احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
از مردم، آنان كه كم خردند، خواهند گفت: چه چيز آنها را از قبلهاى كه رو به روى آن مىايستادند برگردانيد؟ بگو: مشرق و مغرب از آن خداست و خدا هر كس را كه بخواهد به راه راست هدايت مى كند.
احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
السُّفَهَاء: بیوقوف، کم عقل، جہلاء۔
وَلَّاهُمْ: پھیر دیا، بدل دیا۔
قِبْلَتِهِمُ: ان کا قبلہ (جس کی طرف رخ کر کے عبادت کی جائے)۔
صِرَاطٍ مُّسْتَقِيمٍ: سیدھا راستہ، ہدایت کا سنہرا راستہ۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اور امت کو مضبوط کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ عنقریب کچھ کم عقل اور جہلاء لوگ — جن میں یہود، مشرکین مکہ اور منافقین شامل ہیں — یہ کہیں گے کہ "ان مسلمانوں کو ان کے اس قبلے سے کس چیز نے پھیر دیا جس پر وہ پہلے تھے؟" یعنی وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے، اب انہیں کعبہ کی طرف پھیر دیا گیا۔ یہ لوگ اس تبدیلی کو طعنہ اور اعتراض کا ذریعہ بنائیں گے، حالانکہ یہ تبدیلی اللہ کے حکم سے ہوئی تھی۔
اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ کو جواب دینے کی تلقین کرتا ہے: "کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب اللہ ہی کا ہے۔" یعنی زمین کی کوئی سمت، کوئی گوشہ، کوئی سمت اللہ کی ملکیت سے باہر نہیں۔ وہ جس بندے کو چاہتا ہے، سیدھے راستے کی ہدایت دیتا ہے، اور جس سمت کی طرف چاہتا ہے اسے رخ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ یہ بات اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ قبلہ صرف ایک علامت ہے، اصل مقصد اللہ کی اطاعت اور اس کے حکم کی بندگی ہے۔ جب اللہ نے حکم دیا کہ بیت المقدس کی طرف رخ کرو، تو مسلمانوں نے بلا چوں و چراں کیا، اور جب حکم ملا کہ کعبہ کی طرف رخ کرو، تو پھر اسی اطاعت کے ساتھ کعبہ کی طرف رخ کیا۔ یہی توحید اور بندگی کا تقاضا ہے۔
یہاں ایک اہم سبق یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے، اور ہدایت کا دارومدار عقل یا ذہانت پر نہیں، بلکہ اللہ کی توفیق اور بندے کے سچے اخلاص پر ہے۔ جو لوگ اعتراض کرتے ہیں، وہ دراصل اللہ کے حکم پر راضی نہیں ہوتے، اس لیے وہ ہدایت سے محروم رہتے ہیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ مسلمان کو ہر حال میں اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا چاہیے، چاہے لوگ کتنے ہی اعتراضات کریں۔ اللہ کی رضا ہی اصل منزل ہے، اور اس کی اطاعت ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ جب ہم اللہ کے حکم پر چلیں گے، تو اللہ خود ہمیں سیدھے راستے پر چلائے گا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ دشمنوں کے طعنوں اور اعتراضات کی پرواہ نہ کریں، کیونکہ اللہ ہی ہمارا محافظ اور رہنما ہے۔ جو لوگ ایمان کے ساتھ اللہ کے حکم پر عمل کرتے ہیں، وہی حقیقی کامیاب ہیں، چاہے دنیا ان پر ہنسے یا اعتراض کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ثابت قدمی اور اخلاص عطا فرمائے۔ آمین۔
(اے یہود ونصاریٰ) کیا تم اس بات کے قائل ہو کہ ابراہیم اور اسمٰعیل اور اسحاق اور یعقوب اور ان کی اولاد یہودی یا عیسائی تھے۔ (اے محمدﷺ ان سے) کہو کہ بھلا تم زیادہ جانتے ہو یا خدا؟ اور اس سے بڑھ کر ظالم کون، جو خدا کی شہادت کو، جو اس کے پاس (کتاب میں موجود) ہے چھپائے۔ اور جو کچھ تم کر رہے ہو، خدا اس سے غافل نہیں
احمق لوگ کہیں گے کہ مسلمان جس قبلے پر (پہلے سے چلے آتے) تھے (اب) اس سے کیوں منہ پھیر بیٹھے۔ تم کہہ دو کہ مشرق اور مغرب سب خدا ہی کا ہے۔ وہ جس کو چاہتا ہے، سیدھے رستے پر چلاتا ہے
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے
(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔