Yaaa ayyuhan nabiyyu izaa tallaqtummun nisaaa`a fatalliqoohunna li`iddatihinna wa ahsul`iddata; wattaqul laaha rabbakum laa tukhri joohunna mim bu-yootihinna wa laa yakhrujna illaaa any yaateema bifaahishatim mubaiyinah; wa tilka hudoodul laah; wa many yata`adda hudoodal laahi faqad zalama nafsha; laa tadree la`allal laaha yuhdisu ba`dazaalika amraa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اى پيامبر، اگر زنان را طلاق مىدهيد به وقت عده طلاقشان دهيد. و شمار عده را نگه داريد. و از خداى يكتا پروردگارتان بترسيد. و آنان را از خانههايشان بيرون مكنيد. و از خانه بيرون نروند مگر آنكه به آشكارا مرتكب كارى زشت شوند. اينها احكام خداوند است، و هر كه از آن تجاوز كند به خود ستم كرده است. تو چه دانى، شايد خدا از اين پس امرى تازه پديد آورد.
اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے
📜
ترجمہ — Tafsir
اہم الفاظ کے معانی:
لِعِدَّتِهِنَّ: عدت کی طرف متوجہ کرتے ہوئے، یعنی اس وقت طلاق دو جب عدت کا آغاز ہو رہا ہو۔
وَأَحْصُوا الْعِدَّةَ: عدت کو شمار کرو اور اسے یاد رکھو۔
فَاحِشَةٍ مُبَيِّنَةٍ: کھلا ہوا ناپسندیدہ کام، جیسے زنا۔
حُدُودُ اللَّهِ: اللہ کی مقرر کردہ حدود اور احکام۔
تفسیر:
اے نبی! جب تم (اور تمہاری امت) عورتوں کو طلاق دینے کا ارادہ کرو تو انہیں ان کی عدت کے آغاز پر طلاق دو، یعنی ایسے طہر (پاکی) میں جس میں جماع نہ ہوا ہو، یا حمل کی حالت میں۔ اور عدت کو پوری طرح شمار کرو تاکہ تمہیں معلوم رہے کہ رجعت (واپسی) کا وقت کب ہے، اگر تم دوبارہ انہیں اپنے پاس رکھنا چاہو۔ اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے، اور اس کے احکام کی خلاف ورزی سے بچو۔
مطلقہ عورتوں کو ان کے گھروں سے باہر نہ نکالو جب تک ان کی عدت پوری نہ ہو جائے، اور نہ وہ خود باہر نکلیں، سوائے اس صورت کے کہ وہ کوئی کھلا ہوا ناپسندیدہ کام کریں (جیسے زنا)۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں جو اس نے اپنے بندوں کے لیے بیان کی ہیں۔ جو شخص اللہ کی حدود سے تجاوز کرے گا، اس نے اپنی جان پر ظلم کیا اور خود کو ہلاکت میں ڈالا۔ اے طلاق دینے والے! تم نہیں جانتے کہ شاید اللہ اس طلاق کے بعد کوئی نیا معاملہ پیدا کر دے، جیسے رجعت کی رغبت، جس سے تمہیں فائدہ ہو۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ہر معاملے میں رحمت اور حکمت پر مبنی ہے۔ طلاق جیسے نازک معاملے میں بھی اللہ نے ایسے اصول مقرر کیے ہیں جو عورت کے حقوق کا تحفظ کرتے ہیں اور خاندان کے ٹوٹنے کے بعد بھی عزت و احترام کا ماحول برقرار رکھتے ہیں۔ اللہ نے عدت کا حکم دیا تاکہ غصے اور جذبات میں فیصلہ نہ ہو، بلکہ انسان کو موقع ملے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کر سکے۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ وہ ہمیں جلدی فیصلوں سے بچاتا ہے اور صلح و رجعت کے دروازے کھلے رکھتا ہے۔ آئیے ہم اللہ کے احکام پر عمل کریں اور اس کی حدود سے تجاوز نہ کریں، کیونکہ انہیں میں ہماری دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے۔
اے پیغمبر (مسلمانوں سے کہہ دو کہ) جب تم عورتوں کو طلاق دینے لگو تو عدت کے شروع میں طلاق دو اور عدت کا شمار رکھو۔ اور خدا سے جو تمہارا پروردگار ہے ڈرو۔ (نہ تو تم ہی) ان کو (ایام عدت میں) ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ (خود ہی) نکلیں۔ ہاں اگر وہ صریح بےحیائی کریں (تو نکال دینا چاہیئے) اور یہ خدا کی حدیں ہیں۔ جو خدا کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے آپ پر ظلم کرے گا۔ (اے طلاق دینے والے) تجھے کیا معلوم شاید خدا اس کے بعد کوئی (رجعت کی) سبیل پیدا کردے
پھر جب وہ اپنی میعاد (یعنی انقضائے عدت) کے قریب پہنچ جائیں تو یا تو ان کو اچھی طرح (زوجیت میں) رہنے دو یا اچھی طرح سے علیحدہ کردو اور اپنے میں سے دو منصف مردوں کو گواہ کرلو اور (گواہ ہو!) خدا کے لئے درست گواہی دینا۔ ان باتوں سے اس شخص کو نصیحت کی جاتی ہے جو خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتا ہے۔ اور جو کوئی خدا سے ڈرے گا وہ اس کے لئے (رنج ومحن سے) مخلصی (کی صورت) پیدا کرے گا
اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں سے (وہم و) گمان بھی نہ ہو۔ اور جو خدا پر بھروسہ رکھے گا تو وہ اس کو کفایت کرے گا۔ خدا اپنے کام کو (جو وہ کرنا چاہتا ہے) پورا کردیتا ہے۔ خدا نے ہر چیز کا اندازہ مقرر کر رکھا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔