ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَصَدُّوكُمْ: انہوں نے تمہیں روکا۔
- الْهَدْيَ: قربانی کے جانور۔
- مَعْكُوفًا: روکے ہوئے، حبس شدہ۔
- مَحِلَّهُ: اپنی جگہ (حرم) جہاں ذبح کیا جاتا ہے۔
- تَطَئُوهُمْ: تم انہیں (قتل کے ذریعے) روند ڈالتے۔
- مَعَرَّةٌ: گناہ، نقصان، ذمہ داری۔
- لَوْ تَزَيَّلُوا: اگر وہ الگ ہو جاتے، ایک دوسرے سے جدا ہو جاتے۔
تفسیر:
یہ آیت مبارکہ حدیبیہ کے موقع پر نازل ہوئی، جب مسلمان عمرہ کے ارادے سے مکہ روانہ ہوئے لیکن کفار قریش نے انہیں مسجد الحرام میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تمہیں مسجد الحرام سے روکا، اور قربانی کے جانوروں کو بھی روکے رکھا کہ وہ اپنی جگہ (حرم) تک نہ پہنچ سکیں۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک بہت ہی اہم حکمت بیان فرماتا ہے: اگر مکہ میں کچھ کمزور مومن مرد اور مومن عورتیں نہ ہوتیں جنہیں تم نہیں جانتے تھے (کیونکہ وہ اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھے)، تو تم انہیں (کفار کے ساتھ ملے جلے ہونے کی وجہ سے) قتل کر دیتے اور اس طرح تم پر بغیر علم کے ان کے قتل کا گناہ اور نقصان آتا۔ اس لیے اللہ نے تمہیں مکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی، تاکہ اللہ اپنی رحمت میں جسے چاہے داخل کرے اور ان پوشیدہ مومنین کو ایمان پر قائم رکھے۔
آخر میں اللہ فرماتا ہے کہ اگر وہ مومن اور کافر الگ الگ ہو جاتے، تو ہم کافروں کو تمہارے ہاتھوں دردناک عذاب دیتے۔ لیکن چونکہ وہ آپس میں ملے جلے تھے، اس لیے اللہ نے اس حکمت کی بنا پر فی الحال جنگ سے روک دیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں چند بہت اہم سبق ملتے ہیں:
- اللہ کی حکمت: اللہ تعالیٰ جو کچھ کرتا ہے اس میں بے شمار حکمتیں ہوتی ہیں، چاہے وہ ہمیں سمجھ نہ آئیں۔ حدیبیہ کا معاہدہ ظاہری طور پر مسلمانوں کے خلاف تھا، لیکن اللہ نے اس میں بے شمار خیر رکھی تھی۔
- مومنین کی حفاظت: اللہ اپنے بندوں کی حفاظت کرتا ہے، چاہے وہ کتنی ہی مشکل حالات میں ہوں۔ مکہ میں چھپے ہوئے مومنین اللہ کی خاص رحمت سے محفوظ رہے۔
- احتیاط اور حکمت عملی: مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ ہر قدم پر حکمت اور دانائی سے کام لیں، اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جس سے بے گناہوں کو نقصان پہنچے۔
- رحمت کی وسعت: اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، وہ چاہتا ہے کہ لوگ ایمان لائیں اور اس کی رحمت میں داخل ہوں۔ اسی لیے اس نے اس وقت جنگ کی اجازت نہ دی تاکہ مزید لوگ ہدایت پا سکیں۔
- صبر اور بھروسہ: مسلمانوں کو صبر کرنا چاہیے اور اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، کیونکہ اللہ ہر حال میں بہتر جانتا ہے کہ کب اور کیسے عمل کرنا ہے۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام امن اور رحمت کا دین ہے، اور اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کی بھلائی چاہتا ہے، چاہے وہ ظاہری طور پر کچھ بھی نظر آئے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے فیصلوں پر راضی رہیں اور اس کی حکمت پر بھروسہ کریں۔
📜 آیت 23-27 — فتح
ترجمہ — فتح 25
سورہ فتح آیت 25 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم…سورہ آیت 25/29 — فتح الفتح (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فتح سنیں, فتح ترجمہ, فتح mp3, فتح pdf. آیت 23–27. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








