نور · 37/64
ترجمہ تلفظ — نور
رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ ۝٣٧
Rinjaalul laa tulheehim tijaaratunw wa laa bai`un `an zikril laahi wa iqaamis Salaati wa eetaaa`iz Zakaati yakkhaafoona Yawman tataqallabu feehil quloobu wal absaar
📖 اردو ترجمہ
(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خرید وفروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَا تُلْهِیهِمْ: انہیں غافل نہیں کرتا، مشغول نہیں کرتا۔
  • تِجَارَةٌ: خرید و فروخت کا کاروبار۔
  • بَیْعٌ: فروخت، بیچنا۔
  • ذِکْرِ اللہِ: اللہ کی یاد، جس میں نماز بھی شامل ہے۔
  • إِقَامِ الصَّلَاةِ: نماز کو اس کے وقت پر پوری طرح ادا کرنا۔
  • إِیتَاءِ الزَّکَاةِ: زکوٰۃ کو اس کے مستحقین تک پہنچانا۔
  • تَتَقَلَّبُ فِیهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ: جس دن دل اور آنکھیں الٹ پلٹ ہوں گی (خوف اور گھبراہٹ سے

تفسیر:

یہ آیت ان مومنوں کی تعریف بیان کرتی ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے اپنے نورِ ہدایت سے نوازا ہے۔ یہ وہ سچے بندے ہیں جنہیں دنیا کی تجارت، خرید و فروخت، اور کاروبار اللہ کی یاد سے غافل نہیں کر پاتے۔ وہ جانتے ہیں کہ دنیا کا مال و دولت عارضی ہے، لیکن اللہ کی یاد اور اس کی عبادت ہی اصل کامیابی ہے۔ وہ نماز کو اس کے وقت پر پوری خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں، اور جب زکوٰۃ واجب ہوتی ہے تو اسے فوراً مستحقین تک پہنچاتے ہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مال اللہ کا دیا ہوا ہے اور اس میں بندوں کا حق ہے۔

یہ لوگ قیامت کے اس دن سے ڈرتے ہیں جب خوف اور گھبراہٹ سے دل دھڑکیں گے، آنکھیں حیران و پریشان ہوں گی، اور ہر شخص یہ سوچے گا کہ اس کا انجام کیا ہوگا؟ کیا وہ نجات پائے گا یا ہلاک ہوگا؟ یہ خوف انہیں نیکی کی طرف راغب کرتا ہے اور گناہوں سے روکتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہماری زندگی میں اللہ کی یاد، نماز اور زکوٰۃ کو سب سے اہم مقام ہونا چاہیے۔ دنیا کا کاروبار، نوکری، اور معاشی مصروفیات ہمیں اللہ سے غافل نہ کریں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے روزمرہ کے کاموں کے درمیان بھی اللہ کا ذکر کریں، نمازوں کو وقت پر ادا کریں، اور اپنے مال سے زکوٰۃ دے کر اللہ کی رضا حاصل کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں قیامت کے خوف سے نجات دلائے گا اور اللہ کی رحمت کا مستحق بنائے گا۔ یاد رکھیں، جو لوگ اللہ کو یاد کرتے ہیں، اللہ انہیں یاد رکھتا ہے، اور جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، اللہ انہیں بہتر بدلہ دیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 35-39 — نور

35۞ اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ مَثَلُ نُورِهِ كَمِشْكَاةٍ فِيهَا مِصْبَاحٌ ۖ الْمِصْبَاحُ فِي زُجَاجَةٍ ۖ الزُّجَاجَةُ كَأَنَّهَا كَوْكَبٌ دُرِّيٌّ يُوقَدُ مِن شَجَرَةٍ مُّبَارَكَةٍ زَيْتُونَةٍ لَّا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ يَكَادُ زَيْتُهَا يُضِيءُ وَلَوْ لَمْ تَمْسَسْهُ نَارٌ ۚ نُّورٌ عَلَىٰ نُورٍ ۗ يَهْدِي اللَّهُ لِنُورِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَيَضْرِبُ اللَّهُ الْأَمْثَالَ لِلنَّاسِ ۗ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ
خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے۔ اور چراغ ایک قندیل میں ہے۔ اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف۔ (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ) اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے (پڑی) روشنی پر روشنی (ہو رہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ دکھاتا ہے۔ اور خدا نے (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے (تو) لوگوں کے (سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے
36فِي بُيُوتٍ أَذِنَ اللَّهُ أَن تُرْفَعَ وَيُذْكَرَ فِيهَا اسْمُهُ يُسَبِّحُ لَهُ فِيهَا بِالْغُدُوِّ وَالْآصَالِ
(وہ قندیل) ان گھروں میں (ہے) جن کے بارے میں خدا نے ارشاد فرمایا ہے کہ بلند کئے جائیں اور وہاں خدا کے نام کا ذکر کیا جائے (اور) ان میں صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہیں
37رِجَالٌ لَّا تُلْهِيهِمْ تِجَارَةٌ وَلَا بَيْعٌ عَن ذِكْرِ اللَّهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ ۙ يَخَافُونَ يَوْمًا تَتَقَلَّبُ فِيهِ الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ
(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خرید وفروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں
38لِيَجْزِيَهُمُ اللَّهُ أَحْسَنَ مَا عَمِلُوا وَيَزِيدَهُم مِّن فَضْلِهِ ۗ وَاللَّهُ يَرْزُقُ مَن يَشَاءُ بِغَيْرِ حِسَابٍ
تاکہ خدا ان کو ان کے عملوں کا بہت اچھا بدلہ دے اور اپنے فضل سے زیادہ بھی عطا کرے۔ اور جس کو چاہتا ہے خدا بےشمار رزق دیتا ہے
39وَالَّذِينَ كَفَرُوا أَعْمَالُهُمْ كَسَرَابٍ بِقِيعَةٍ يَحْسَبُهُ الظَّمْآنُ مَاءً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَهُ لَمْ يَجِدْهُ شَيْئًا وَوَجَدَ اللَّهَ عِندَهُ فَوَفَّاهُ حِسَابَهُ ۗ وَاللَّهُ سَرِيعُ الْحِسَابِ
جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آئے تو اسے کچھ بھی نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اسے اس کا حساب پورا پورا چکا دے۔ اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے
نورقرآن فہرست
64آیت
مدنیRevelation
37آیت

ترجمہ — نور 37

سورہ نور آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز…

سورہ آیت 37/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں