laaahu famaa lahoo min haad
📖 اردو ترجمہ
تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ بتوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے) اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو) اصل یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) رستے سے روک لیے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • قَائِمٌ عَلَىٰ کُلِّ نَفْسٍ: ہر نفس پر نگہبان و نگران، جو ہر شخص کے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے۔
  • بِمَا کَسَبَتْ: اس کے کیے ہوئے اعمال کے ساتھ، نیک یا بد۔
  • شُرَکَاءَ: شریک ٹھہرانے والے، معبودوں کو اللہ کا شریک بنانا۔
  • سَمُّوهُمْ: ان کے نام اور صفات بتاؤ۔
  • تُنَبِّئُونَهُ: تم اللہ کو خبر دیتے ہو۔
  • بِظَاهِرٍ مِنَ الْقَوْلِ: صرف ظاہری الفاظ سے، بغیر کسی حقیقت کے۔
  • زُیِّنَ: خوشنما بنا دیا گیا۔
  • مَکْرُهُمْ: ان کا فریب اور چال۔
  • صُدُّوا: روک دیے گئے۔
  • السَّبِیلِ: راہِ ہدایت۔
  • یُضْلِلِ اللَّهُ: جسے اللہ گمراہی میں چھوڑ دے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں مشرکین کو مخاطب کر کے ان کے باطل عقیدے کا پردہ چاک کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا وہ ذات جو ہر نفس پر قائم ہے، ہر شخص کے اعمال کا مکمل ریکارڈ رکھتی ہے، نیکی اور بدی کو جانتی ہے اور ہر ایک کو اس کے عمل کا بدلہ دینے والی ہے، کیا وہ عبادت کے لائق نہیں؟ یقیناً وہی عبادت کا مستحق ہے، نہ کہ وہ بت اور مجسمے جو نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان۔

پھر اللہ تعالیٰ ان مشرکین کے اس فعل پر تعجب کا اظہار فرماتا ہے کہ انہوں نے اللہ کے لیے شریک مقرر کر دیے، حالانکہ اللہ تو ہر چیز کا خالق اور مالک ہے۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو اپنے ان شریکوں کے نام اور صفات بتاؤ، کیا ان میں کوئی ایسی صفت ہے جو انہیں عبادت کے لائق بنائے؟ کیا تم اللہ کو ایسی چیز کی خبر دے رہے ہو جو وہ خود نہیں جانتا؟ اللہ تو اپنے علم میں محیط ہے، اسے کسی شریک کا علم نہیں، کیونکہ اس کا کوئی شریک ہے ہی نہیں۔ تمہارا یہ دعویٰ محض ظاہری الفاظ ہے، جس کی کوئی حقیقت نہیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ اصل حقیقت سے پردہ اٹھاتا ہے کہ حقیقت یہ ہے کہ شیطان نے کافروں کے مکروفریب کو ان کی نظر میں خوشنما بنا دیا ہے، ان کے شرک کو ان کے لیے خوبصورت دکھایا ہے، اور یوں وہ اللہ کی راہ سے روک دیے گئے ہیں۔ وہ اپنے اس فعل کو بہت اچھا سمجھتے ہیں، حالانکہ یہ ان کی ہلاکت کا سبب ہے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ ایک اہم حقیقت بیان فرماتا ہے کہ جسے اللہ گمراہی میں چھوڑ دے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ یہ اللہ کی سنت ہے کہ جو شخص حق کو دیکھ کر بھی اسے قبول نہ کرے، اللہ اسے اس کی ضد اور ہٹ دھرمی کی سزا دیتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ جس اللہ نے ہمیں پیدا کیا، ہمارا رزق دیتا ہے، ہمارے ہر عمل کا حساب رکھتا ہے، کیا وہ عبادت کا مستحق نہیں؟ ہمیں اپنی زندگیوں میں شرک کے تمام اقسام سے بچنا چاہیے، چاہے وہ ظاہری شرک ہو یا چھپا ہوا شرک جیسے ریاکاری اور دنیا کی محبت۔ اللہ کی راہ پر چلنا ہی کامیابی کا راستہ ہے، اور جو اس راہ سے بھٹک جائے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو شرک کی تمام اقسام سے پاک کریں اور خالص اللہ کی عبادت کریں، کیونکہ وہی ہمارا حقیقی معبود اور مددگار ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 31-35 — رعد

31وَلَوۡ أَنَّ قُرۡءَانًا سُيِّرَتۡ بِهِ ٱلۡجِبَالُ أَوۡ قُطِّعَتۡ بِهِ ٱلۡأَرۡضُ أَوۡ كُلِّمَ بِهِ ٱلۡمَوۡتَىٰۗ بَل لِّلَّهِ ٱلۡأَمۡرُ جَمِيعًاۗ أَفَلَمۡ يَاْيۡـَٔسِ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَن لَّوۡ يَشَآءُ ٱللَّهُ لَهَدَى ٱلنَّاسَ جَمِيعًاۗ وَلَا يَزَالُ ٱلَّذِينَ كَفَرُواْ تُصِيبُهُم بِمَا صَنَعُواْ قَارِعَةٌ أَوۡ تَحُلُّ قَرِيبًا مِّن دَارِهِمۡ حَتَّىٰ يَأۡتِيَ وَعۡدُ ٱللَّهِۚ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يُخۡلِفُ ٱلۡمِيعَادَ 
اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا
32وَلَقَدِ ٱسۡتُهۡزِئَ بِرُسُلٍ مِّن قَبۡلِكَ فَأَمۡلَيۡتُ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ ثُمَّ أَخَذۡتُهُمۡۖ فَكَيۡفَ كَانَ عِقَابِ 
اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا
33أَفَمَنۡ هُوَ قَآئِمٌ عَلَىٰ كُلِّ نَفۡسِۭ بِمَا كَسَبَتۡۗ وَجَعَلُواْ لِلَّهِ شُرَكَآءَ قُلۡ سَمُّوهُمۡۚ أَمۡ تُنَبِّـُٔونَهُۥ بِمَا لَا يَعۡلَمُ فِي ٱلۡأَرۡضِ أَم بِظَٰهِرٍ مِّنَ ٱلۡقَوۡلِۗ بَلۡ زُيِّنَ لِلَّذِينَ كَفَرُواْ مَكۡرُهُمۡ وَصُدُّواْ عَنِ ٱلسَّبِيلِۗ وَمَن يُضۡلِلِ ٱللَّهُ فَمَا لَهُۥ مِنۡ هَادٍ 
تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ بتوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے) اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو) اصل یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) رستے سے روک لیے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں
34لَّهُمۡ عَذَابٌ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَاۖ وَلَعَذَابُ ٱلۡأٓخِرَةِ أَشَقُّۖ وَمَا لَهُم مِّنَ ٱللَّهِ مِن وَاقٍ 
ان کو دنیا کی زندگی میں بھی عذاب ہے اور آخرت کا عذاب تو بہت ہی سخت ہے۔ اور ان کو خدا (کے عذاب سے) کوئی بھی بچانے والا نہیں
35۞ مَّثَلُ ٱلۡجَنَّةِ ٱلَّتِي وُعِدَ ٱلۡمُتَّقُونَۖ تَجۡرِي مِن تَحۡتِهَا ٱلۡأَنۡهَٰرُۖ أُكُلُهَا دَآئِمٌ وَظِلُّهَاۚ تِلۡكَ عُقۡبَى ٱلَّذِينَ ٱتَّقَواْۚ وَّعُقۡبَى ٱلۡكَٰفِرِينَ ٱلنَّارُ 
جس باغ کا متقیوں سے وعدہ کیا گیا ہے اس کے اوصاف یہ ہیں کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں۔ اس کے پھل ہمیشہ (قائم رہنے والے) ہیں اور اس کے سائے بھی۔ یہ ان لوگوں کا انجام ہے جو متقی ہیں۔ اور کافروں کا انجام دوزخ ہے
رعدقرآن فہرست
43آیت
مدنیRevelation
33آیت

ترجمہ — رعد 33

سورہ آیت 33/43 — رعد الرعد (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: رعد سنیں, رعد ترجمہ, رعد mp3, رعد pdf. آیت 31–35. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں