Shahru Ramadaanallazeee unzila feehil Qur`aanu hudal linnaasi wa baiyinaatim minal hudaa wal furqaan; faman shahida minkumush shahra falyasumhu wa man kaana mareedan aw `alaa safarin fa`iddatum min ayyaamin ukhar; yureedul laahu bikumul yusra wa laa yureedu bikumul `usra wa litukmilul `iddata wa litukabbirul laaha `alaa maa hadaakum wa la`allakum tashkuroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
ماه رمضان، كه در آن براى راهنمايى مردم و بيان راه روشن هدايت و جدا ساختن حق از باطل، قرآن نازل شده است. پس هر كس كه اين ماه را دريابد، بايد كه در آن روزه بدارد. و هر كس كه بيمار يا در سفر باشد، به همان تعداد از روزهاى ديگر. خدا براى شما خواستار آسايش است نه سختى و تا آن شمار را كامل سازيد. و خدا را بدان سبب كه راهنماييتان كرده است به بزرگى ياد كنيد و سپاس گوييد.
(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
شَهْرُ رَمَضَانَ: رمضان کا مہینہ، جو قمری سال کا نواں مہینہ ہے۔
أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ: اس میں قرآن نازل کیا گیا۔
هُدًى لِّلنَّاسِ: لوگوں کے لیے ہدایت۔
بَيِّنَاتٌ: واضح دلیلیں اور روشن نشانیاں۔
الْفُرْقَانِ: حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والا۔
فَمَن شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ: تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے (یعنی مقیم ہو اور صحت مند ہو)۔
فَلْيَصُمْهُ: تو اسے چاہیے کہ روزہ رکھے۔
فَعِدَّةٌ مِّنْ أَيَّامٍ أُخَرَ: تو دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرے (یعنی قضا کرے)۔
الْيُسْرَ: آسانی۔
الْعُسْرَ: سختی اور تنگی۔
وَلِتُكْمِلُوا الْعِدَّةَ: تاکہ تم گنتی پوری کرو۔
وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ: اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو۔
تَشْكُرُونَ: شکر ادا کرو۔
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ رمضان المبارک کے مہینے کی عظمت اور اس کے احکام کو بیان کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رمضان وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں قرآن کریم نازل کیا گیا۔ یہ نزول لوحِ محفوظ سے آسمانِ دنیا پر ایک ساتھ لیلۃ القدر میں ہوا، پھر تھوڑا تھوڑا کرکے تقریباً تئیس سالوں میں نبی کریم ﷺ پر نازل ہوتا رہا۔ قرآن کریم کی عظمت یہ ہے کہ یہ تمام انسانوں کے لیے ہدایت کا ذریعہ ہے، یعنی یہ لوگوں کو گمراہی سے نکال کر سیدھے راستے پر لاتا ہے۔ اس میں ہدایت کی واضح دلیلیں موجود ہیں جو حق کو باطل سے جدا کرتی ہیں، اور یہی قرآن فرقان ہے یعنی حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والا۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اور وہ صحت مند ہو اور مقیم ہو، تو اس پر روزہ رکھنا فرض ہے۔ لیکن جو شخص بیمار ہو یا سفر پر ہو، تو اسے رخصت ہے کہ روزہ نہ رکھے، البتہ بعد میں دوسرے دنوں میں ان کی قضا کرے۔ یہ اللہ کی رحمت اور آسانی ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لیے آسانی چاہتا ہے، سختی نہیں چاہتا۔ وہ ہمیشہ سے چاہتا ہے کہ بندے آسانی کے ساتھ عبادت کریں، تاکہ عبادت کا مقصد حاصل ہو اور بندے پر مشقت نہ پڑے۔
یہ حکم اس لیے بھی ہے تاکہ تم روزوں کی گنتی پوری کرو، یعنی جتنے روزے چھوٹ گئے ہیں ان کی قضا کرو، اور تاکہ رمضان کے اختتام پر عید الفطر کے دن اللہ کی بڑائی بیان کرو، اس کی حمد و ثنا کرو، اور اس کا شکر ادا کرو کہ اس نے تمہیں ہدایت دی، روزے رکھنے کی توفیق دی، اور اپنے دینِ اسلام پر چلنے کی سعادت عطا کی۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ رمضان صرف بھوکا پیاسا رہنے کا نام نہیں، بلکہ یہ قرآن سے جڑنے، تقویٰ حاصل کرنے، شکرگزاری سیکھنے، اور اللہ کی رحمتوں کو پانے کا بہترین موقع ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس مہینے کو امتِ محمدیہ کے لیے خاص فضیلت عطا کی ہے، اس لیے ہمیں چاہیے کہ اس مہینے کی قدر کریں، قرآن کی تلاوت کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں، اور اللہ کے احکام پر پورے اخلاص کے ساتھ عمل کریں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو رمضان کی برکتیں حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے
(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو
اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں
روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں کے پاس جانا کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمائی۔اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو۔ اور خدا نے جو چیز تمہارے لئے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو (خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔