ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- یَصُدُّونَ: روکنے والے ہیں، باز رکھتے ہیں۔
- الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ: خانہ کعبہ اور اس کی حرمت والی مسجد۔
- الْعَاکِفُ: وہ شخص جو وہاں مقیم ہو، رہائش پذیر ہو۔
- الْبَادِ: باہر سے آنے والا، مسافر یا دیہاتی جو وہاں آئے۔
- بِإِلْحَادٍ: حق سے ہٹ کر باطل کی طرف میلان، کج روی۔
- بِظُلْمٍ: ظلم کے ساتھ، ناحق اور زیادتی کے طور پر۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے بارے میں خبر دے رہے ہیں جنہوں نے کفر کیا اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں، اور خاص طور پر مسجد حرام (خانہ کعبہ) سے روکتے ہیں، جیسا کہ مشرکینِ مکہ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو بیت اللہ جانے سے روکا تھا۔ یہ لوگ نہ صرف خود ایمان سے محروم رہے بلکہ دوسروں کو بھی ہدایت اور عبادت کے اس عظیم مرکز سے دور رکھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس مسجد حرام کو ہم نے تمام لوگوں کے لیے یکساں بنایا ہے — چاہے وہ وہاں کا مقیم ہو یا باہر سے آنے والا مسافر ہو، سب کا حق ہے کہ وہ اس میں آئیں، عبادت کریں، طواف کریں اور اللہ کا قرب حاصل کریں۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی کو اس مقدس مقام سے روکے یا اس میں امتیاز برتے۔
پھر اللہ تعالیٰ سخت وعید سناتے ہیں کہ جو شخص اس مسجد حرام میں ظلم کے ساتھ حق سے کج روی کا ارادہ کرے — یعنی شرک کرے، معصیت کا ارتکاب کرے، یا کسی بھی طرح کی برائی کا قصد کرے — تو ہم اسے دردناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ یہ اس بات کی شدید تاکید ہے کہ حرمت والے مقامات کی حرمت کا لحاظ رکھنا ضروری ہے، اور وہاں گناہ کا ارتکاب عام جگہوں کی نسبت زیادہ سخت گناہ ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ اسلام دینِ فطرت ہے اور مسجد حرام تمام انسانوں کے لیے کھلا ہے، کوئی بھی شخص جنس، رنگ، نسل یا قومیت کی بنیاد پر اس سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اسلام کا عالمگیر پیغام ہے جو عدل و مساوات پر مبنی ہے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکنے والوں سے ہوشیار رہنا چاہیے، اور خود بھی کبھی کسی کو نیکی اور عبادت سے نہ روکیں۔ بلکہ ہمارا فرض ہے کہ لوگوں کو مسجد، عبادت اور نیکی کی طرف بلائیں، ان کے دل میں اللہ کا خوف اور محبت پیدا کریں۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ مقدس مقامات اور اوقات کی تعظیم کریں، اور وہاں گناہوں سے بچیں۔ اگر ہم مسجد میں بھی برائی کریں گے تو یہ بہت بڑی ناشکری اور گستاخی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو اپنی عبادت کے لیے بنایا ہے، اس لیے وہاں صرف ذکر، تلاوت اور نماز کا اہتمام کریں۔
آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں مسجد حرام کی زیارت نصیب فرمائے، اور ہمارے دلوں کو اپنی عبادت اور اطاعت کا ذوق عطا کرے۔ آمین۔
📜 آیت 23-27 — حج
ترجمہ — حج 25
سورہ حج آیت 25 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ کافر ہیں اور (لوگوں کو) خدا کے رستے…سورہ آیت 25/78 — حج الحج (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حج سنیں, حج ترجمہ, حج mp3, حج pdf. آیت 23–27. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








