Wa izaa sa alaka `ibaadee `annnee fa innee qareebun ujeebu da`wataddaa`i izaa da`aani falyastajeeboo lee walyu minoo beela `allahum yarshudoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون بندگان من درباره من از تو بپرسند، بگو كه من نزديكم و به نداى كسى كه مرا بخواند پاسخ مىدهم. پس به نداى من پاسخ دهند و به من ايمان آورند تا راه راست يابند.
اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
قَرِيبٌ: قریب، نزدیک۔
أُجِيبُ: میں قبول کرتا ہوں، جواب دیتا ہوں۔
دَعْوَةَ الدَّاعِ: پکارنے والے کی دعا۔
فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي: تو وہ میری اطاعت کریں اور میرے حکم پر چلیں۔
يَرْشُدُونَ: ہدایت پائیں، راہِ راست پا لیں۔
تفسیر:
اے نبی! جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں کہ ہم اللہ کو کیسے پکاریں، وہ کہاں ہے، تو انہیں بتا دیجیے کہ میں ان سے بہت قریب ہوں۔ میرا قرب ان کے علم اور سننے سے ہے، میں ان کی ہر پکار سنتا ہوں، ان کی ہر حاجت جانتا ہوں، اور ان کی دعا کو قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے خلوص دل سے پکارتے ہیں۔ انہیں کسی وسیلے یا درمیانی کی ضرورت نہیں، نہ انہیں آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے، کیونکہ میں ان کی دلی پکار کو بھی سنتا ہوں۔
پھر اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ہدایت فرماتا ہے کہ جب میں ان کی دعائیں سنتا اور قبول کرتا ہوں، تو انہیں بھی چاہیے کہ وہ میری بات سنیں اور میری اطاعت کریں، میرے حکموں پر عمل کریں اور جن چیزوں سے میں نے منع کیا ہے ان سے بچیں۔ اور مجھ پر ایمان لائیں، میری وحدانیت اور قدرت پر یقین رکھیں، تاکہ وہ ہدایت پائیں اور اپنے دین اور دنیا دونوں کی بھلائی حاصل کر سکیں۔
یہ آیت مومنوں کے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے کہ ان کا رب ان سے قریب ہے، ان کی سنتا ہے، ان کی دعائیں قبول کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر اپنا فضل و کرم فرمایا ہے کہ وہ انہیں دعا کا حکم دیتا ہے اور قبولیت کا وعدہ دیتا ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے رب سے جڑیں، اس سے دعائیں کریں، اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ہم کامیاب ہوں۔
اللہ تعالیٰ کا قرب ہر مومن کے لیے سب سے بڑی نعمت ہے۔ جب بندہ اپنے رب کو پکارتا ہے تو رب اس کی پکار سنتا ہے اور اسے جواب دیتا ہے۔ یہ وہ عظیم رحمت ہے جو اللہ نے اپنے بندوں پر فرمائی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس رحمت سے فائدہ اٹھائیں، اپنے رب سے جڑیں، اور اس کی اطاعت کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت دونوں میں کامیاب ہوں۔
(روزوں کے دن) گنتی کے چند روز ہیں تو جو شخص تم میں سے بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں روزوں کا شمار پورا کرلے اور جو لوگ روزہ رکھنے کی طاقت رکھیں (لیکن رکھیں نہیں) وہ روزے کے بدلے محتاج کو کھانا کھلا دیں اور جو کوئی شوق سے نیکی کرے تو اس کے حق میں زیادہ اچھا ہے۔ اور اگر سمجھو تو روزہ رکھنا ہی تمہارے حق میں بہتر ہے
(روزوں کا مہینہ) رمضان کا مہینہ (ہے) جس میں قرآن (اول اول) نازل ہوا جو لوگوں کا رہنما ہے اور (جس میں) ہدایت کی کھلی نشانیاں ہیں اور (جو حق و باطل کو) الگ الگ کرنے والا ہے تو جو کوئی تم میں سے اس مہینے میں موجود ہو چاہیئے کہ پورے مہینے کے روزے رکھے اور جو بیمار ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں (رکھ کر) ان کا شمار پورا کرلے۔ خدا تمہارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا اور (یہ آسانی کا حکم) اس لئے (دیا گیا ہے) کہ تم روزوں کا شمار پورا کرلو اور اس احسان کے بدلے کہ خدا نے تم کو ہدایت بخشی ہے تم اس کو بزرگی سے یاد کر واور اس کا شکر کرو
اور (اے پیغمبر) جب تم سے میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو (کہہ دو کہ) میں تو (تمہارے) پاس ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں تو ان کو چاہیئے کہ میرے حکموں کو مانیں اور مجھ پر ایمان لائیں تاکہ نیک رستہ پائیں
روزوں کی راتوں میں تمہارے لئے اپنی عورتوں کے پاس جانا کردیا گیا ہے وہ تمہاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو خدا کو معلوم ہے کہ تم (ان کے پاس جانے سے) اپنے حق میں خیانت کرتے تھے سو اس نے تم پر مہربانی کی اور تمہاری حرکات سےدرگزرفرمائی۔اب (تم کو اختیار ہے کہ) ان سے مباشرت کرو۔ اور خدا نے جو چیز تمہارے لئے لکھ رکھی ہے (یعنی اولاد) اس کو (خدا سے) طلب کرو اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید دھاری (رات کی) سیاہ دھاری سے الگ نظر آنے لگے۔ پھر روزہ (رکھ کر) رات تک پورا کرو اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف بیٹھے ہو تو ان سے مباشرت نہ کرو۔ یہ خدا کی حدیں ہیں ان کے پاس نہ جانا۔ اسی طرح خدا اپنی آیتیں لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ پرہیزگار بنیں
اور ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ اورنہ اس کو (رشوةً) حاکموں کے پاس پہنچاؤ تاکہ لوگوں کے مال کا کچھ حصہ ناجائز طور پر کھا جاؤ اور (اسے) تم جانتے بھی ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔