Wallazeena kafarooo a`maaluhum kasaraabim biqee`atiny yahsabuhuz zamaanu maaa`an hattaaa izaa jaaa`ahoo lam yajid hu shai`anw wa wajadal laaha `indahoo fa waffaahu hisaabah; wallaahu saree`ul hisaab
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آئے تو اسے کچھ بھی نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اسے اس کا حساب پورا پورا چکا دے۔ اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اعمال كافران چون سرابى است در بيابانى. تشنه، آبش پندارد و چون بدان نزديك شود هيچ نيابد و خدا را نزد خود يابد كه جزاى او را به تمام بدهد. و خدا زود به حسابها مىرسد.
جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آئے تو اسے کچھ بھی نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اسے اس کا حساب پورا پورا چکا دے۔ اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
سَرَابٍ: چمکتی ہوئی زمین پر دوپہر کی دھوپ میں جو پانی کا دھوکہ نظر آتا ہے۔
بِقِيعَةٍ: ہموار اور چپٹی زمین، میدان۔
الظَّمْآنُ: شدید پیاسا شخص۔
فَوَّاهُ حِسَابَهُ: اسے اس کا پورا پورا بدلہ دے دیا۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے اعمال کی حقیقت کو ایک بہت ہی واضح اور مؤثر مثال کے ذریعے بیان فرمایا ہے۔ کافروں کے وہ اعمال جنہیں وہ اپنے لیے نفع بخش سمجھتے ہیں، جیسے صلہ رحمی، قیدیوں کو چھڑانا، خیرات کرنا وغیرہ، ان کی مثال بالکل اس سراب کی سی ہے جو دوپہر کی تپتی دھوپ میں ہموار میدان میں دیکھنے والے کو پانی کی صورت میں نظر آتا ہے۔
پیاسا مسافر جب دور سے اسے دیکھتا ہے تو اسے یقین ہو جاتا ہے کہ وہ پانی ہے، وہ خوشی خوشی اس کی طرف دوڑتا ہے، لیکن جب وہاں پہنچتا ہے تو اسے کچھ نہیں ملتا، صرف مایوسی اور حسرت اس کا مقدر بنتی ہے۔ بالکل اسی طرح کافر شخص اپنے نیک اعمال کو اپنے لیے نجات کا ذریعہ سمجھتا ہے، لیکن جب قیامت کے دن وہ اللہ کے سامنے حاضر ہوگا تو اسے اپنے اعمال کا کوئی ثواب نہیں ملے گا، کیونکہ اس نے یہ اعمال اللہ کی رضا کے لیے نہیں کیے تھے، بلکہ دنیاوی مقاصد یا ریاکاری کے لیے کیے تھے۔
اس دن وہ دیکھے گا کہ اللہ تعالیٰ اس کے سامنے ہے اور اس کا پورا حساب لے رہا ہے۔ اس کی تمام نیکیاں اس کے کفر کی وجہ سے ضائع ہو چکی ہیں، اور اسے اپنے کفر و شرک کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ کا حساب بہت تیز ہے، وہ کسی سے بھی نہیں بھولتا اور نہ ہی اسے کسی حساب کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔
یہ آیت ہمارے لیے ایک بہت بڑا سبق ہے کہ ہم اپنے اعمال کو صرف اللہ کی رضا کے لیے کریں، نہ کہ دکھاوے کے لیے۔ اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان نہیں لاتے، ان کے سارے اعمال اسی طرح ضائع ہو جائیں گے جیسے سراب پر جانے والے پیاسے کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی دولت اور خلوص نیت عطا فرمائے۔ آمین۔
(یعنی ایسے) لوگ جن کو خدا کے ذکر اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے سے نہ سوداگری غافل کرتی ہے نہ خرید وفروخت۔ وہ اس دن سے جب دل (خوف اور گھبراہٹ کے سبب) الٹ جائیں گے اور آنکھیں (اوپر کو چڑھ جائیں گی) ڈرتے ہیں
جن لوگوں نے کفر کیا ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے میدان میں ریت کہ پیاسا اسے پانی سمجھے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آئے تو اسے کچھ بھی نہ پائے اور خدا ہی کو اپنے پاس دیکھے تو وہ اسے اس کا حساب پورا پورا چکا دے۔ اور خدا جلد حساب کرنے والا ہے
یا (ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے) جیسے دریائے عمیق میں اندھیرے جس پر لہر چڑھی چلی آتی ہو اور اس کے اوپر اور لہر (آرہی ہو) اور اس کے اوپر بادل ہو، غرض اندھیرے ہی اندھیرے ہوں، ایک پر ایک (چھایا ہوا) جب اپنا ہاتھ نکالے تو کچھ نہ دیکھ سکے۔ اور جس کو خدا روشنی نہ دے اس کو (کہیں بھی) روشنی نہیں (مل سکتی)
کیا تم نے نہیں دیکھا کہ جو لوگ آسمانوں اور زمین میں ہیں خدا کی تسبیح کرتے ہیں اور پر پھیلائے ہوئے جانور بھی۔ اور سب اپنی نماز اور تسبیح کے طریقے سے واقف ہیں۔ اور جو کچھ وہ کرتے ہیں (سب) خدا کو معلوم ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔