ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ: عورتوں کی عدت کی مدت قریب ہو جائے۔
- فَأَمْسِکُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ: انہیں اچھے طریقے سے رجوع کر کے اپنے نکاح میں رکھو۔
- فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ: انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو، یعنی عدت مکمل ہونے دو تاکہ وہ تم سے جدا ہو جائیں۔
- ذَوَیْ عَدْلٍ: دو عادل گواہ۔
- أَقِیمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ: گواہی کو خالص اللہ کے لیے قائم کرو۔
- مَخْرَجًا: تنگی اور مشکل سے نکلنے کا راستہ۔
تفسیر:
جب مطلقہ عورت کی عدت کی مدت قریب آ جائے، یعنی عدت کے ایام ختم ہونے کو ہوں، تو اس وقت دو ہی صورتیں ہیں: یا تو تم انہیں اچھے طریقے سے رجوع کر لو، یعنی اپنے نکاح میں واپس لے آؤ اور ان کے ساتھ حسن سلوک کرو، ان کے حقوق ادا کرو اور اچھی معاشرت کرو۔ یا پھر انہیں اچھے طریقے سے چھوڑ دو، یعنی انہیں عدت مکمل کرنے دو تاکہ وہ تم سے علیحدہ ہو جائیں، اور ان کے حقوق (مہر، نفقہ وغیرہ) ادا کرو، انہیں نقصان نہ پہنچاؤ۔
اور جب رجوع کرنا ہو یا علیحدگی کا فیصلہ ہو تو دو عادل مردوں کو گواہ بناؤ، تاکہ بعد میں کوئی جھگڑا اور نزاع نہ ہو۔ اور اے گواہو! تم گواہی کو خالص اللہ کے لیے قائم کرو، نہ کسی رشتہ داری کی وجہ سے، نہ کسی دنیاوی مفاد کی خاطر، بلکہ صرف اللہ کی رضا کے لیے۔
یہ احکام جن کی نصیحت کی جا رہی ہے، ان سے وہی لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، کیونکہ ایمان ہی انسان کو اللہ کے احکام پر عمل کرنے کی توفیق دیتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک بہت بڑی بشارت دیتے ہیں: جو شخص اللہ سے ڈرے، اس کے احکام پر عمل کرے اور اس کی منع کردہ چیزوں سے بچے، اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دے گا۔ یعنی جس طرح طلاق کے معاملے میں شریعت کی پابندی کرنے والے کے لیے اللہ رجوع کا راستہ کھولتا ہے، اسی طرح ہر مشکل اور پریشانی میں اللہ اس کے لیے حل نکال دے گا۔
یہ اللہ کا وعدہ ہے جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں۔ جو شخص تقویٰ اختیار کرے گا، اللہ اسے ایسے رزق دے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہوگا۔ اور جو اللہ پر بھروسہ کرے گا، اللہ اس کے لیے کافی ہو جائے گا۔ اللہ اپنے کام کو پورا کر کے رہتا ہے، اس نے ہر چیز کے لیے ایک وقت اور اندازہ مقرر کر رکھا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام ہر معاملے میں عدل، احسان اور تقویٰ کی تعلیم دیتا ہے۔ طلاق جیسے نازک معاملے میں بھی اللہ نے ہمیں راہ دکھائی ہے کہ یا تو اچھے طریقے سے رجوع کرو یا اچھے طریقے سے علیحدگی اختیار کرو۔ اور گواہی کو ہمیشہ اللہ کے لیے قائم کرو، کیونکہ گواہی میں کوتاہی یا غلط بیانی معاشرے میں ظلم پھیلاتی ہے۔
سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ اللہ نے تقویٰ کو ہر مشکل کا حل قرار دیا ہے۔ آج ہم جب بھی کسی پریشانی میں ہوتے ہیں تو اللہ کی طرف رجوع کرنے کے بجائے دنیاوی تدبیروں میں الجھ جاتے ہیں، لیکن اللہ کا وعدہ ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے والے کے لیے وہ خود راستہ نکالے گا۔ تو آئیے ہم اپنے معاملات میں اللہ سے ڈریں، اس کے احکام پر عمل کریں، اور اس پر بھروسہ کریں، کیونکہ جو اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ یہی کامیابی کا راستہ ہے، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔
📜 آیت 1-4 — طلاق
ترجمہ — طلاق 2
سورہ طلاق آیت 2 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پھر جب وہ اپنی میعاد (یعنی انقضائے عدت) کے قریب…سورہ آیت 2/12 — طلاق الطلاق (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طلاق سنیں, طلاق ترجمہ, طلاق mp3, طلاق pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








