لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون خدا آنها را برهاند، بينى كه در زمين به ناحق سركشى كنند. اى مردم، اين سركشى به زيان خودتان است. تمتعى است در اين زندگى دنيوى. آنگاه همه به نزد ما بازمىگرديد تا از كارهايى كه مىكردهايد آگاهتان سازيم.
لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَنجَاهُمْ: انہیں نجات دی (مصیبت اور تکلیف سے)
يَبْغُونَ: ظلم و سرکشی کرتے ہیں، فساد پھیلاتے ہیں
بِغَيْرِ الْحَقِّ: ناحق، بلا کسی وجہ کے
بَغْيُكُمْ: تمہاری سرکشی اور ظلم
مَتَاعُ: عارضی فائدہ، وقتی لطف
مَرْجِعُكُمْ: تمہاری بازگشت، تمہارا لوٹنا
تفسیر:
جب انسان مصیبتوں اور مشکلات میں گھِر جاتا ہے، سمندر کی موجوں کی مانند خطرات اسے گھیر لیتے ہیں، تو وہ اپنے رب کی طرف رجوع کرتا ہے، اپنی پوری مخلوق کو بھول کر صرف اسی کو پکارتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اللہ تعالیٰ اس کی دعا سن کر اسے نجات عطا فرماتا ہے اور وہ خشکی پر قدم رکھتا ہے، وہ پھر سے اپنی سرکشی اور ظلم کا راستہ اختیار کر لیتا ہے۔ زمین پر فساد پھیلانے لگتا ہے، ناحق ظلم کرتا ہے، اللہ کی نافرمانیوں میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ یہ انسان کی کمزوری اور ناشکری ہے کہ وہ مصیبت میں تو رحمتِ الٰہی کا محتاج بن جاتا ہے، لیکن راحت ملتے ہی اپنے رب کو بھول جاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس پر فرماتا ہے: اے لوگو! تمہاری یہ سرکشی اور ظلم دراصل تمہارے اپنے ہی خلاف ہے۔ تمہارے اعمال کا وبال تمہیں ہی بھگتنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ کو تمہارے ظلم سے کوئی نقصان نہیں پہنچتا، نہ تمہاری نیکی سے اسے کوئی فائدہ ہوتا ہے۔ یہ تمہارے اپنے نفس کا معاملہ ہے۔ تمہیں اس دنیا کی زندگی میں چند روزہ عیش و آرام ملتا ہے، یہ متاعِ دنیا عارضی ہے، فانی ہے، جلد ختم ہونے والی ہے۔ اس کے بعد تمہیں اپنے رب کے پاس لوٹ کر جانا ہے، اور وہاں تمہیں تمہارے تمام اعمال بتائے جائیں گے، چھوٹے اور بڑے، ظاہری اور پوشیدہ، سب کچھ۔ پھر تمہیں تمہارے اعمال کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ ہماری زندگی کا اصل مقصد صرف اللہ کی عبادت اور اطاعت ہے۔ جب ہم مصیبت میں ہوتے ہیں تو اللہ کو یاد کرتے ہیں، لیکن جب خوشحالی آتی ہے تو ہم غفلت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ یہ ہمارے ایمان کی کمزوری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کریں، خوشحالی میں بھی اور مصیبت میں بھی۔ یاد رکھیں، یہ دنیا کا سامان عارضی ہے، اصل زندگی آخرت کی ہے۔ ہر عمل کا حساب ہوگا، ہر نیکی اور بدی کا بدلہ ملے گا۔ آئیے ہم اپنی زندگیوں کو سنواریں، ظلم اور سرکشی سے بچیں، اور اللہ کی رحمت کے طلبگار بنیں۔ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے، وہ اپنے بندوں کی دعائیں سنتا ہے اور انہیں نجات عطا فرماتا ہے۔ آئیے ہم اس کی رحمت سے مایوس نہ ہوں اور اپنے رب کی طرف رجوع کریں۔
اور جب ہم لوگوں کو تکلیف پہنچنے کے بعد (اپنی) رحمت (سے آسائش) کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ ہماری آیتوں میں حیلے کرنے لگتے ہیں۔ کہہ دو کہ خدا بہت جلد حیلہ کرنے والا ہے۔ اور جو حیلے تم کرتے ہو ہمارے فرشتے ان کو لکھتے جاتے ہیں
وہی تو ہے جو تم کو جنگل اور دریا میں چلنے پھرنے اور سیر کرنے کی توفیق دیتا ہے۔ یہاں تک کہ جب تم کشتیوں میں (سوار) ہوتے اور کشتیاں پاکیزہ ہوا (کے نرم نرم جھونکوں) سے سواروں کو لے کر چلنے لگتی ہیں اور وہ ان سے خوش ہوتے ہیں تو ناگہاں زناٹے کی ہوا چل پڑتی ہے اور لہریں ہر طرف سے ان پر (جوش مارتی ہوئی) آنے لگتی ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ (اب تو) لہروں میں گھر گئے تو اس وقت خالص خدا ہی کی عبادت کرکے اس سے دعا مانگنے لگتے ہیں کہ (اے خدا) اگر تو ہم کو اس سے نجات بخشے تو ہم (تیرے) بہت ہی شکر گزار ہوں
لیکن جب وہ ان کو نجات دے دیتا ہے تو ملک میں ناحق شرارت کرنے لگتے ہیں۔ لوگو! تمہاری شرارت کا وبال تمہاری ہی جانوں پر ہوگا تم دنیا کی زندگی کے فائدے اُٹھا لو۔ پھر تم کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے۔ اس وقت ہم تم کو بتائیں گے جو کچھ تم کیا کرتے تھے
دنیا کی زندگی کی مثال مینھہ کی سی ہے کہ ہم نے اس کو آسمان سے برسایا۔ پھر اس کے ساتھ سبزہ جسے آدمی اور جانور کھاتے ہیں مل کر نکلا یہاں تک کہ زمین سبزے سے خوشنما اور آراستہ ہوگئی اور زمین والوں نے خیال کیا کہ وہ اس پر پوری دسترس رکھتے ہیں ناگہاں رات کو یا دن کو ہمارا حکم (عذاب) آپہنچا تو ہم نے اس کو کاٹ (کر ایسا کر) ڈالا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں۔ جو لوگ غور کرنے والے ہیں۔ ان کے لیے ہم (اپنی قدرت کی) نشانیاں اسی طرح کھول کھول کر بیان کرتے ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔