ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَمَسُّوهُنَّ: ان سے مباشرت (ہمبستری) نہ کی ہو۔
- فَرَضْتُمْ لَهُنَّ فَرِيضَةً: ان کے لیے مہر مقرر کیا ہو۔
- يَعْفُونَ: عورت خود اپنا حصہ (نصف مہر) معاف کر دے۔
- الَّذِي بِيَدِهِ عُقْدَةُ النِّكَاحِ: جس کے ہاتھ میں نکاح کی گرہ ہے، یعنی شوہر (یا بعض اقوال کے مطابق ولی)۔
- الْفَضْلَ: احسان اور بھلائی، یعنی ایک دوسرے پر فوقیت اور سخاوت۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ان لوگوں کے لیے رہنمائی فرماتا ہے جنہوں نے نکاح تو کر لیا ہو، مہر بھی مقرر کر لیا ہو، لیکن ابھی مباشرت (خلوت اور صحبت) سے پہلے ہی طلاق دے دی ہو۔ ایسی صورت میں حکم یہ ہے کہ مقرر کردہ مہر کا آدھا حصہ عورت کو دینا واجب ہے۔ یہ اللہ کا عادلانہ اور رحمت بھرا حکم ہے جو دونوں فریقین کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔
تاہم، اللہ تعالیٰ نے اس حکم میں نرمی اور فضل کی گنجائش رکھی ہے۔ اگر عورت خود اپنے اس نصف مہر کے حق سے درگزر کر دے (یعنی معاف کر دے) تو یہ اس کی طرف سے احسان ہے۔ اسی طرح اگر شوہر اپنی طرف سے پورا مہر ادا کر دے (یعنی عورت کو پورا حق دے دے) تو یہ اس کی سخاوت اور بھلائی ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہارا ایک دوسرے کو معاف کرنا اور احسان کرنا تقویٰ کے زیادہ قریب ہے۔ یعنی جس قدر تم ایک دوسرے کے ساتھ درگزر اور فیاضی سے پیش آؤ گے، اتنا ہی تمہارا پرہیزگاری اور اللہ کی رضا کے قریب ہونا بڑھے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ تمام مسلمانوں کو مخاطب کر کے فرماتا ہے: "اور آپس میں فضل و احسان کو نہ بھولو۔" یعنی ایک دوسرے پر احسان کرنا، سخاوت کرنا، اور حقوق میں نرمی برتنا نہ بھولنا۔ یہ وہ اعلیٰ اخلاقی تعلیم ہے جو اسلام دیتا ہے کہ صرف قانونی حق ادا کرنے پر اکتفا نہ کرو، بلکہ احسان اور بھلائی کے درجے تک پہنچو۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "بے شک اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔" یہ ایک طرف ڈرانے والی اور دوسری طرف ترغیب دینے والی بات ہے۔ اللہ ہر عمل کو دیکھ رہا ہے، چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا۔ جو شخص احسان کرے گا، اللہ اسے اس کا اجر دے گا، اور جو تنگ دلی اور حق تلفی کرے گا، وہ اللہ کی گرفت سے بچ نہیں سکے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اسلام کا وہ حسین اور اعلیٰ تصور پیش کیا گیا ہے جو معاشرے میں محبت، درگزر اور احسان کی فضا قائم کرتا ہے۔ اسلام صرف قانونی حقوق کا پابند نہیں بناتا، بلکہ لوگوں کو ایک دوسرے پر احسان کرنے کی ترغیب دیتا ہے تاکہ دلوں میں کدورت نہ رہے اور معاشرہ محبت اور بھائی چارگی کا گہوارہ بنے۔ یہی وہ راستہ ہے جو تقویٰ تک پہنچاتا ہے۔ یاد رکھیں، اللہ تعالیٰ ہر چھوٹے بڑے عمل سے باخبر ہے، اور وہ احسان کرنے والوں کو بہترین جزا عطا فرمائے گا۔ آئیے ہم اپنے معاشرے میں اس اعلیٰ اخلاقی تعلیم کو اپنائیں تاکہ ہم اللہ کے نزدیک محبوب اور اس کی رحمت کے مستحق بنیں۔
📜 آیت 235-239 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 237
سورہ بقرہ آیت 237 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر تم عورتوں کو ان کے پاس جانے سے…سورہ آیت 237/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 235–239. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








