اور تم سے پہلے بھی رسولوں کے ساتھ تمسخر ہوتے رہے ہیں تو ہم نے کافروں کو مہلت دی پھر پکڑ لیا۔ سو (دیکھ لو کہ) ہمارا عذاب کیسا تھا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اسْتُهْزِئَ: مذاق اڑایا گیا، تمسخر کیا گیا۔
فَأَمْلَيْتُ: میں نے ڈھیل دی، مہلت دی۔
أَخَذْتُهُمْ: میں نے انہیں پکڑ لیا (عذاب میں گرفتار کیا)۔
عِقَابِ: میرا عذاب، میری سزا۔
تفسیر:
اے محبوب نبی! جس طرح آپ کی دعوت کا مذاق اڑایا جا رہا ہے، یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ آپ سے پہلے بھی بہت سے انبیاء آئے، ان کی قوموں نے انہیں جھٹلایا اور ان کا تمسخر اڑایا۔ لیکن میں نے ان کافروں کو فوراً نہیں پکڑا، بلکہ انہیں ڈھیل دی، مہلت دی، تاکہ وہ اپنے حال پر غور کریں اور توبہ کریں۔ لیکن جب انہوں نے اپنی سرکشی اور استہزاء پر اصرار کیا، تو میں نے انہیں اپنے عذاب میں گرفتار کر لیا۔ پس دیکھو، میرا عذاب کیسا تھا! وہ انتہائی شدید، عبرتناک اور تباہ کن تھا۔
یہ آیت نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی اور صبر کا سبق ہے، اور ہر مسلمان کے لیے ایک عظیم نصیحت۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے، وہ جلدی عذاب نہیں بھیجتا، بلکہ توبہ اور رجوع کا موقع دیتا ہے۔ لیکن جب وہ پکڑتا ہے تو اس کی پکڑ بہت سخت ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کے احسانات اور مہلت کو غنیمت جانیں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور رسولوں کے راستے پر چلیں۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، لیکن اس کے عذاب سے بھی بے خوف نہ ہوں۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
(جس طرح ہم اور پیغمبر بھیجتے رہے ہیں) اسی طرح (اے محمدﷺ) ہم نے تم کو اس امت میں جس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں بھیجا ہے تاکہ تم ان کو وہ (کتاب) جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے پڑھ کر سنا دو اور یہ لوگ رحمٰن کو نہیں مانتے۔ کہہ دو وہی تو میرا پروردگار ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں
اور اگر کوئی قرآن ایسا ہوتا کہ اس (کی تاثیر) سے پہاڑ چل پڑتے یا زمین پھٹ جاتی یا مردوں سے کلام کرسکتے۔ (تو یہی قرآن ان اوصاف سے متصف ہوتا مگر) بات یہ ہے کہ سب باتیں خدا کے اختیار میں ہیں تو کیا مومنوں کو اس سے اطمینان نہیں ہوا کہ اگر خدا چاہتا تو سب لوگوں کو ہدایت کے رستے پر چلا دیتا۔ اور کافروں پر ہمیشہ ان کے اعمال کے بدلے بلا آتی رہے گی یا ان کے مکانات کے قریب نازل ہوتی رہے گی یہاں تک کہ خدا کا وعدہ آپہنچے۔ بےشک خدا وعدہ خلاف نہیں کرتا
تو کیا جو (خدا) ہر متنفس کے اعمال کا نگراں (ونگہباں) ہے (وہ بتوں کی طرح بےعلم وبےخبر ہوسکتا ہے) اور ان لوگوں نے خدا کے شریک مقرر کر رکھے ہیں۔ ان سے کہو کہ (ذرا) ان کے نام تو لو۔ کیا تم اسے ایسی چیزیں بتاتے ہو جس کو وہ زمین میں (کہیں بھی) معلوم نہیں کرتا یا (محض) ظاہری (باطل اور جھوٹی) بات کی (تقلید کرتے ہو) اصل یہ ہے کہ کافروں کو ان کے فریب خوبصورت معلوم ہوتے ہیں۔ اور وہ (ہدایت کے) رستے سے روک لیے گئے ہیں۔ اور جسے خدا گمراہ کرے اسے کوئی ہدایت کرنے والا نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔