Wa kazaalika ja`alnaakum ummatanw wasatal litakoonoo shuhadaaa`a `alan naasi wa yakoonar Rasoolu `alaikum shaheedaa; wa maa ja`alnal qiblatal latee kunta `alaihaaa illaa lina`lama mai yattabi`ur Rasoola mimmai yanqalibu `alaa `aqibayh; wa in kaanat lakabeeratan illaa `alal lazeena hadal laah; wa maa kaanal laahu liyudee`a eemaanakum; innal laaha binnaasi la Ra`oofur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
آرى چنين است كه شما را بهترين امّتها گردانيديم تا بر مردمان گواه باشيد و پيامبر بر شما گواه باشد. و آن قبلهاى را كه رو به روى آن مىايستادى دگرگون نكرديم، جز بدان سبب كه آنان را كه از پيامبر پيروى مىكنند از آنان كه مخالفت مىورزند بازشناسيم. هر چند كه اين امر جز بر هدايتيافتگان دشوار مىنمود. خدا ايمان شما را تباه نمىكند، او بر مردمان مهربان و بخشاينده است.
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
آیت 143 کا تفسیر
پہلے چند اہم الفاظ کے معانی:
أُمَّةً وَسَطًا: ایک عادل، بہترین اور درمیانی امت۔
شُهَدَاءَ: گواہ بننے والے۔
يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ: الٹے پاؤں پلٹ جانا، یعنی ایمان سے پھر جانا۔
لَكَبِيرَةً: بہت بھاری اور سخت بات۔
إِيمَانَكُمْ: یہاں اس سے مراد نماز ہے، کیونکہ نماز ایمان کا نتیجہ اور اس کا مظہر ہے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے فضل و کرم کا ذکر فرما رہے ہیں کہ جس طرح اس نے پہلے لوگوں کو ہدایت دی اور انہیں سیدھا راستہ دکھایا، اسی طرح اس نے تم مسلمانوں کو بھی ایک عادل، بہترین اور میانہ رو امت بنایا ہے۔ تمہیں ہر معاملے میں اعتدال اور انصاف کا راستہ دیا گیا ہے تاکہ تم قیامت کے دن تمام امتوں پر گواہ بنو کہ ان کے رسولوں نے انہیں اللہ کا پیغام پہنچا دیا تھا، اور خود رسول اللہ ﷺ تم پر گواہ ہوں گے کہ انہوں نے تمہیں اللہ کا دین مکمل طور پر پہنچا دیا۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے پہلے تمہیں بیت المقدس کی طرف رخ کرنے کا حکم دیا تھا، اور پھر اسے تبدیل کر کے کعبہ کی طرف موڑ دیا، یہ سب کچھ اس لیے تھا تاکہ اللہ تعالیٰ ظاہر کرے کہ کون رسول اللہ ﷺ کی اتباع کرتا ہے اور کون شک و شبہ کی وجہ سے الٹے پاؤں پلٹ جاتا ہے۔ یہ تبدیلی بہت بھاری تھی، لیکن ان لوگوں پر آسان تھی جنہیں اللہ نے ہدایت دی اور ان کے دلوں میں ایمان کی مضبوطی پیدا کی۔
اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ تمہارے ایمان اور تمہاری نمازوں کو ضائع نہیں کرے گا جو تم نے پہلے بیت المقدس کی طرف رخ کر کے پڑھی تھیں۔ وہ تمہارے اعمال کا اجر ضرور دے گا، کیونکہ وہ اپنے بندوں پر بہت مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے حد مہربان ہے۔ وہ کبھی کسی کا نیک عمل ضائع نہیں کرتا، چاہے وہ عمل کسی بھی حالت میں کیا گیا ہو۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ کے احکام پر بلا چون و چرا عمل کریں، کیونکہ اللہ جو حکم دیتا ہے اس میں ہمیشہ حکمت ہوتی ہے۔ ہمیں اپنی امت کی اس عظیم فضیلت پر فخر کرنا چاہیے کہ اللہ نے ہمیں امتِ وسط بنایا ہے، اور ہمیں اس فضیلت کے تقاضوں کو پورا کرنا چاہیے یعنی عدل، انصاف اور اعتدال کو اپنانا۔ یاد رکھیں، اللہ کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے، اور وہ اپنے بندوں کے ساتھ ہمیشہ بھلائی کا معاملہ کرتا ہے۔
احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے
(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں
اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔