Wa Huwal lazee kaffa aydiyahum `ankum wa aydiyakum `anhum bibatni Makkata mim ba`di an azfarakum `alaihim; wa kaanal laahu bimaa ta`maloona Baseera
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اوست كه چون در بطن مكه بر آنها پيروزيتان داد، دست آنها را از شما و دست شما را از آنها بازداشت. و خدا به كارهايى كه مىكرديد آگاه و بينا بود.
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
کَفَّ أَيْدِيَهُمْ: ان کے ہاتھوں کو روک دیا۔
بِبَطْنِ مَكَّةَ: مکہ کے اندرونی علاقے (حدیبیہ) میں۔
أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ: تمہیں ان پر غلبہ اور قدرت عطا کی۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جس نے حدیبیہ کے مقام پر مشرکینِ مکہ کے ہاتھوں کو تم سے روک دیا، اور تمہارے ہاتھوں کو بھی ان سے باز رکھا، اس حال میں کہ وہ تقریباً اسی آدمیوں پر مشتمل ایک جماعت تھی جو رسول اللہ ﷺ کے لشکر پر حملہ آور ہونے کے لیے نکلی تھی۔ اللہ نے انہیں تمہارے قابو میں دے دیا، چنانچہ تم نے انہیں گرفتار کر لیا، پھر انہیں چھوڑ دیا اور انہیں قتل نہیں کیا، حالانکہ تمہیں ان پر پوری قدرت حاصل تھی۔ یہ اللہ کی بڑی مہربانی اور رحمت تھی کہ اس نے اس مقام پر خونریزی سے بچایا، تاکہ صلحِ حدیبیہ کا دروازہ کھلے اور اس کے ذریعے اسلام کو فتح عظیم حاصل ہو۔
اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے خوب واقف ہے، کوئی عمل چھوٹا ہو یا بڑا، ظاہر ہو یا پوشیدہ، سب اس کے علم میں ہے، اور وہی تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دے گا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور رحمت کی عظیم نشانی ہے کہ اس نے مسلمانوں کو دشمن پر غلبہ عطا کیا، پھر بھی انہیں قتل و خونریزی سے روکا۔ یہ اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اسلام دینِ رحمت ہے، اور مسلمان طاقت کے باوجود درگزر اور عفو سے کام لیتے ہیں۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی حالات کا مالک ہے، اور ہر معاملے میں اس کی حکمت ہوتی ہے۔ جب ہم اپنے معاملات اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں، تو وہ ہمارے لیے بہتر راستہ نکالتا ہے، چاہے وہ ہماری سمجھ میں نہ آئے۔ یہی توکل اور صبر ہی ہے جو مومن کی پہچان ہے، اور اسی کے ذریعے اللہ اپنے بندوں کو کامیابی عطا فرماتا ہے۔
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں۔ اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے
جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔