بقرہ · 144/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
قَدۡ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِي ٱلسَّمَآءِۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبۡلَةً تَرۡضَىٰهَاۚ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَحَيۡثُ مَا كُنتُمۡ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ شَطۡرَهُۥۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَيَعۡلَمُونَ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّهِمۡۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُونَ  ۝١٤٤
Qad naraa taqalluba wajhika fis samaaa`i fala nuwalliyannaka qiblatan tardaahaa; fawalli wajhaka shatral Masjidil haaraam; wa haisu maa kuntum fawalloo wujoohakum shatrah; wa innal lazeena ootul Kitaaba laya`lamoona annahul haqqu mir Rabbihim; wa mal laahu bighaafilin `ammaa ya`maloon
📖 اردو ترجمہ
(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَقَلُّبَ وَجْهِكَ: آپ کے چہرے کا بار بار آسمان کی طرف اٹھنا اور ادھر ادھر دیکھنا۔
  • شَطْرَ: سمت، طرف، جانب۔
  • الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ: خانہ کعبہ، جو مکہ مکرمہ میں واقع ہے۔
  • أُوتُوا الْكِتَابَ: وہ لوگ جنہیں آسمانی کتاب (تورات و انجیل) دی گئی، یعنی یہود و نصاریٰ۔

تفسیر:

اے محبوب نبی! ہم خوب دیکھ رہے ہیں کہ آپ کا چہرہ بار بار آسمان کی طرف اٹھتا ہے۔ آپ اپنے رب کی طرف سے قبلہ کی تبدیلی کا انتظار کر رہے ہیں، کیونکہ آپ کا دل چاہتا تھا کہ قبلہ وہ ہو جو اللہ کے نزدیک سب سے محبوب اور مکرم ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی اس خواہش کو پورا کرتے ہوئے فرمایا: ہم ضرور آپ کو اس قبلہ کی طرف موڑ دیں گے جو آپ کو پسند ہے، یعنی مسجد حرام (خانہ کعبہ) کی سمت۔ پس اب آپ اپنا رخ مسجد حرام کی طرف کریں۔

اور اے مسلمانو! تم جہاں بھی ہو، مشرق ہو یا مغرب، خشکی ہو یا سمندر، جب نماز پڑھو تو اپنے چہروں کو مسجد حرام کی سمت پھیرو۔ یہ حکم ہر وقت اور ہر جگہ کے لیے ہے، اور یہی قبلہ امت محمدیہ کی پہچان ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جن لوگوں کو کتاب دی گئی (یہود و نصاریٰ) وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ تبدیلی قبلہ حق ہے اور ان کے اپنے رب کی طرف سے ہے، کیونکہ ان کی اپنی کتابوں میں اس کی پیشین گوئی موجود ہے کہ آخری نبی دو قبلوں کی طرف نماز پڑھیں گے۔ لیکن پھر بھی وہ ضد اور عناد کی بنا پر اس کا انکار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے، وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے اور انہیں ان کے کرتوتوں کا بدلہ دے گا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری اور عزت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں وہ قبلہ عطا فرمایا جو سب سے افضل اور محبوب ہے۔ یہ مسلمانوں کی شناخت ہے جو انہیں دنیا کی ہر قوم سے ممتاز کرتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قبلے کی تعظیم کریں، اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھیں، اور اس بات پر اللہ کا شکر ادا کریں کہ اس نے ہمیں اس عظیم نعمت سے نوازا۔ نیز ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ ہر عمل سے باخبر ہے، اس لیے ہم اپنے اعمال کو سنوارتے رہیں اور اپنے رب کی اطاعت میں ثابت قدم رہیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 142-146 — بقرہ

142۞ سَيَقُولُ ٱلسُّفَهَآءُ مِنَ ٱلنَّاسِ مَا وَلَّىٰهُمۡ عَن قِبۡلَتِهِمُ ٱلَّتِي كَانُواْ عَلَيۡهَاۚ قُل لِّلَّهِ ٱلۡمَشۡرِقُ وَٱلۡمَغۡرِبُۚ يَهۡدِي مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسۡتَقِيمٍ 
احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے
143وَكَذَٰلِكَ جَعَلۡنَٰكُمۡ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُواْ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيۡكُمۡ شَهِيدًاۗ وَمَا جَعَلۡنَا ٱلۡقِبۡلَةَ ٱلَّتِي كُنتَ عَلَيۡهَآ إِلَّا لِنَعۡلَمَ مَن يَتَّبِعُ ٱلرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيۡهِۚ وَإِن كَانَتۡ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى ٱلَّذِينَ هَدَى ٱللَّهُۗ وَمَا كَانَ ٱللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَٰنَكُمۡۚ إِنَّ ٱللَّهَ بِٱلنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ 
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے
144قَدۡ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجۡهِكَ فِي ٱلسَّمَآءِۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبۡلَةً تَرۡضَىٰهَاۚ فَوَلِّ وَجۡهَكَ شَطۡرَ ٱلۡمَسۡجِدِ ٱلۡحَرَامِۚ وَحَيۡثُ مَا كُنتُمۡ فَوَلُّواْ وُجُوهَكُمۡ شَطۡرَهُۥۗ وَإِنَّ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ لَيَعۡلَمُونَ أَنَّهُ ٱلۡحَقُّ مِن رَّبِّهِمۡۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعۡمَلُونَ 
(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں
145وَلَئِنۡ أَتَيۡتَ ٱلَّذِينَ أُوتُواْ ٱلۡكِتَٰبَ بِكُلِّ ءَايَةٍ مَّا تَبِعُواْ قِبۡلَتَكَۚ وَمَآ أَنتَ بِتَابِعٍ قِبۡلَتَهُمۡۚ وَمَا بَعۡضُهُم بِتَابِعٍ قِبۡلَةَ بَعۡضٍۚ وَلَئِنِ ٱتَّبَعۡتَ أَهۡوَآءَهُم مِّنۢ بَعۡدِ مَا جَآءَكَ مِنَ ٱلۡعِلۡمِ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ ٱلظَّٰلِمِينَ 
اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
146ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَعۡرِفُونَهُۥ كَمَا يَعۡرِفُونَ أَبۡنَآءَهُمۡۖ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنۡهُمۡ لَيَكۡتُمُونَ ٱلۡحَقَّ وَهُمۡ يَعۡلَمُونَ 
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
144آیت

ترجمہ — بقرہ 144

سورہ آیت 144/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 142–146. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں