یونس · 22/109
ترجمہ تلفظ — یونس
هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ ۝٢٢
Huwal lazee yusaiyirukum fil barri walbahri hattaaa izaa kuntum fil fulki wa jaraina bihim bireeh in taiyibatinw wa farihoo bihaa jaaa`at haa reehun `aasifunw wa jaaa`ahumul mawju min kulli makaaninw wa zannooo annahum uheeta bihim da`awul laaha mukhliseena lahud deena la`in anjaitanaa min haazihee lanakoonannna minash shaakireen
📖 اردو ترجمہ
وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یُسَیِّرُکُمْ: تمہیں چلاتا ہے، لے جاتا ہے۔
  • الْفُلْکِ: کشتی یا جہاز۔
  • رِیحٍ طَیِّبَةٍ: نرم و ملائم ہوا۔
  • عَاصِفٌ: شدید تیز ہوا، طوفانی آندھی۔
  • الْمَوْجُ: پانی کی بلند لہریں۔
  • أُحِیطَ بِهِمْ: انہیں گھیر لیا گیا، ہلاکت نے انہیں چاروں طرف سے گھیر لیا۔
  • مُخْلِصِینَ لَهُ الدِّینَ: خالص اپنے دین کو صرف اللہ کے لیے کرتے ہوئے۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر اپنے فضل و کرم کا ذکر فرما رہے ہیں کہ وہی ذات ہے جو تمہیں خشکی اور تری دونوں میں سفر کی سہولت فراہم کرتی ہے۔ خشکی پر تمہیں اپنی سواریوں پر چلاتی ہے اور سمندر میں کشتیوں اور جہازوں کے ذریعے تمہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچاتی ہے۔ یہ سب کچھ اس کی قدرت اور رحمت کا نتیجہ ہے، ورنہ انسان اپنی طاقت سے نہ خشکی کا سفر کر سکتا ہے نہ سمندر کا۔

پھر اللہ تعالیٰ ایک ایسا منظر پیش فرماتے ہیں جو ہر مسافر کے دل کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ جب تم کشتیوں میں سوار ہوتے ہو اور ایک نرم و ملائم ہوا چلتی ہے جو تمہیں منزل کی طرف لے جاتی ہے، تو تم خوش ہوتے ہو اور اپنے سفر کو آسان سمجھتے ہو۔ لیکن اچانک وہی نرم ہوا طوفانی آندھی میں بدل جاتی ہے، اور چاروں طرف سے بلند و بالا لہریں اٹھ کر کشتی کو گھیر لیتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اب ہلاکت یقینی ہے، موت نے ہر طرف سے گھیر لیا ہے۔

اس وقت انسان کی فطرت بیدار ہو جاتی ہے۔ وہ اپنے تمام جھوٹے معبودوں، بتوں اور دنیاوی وسائل کو بھول جاتا ہے اور اپنے دل کی گہرائی سے صرف ایک اللہ کو پکارتا ہے۔ اس وقت وہ خالص نیت سے، بغیر کسی شرک کے، اللہ سے التجا کرتا ہے کہ اے اللہ! اگر تو نے ہمیں اس مصیبت سے نجات دی تو ہم تیرے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے۔

یہ آیت ہمیں ایک بہت بڑا سبق سکھاتی ہے کہ انسان جب تک آسائشوں میں ہوتا ہے تو اللہ کو بھول جاتا ہے، لیکن جب مصیبت آتی ہے تو اس کی فطرت اسے اللہ کی طرف راغب کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم خوشحالی میں بھی اسی طرح اسے یاد کریں جس طرح مصیبت میں کرتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے، وہی ہوا کو نرم بھی کر سکتا ہے اور طوفان بھی بنا سکتا ہے، وہی سمندر کو رحمت بھی بنا سکتا ہے اور عذاب بھی۔

پیارے بھائیو اور بہنو! ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ اللہ کو یاد رکھیں، چاہے ہم خشکی پر ہوں یا سمندر پر، خوشحالی میں ہوں یا مصیبت میں۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں ہر حال میں اپنا شکر گزار بندہ بنائے اور ہماری فطرت کو ہمیشہ اپنی طرف راغب رکھے۔ یاد رکھیں، جب انسان سچے دل سے اللہ کو پکارتا ہے تو اللہ اس کی پکار سنتا ہے اور اسے مصیبت سے نجات دیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 20-24 — یونس

20وَيَقُولُونَ لَوْلَا أُنزِلَ عَلَيْهِ آيَةٌ مِّن رَّبِّهِ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا الْغَيْبُ لِلَّهِ فَانتَظِرُوا إِنِّي مَعَكُم مِّنَ الْمُنتَظِرِينَ
اور کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نازل نہیں ہوئی۔ کہہ دو کہ غیب (کا علم) تو خدا کو ہے سو تم انتظار کرو۔ میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں
21وَإِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِّن بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌ فِي آيَاتِنَا ۚ قُلِ اللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ
اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں
22هُوَ الَّذِي يُسَيِّرُكُمْ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰ إِذَا كُنتُمْ فِي الْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا بِهَا جَاءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَاءَهُمُ الْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوا أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِ لَنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ
وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں
23فَلَمَّا أَنجَاهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ ۗ يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَاعَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
24إِنَّمَا مَثَلُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا كَمَاءٍ أَنزَلْنَاهُ مِنَ السَّمَاءِ فَاخْتَلَطَ بِهِ نَبَاتُ الْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ النَّاسُ وَالْأَنْعَامُ حَتَّىٰ إِذَا أَخَذَتِ الْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَازَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَا أَنَّهُمْ قَادِرُونَ عَلَيْهَا أَتَاهَا أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَاهَا حَصِيدًا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِالْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ
دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
یونسقرآن فہرست
109آیت
مکیRevelation
22آیت

ترجمہ — یونس 22

سورہ یونس آیت 22 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں…

سورہ آیت 22/109 — یونس يونس (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یونس سنیں, یونس ترجمہ, یونس mp3, یونس pdf. آیت 20–24. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں