اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و چون اطفال شما به حد بلوغ رسيدند، بايد همانند كسانى كه ذكرشان گذشت رخصت طلبند. خدا آيات را اينچنين براى شما بيان مىكند. و خدا دانا و حكيم است.
بَلَغَ الْحُلُمَ: احتلام کی عمر کو پہنچنا، یعنی بلوغت اور شرعی تکلیف کا زمانہ۔
فَلْيَسْتَأْذِنُوا: چاہیے کہ وہ اجازت طلب کریں۔
الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ: وہ بڑے افراد جو ان سے پہلے بالغ ہو چکے ہیں۔
عَلِيمٌ حَكِيمٌ: سب کچھ جاننے والا، اپنے فیصلوں میں کامل حکمت والا۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایک اور اہم ادب سکھا رہے ہیں۔ جب بچے بلوغت کی عمر کو پہنچ جائیں، یعنی ان پر شرعی احکام لازم ہو جائیں، تو اب وہ بچے نہیں رہے بلکہ بالغ ہو گئے ہیں۔ اس لیے انہیں چاہیے کہ جب بھی گھر کے کسی کمرے میں داخل ہوں، خاص طور پر والدین کے کمرے میں، تو پہلے اجازت لیں، بالکل اسی طرح جیسے بڑے بالغ افراد اجازت لیتے ہیں۔ یہ حکم صرف تین اوقات (فجر، ظہر اور عشاء) تک محدود نہیں، بلکہ ہر وقت کے لیے ہے، کیونکہ اب وہ بالغ ہو چکے ہیں اور ان کے لیے وہی حکم ہے جو دوسرے بالغوں کے لیے ہے۔
اللہ تعالیٰ نے پہلے چھوٹے بچوں کے لیے تین اوقات میں اجازت کا حکم دیا تھا، اب بڑے ہونے پر انہیں ہر وقت اجازت لازمی ہے۔ یہ اسلام کا حسن ہے کہ وہ گھر کے اندرونی معاملات میں بھی ادب اور پردے کی تعلیم دیتا ہے، تاکہ معاشرہ پاکیزہ رہے اور لوگوں کے درمیان عزت اور احترام کا ماحول قائم ہو۔
اللہ تعالیٰ اپنی آیات کو واضح طور پر بیان فرماتا ہے تاکہ لوگ سمجھیں اور اپنی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالیں۔ وہ اپنے بندوں کی مصلحتوں کو خوب جانتا ہے، اور جو کچھ بھی حکم دیتا ہے، حکمت اور بھلائی پر مبنی ہوتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں، بلکہ یہ زندگی کے ہر گوشے میں ادب، اخلاق اور پاکیزگی سکھاتا ہے۔ گھر کے اندر بھی اجازت کا اہتمام کرنا، والدین اور بڑوں کا احترام کرنا، اور اپنے گھر والوں کی عزت اور پردے کا خیال رکھنا — یہ سب اسلام کی خوبصورت تعلیمات ہیں۔ آئیے ہم اپنے بچوں کو یہ ادب سکھائیں اور اپنے گھروں کو اللہ کے احکام کے مطابق ڈھالیں، تاکہ ہمارے گھر سکون اور برکت سے بھر جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
مومنو! تمہارے غلام لونڈیاں اور جو بچّے تم میں سے بلوغ کو نہیں پہنچے تین دفعہ یعنی (تین اوقات میں) تم سے اجازت لیا کریں۔ (ایک تو) نماز صبح سے پہلے اور (دوسرے گرمی کی دوپہر کو) جب تم کپڑے اتار دیتے ہو۔ اور تیسرے عشاء کی نماز کے بعد۔ (یہ) تین (وقت) تمہارے پردے (کے) ہیں ان کے (آگے) پیچھے (یعنی دوسرے وقتوں میں) نہ تم پر کچھ گناہ ہے اور نہ ان پر۔ کہ کام کاج کے لئے ایک دوسرے کے پاس آتے رہتے ہو۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں تم سے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے اور خدا بڑا علم والا اور بڑا حکمت والا ہے
اور جب تمہارے لڑکے بالغ ہوجائیں تو ان کو بھی اسی طرح اجازت لینی چاہیئے جس طرح ان سے اگلے (یعنی بڑے آدمی) اجازت حاصل کرتے رہے ہیں۔ اس طرح خدا تم سے اپنی آیتیں کھول کھول کر سناتا ہے۔ اور خدا جاننے والا اور حکمت والا ہے
اور بڑی عمر کی عورتیں جن کو نکاح کی توقع نہیں رہی، اور وہ کپڑے اتار کر سر ننگا کرلیا کریں تو ان پر کچھ گناہ نہیں بشرطیکہ اپنی زینت کی چیزیں نہ ظاہر کریں۔ اور اس سے بھی بچیں تو یہ ان کے حق میں بہتر ہے۔ اور خدا سنتا اور جانتا ہے
نہ تو اندھے پر کچھ گناہ ہے اور نہ لنگڑے پر اور نہ بیمار پر اور نہ خود تم پر کہ اپنے گھروں سے کھانا کھاؤ یا اپنے باپوں کے گھروں سے یا اپنی ماؤں کے گھروں سے یا بھائیوں کے گھروں سے یا اپنی بہنوں کے گھروں سے یا اپنے چچاؤں کے گھروں سے یا اپنی پھوپھیوں کے گھروں سے یا اپنے ماموؤں کے گھروں سے یا اپنی خالاؤں کے گھروں سے یا اس گھر سے جس کی کنجیاں تمہارے ہاتھ میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے (اور اس کا بھی) تم پر کچھ گناہ نہیں کہ سب مل کر کھانا کھاؤ یا جدا جدا۔ اور جب گھروں میں جایا کرو تو اپنے (گھر والوں کو) سلام کیا کرو۔ (یہ) خدا کی طرف سے مبارک اور پاکیزہ تحفہ ہے۔ اس طرح خدا اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سمجھو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔