فتح · 26/29
ترجمہ تلفظ — فتح
إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ۝٢٦
Iz ja`alal lazeena kafaroo fee quloobihimul hamiyyata hamiyyatal jaahiliyyati fa anzalal laahu sakeenatahoo `alaa Rasoolihee wa `alal mu mineena wa alzamahum kalimatat taqwaa wa kaanooo ahaqqa bihaa wa ahlahaa; wa kaanal laahu bikulli shai`in Aleema
📖 اردو ترجمہ
جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • حمیة: غیرت، تعصب، ضد، تکبر اور بڑائی کا جذبہ۔
  • حمیۃ الجاہلیۃ: جاہلیت کا وہ تعصب جو حق و باطل کی تمیز کے بغیر محض نفسانی خواہشات اور روایات پر مبنی ہو۔
  • سکینۃ: سکون، اطمینان، وقار اور قلبی استقامت۔
  • کلمۃ التقویٰ: تقویٰ کی بنیاد رکھنے والا کلمہ، یعنی "لا إله إلا اللہ"۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے صلح حدیبیہ کے موقع پر کفارِ مکہ کے طرزِ عمل اور اہلِ ایمان کے موقف کا موازنہ بیان فرمایا ہے۔ جب رسول اللہ ﷺ اور صحابہ کرام عمرہ کے ارادے سے مکہ پہنچے تو مشرکینِ قریش نے آپ ﷺ کو بیت اللہ میں داخل ہونے سے روک دیا۔ اس موقع پر ان کے دلوں میں جاہلیت کی وہ حمیّت (تعصب اور ضد) ابھری جو کسی حق یا دلیل پر مبنی نہیں تھی، بلکہ محض تکبر، بڑائی اور اپنی روایات پر اصرار تھی۔ انہوں نے اس بنیاد پر رسول اللہ ﷺ کی رسالت اور آپ کے پیغام کو ماننے سے انکار کیا، حتیٰ کہ صلح نامے میں "بسم اللہ الرحمن الرحیم" اور "محمد رسول اللہ" لکھنے سے بھی انکار کر دیا۔

اس کے برعکس، اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول ﷺ اور اہلِ ایمان پر اپنی خاص سکینت (سکون اور اطمینان) نازل فرمائی۔ اس سکینت کی برکت سے ان کے دلوں میں غصہ، انتقام اور جذباتی ردِ عمل پیدا نہیں ہوا، بلکہ انہوں نے حکمت اور صبر کا مظاہرہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں "کلمۃ التقویٰ" یعنی "لا إله إلا اللہ" پر قائم رکھا اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی توفیق دی۔ یہ کلمہ ہی تقویٰ کی جڑ اور بنیاد ہے، اور اہلِ ایمان ہی اس کے حقیقی مستحق تھے، کیونکہ ان کے دلوں میں اللہ کا خوف، اخلاص اور حق کی پیروی کا جذبہ تھا، جبکہ مشرکین اس سے محروم تھے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے دلوں کے حال سے خوب واقف ہے، وہ جانتا ہے کہ کس کے دل میں سچائی اور خلوص ہے، اور کس کے دل میں ضد اور تکبر۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جاہلیت کی حمیّت (تعصب اور ضد) انسان کو حق سے دور کر دیتی ہے، جبکہ تقویٰ اور اللہ پر بھروسہ انسان کو سکون، استقامت اور کامیابی عطا کرتا ہے۔ آج بھی جب کوئی شخص حق کو قبول کرنے سے اس لیے انکار کرتا ہے کہ اسے اپنی بڑائی یا روایات پر ضد ہے، تو وہ دراصل اسی جاہلیت کی پیروی کر رہا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں سے تعصب اور تکبر کو نکالیں اور "لا إله إلا اللہ" کے کلمے کو اپنی زندگی کا حقیقی نصب العین بنائیں۔ یہی کلمہ ہمیں دنیا اور آخرت میں عزت اور کامیابی دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو ہمیشہ سکون اور اطمینان عطا فرماتا ہے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ آئیے ہم بھی اپنے دلوں کو جاہلیت کی حمیّت سے پاک کریں اور تقویٰ کے کلمے کو اپنائیں تاکہ اللہ کی رحمت اور سکینت ہمارے دلوں میں نازل ہو۔



📜 آیت 24-28 — فتح

24وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُم بِبَطْنِ مَكَّةَ مِن بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا
اور وہی تو ہے جس نے تم کو ان (کافروں) پر فتحیاب کرنے کے بعد سرحد مکہ میں ان کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیئے۔ اور جو کچھ تم کرتے ہو خدا اس کو دیکھ رہا ہے
25هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَن يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُّؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُّؤْمِنَاتٌ لَّمْ تَعْلَمُوهُمْ أَن تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُم مِّنْهُم مَّعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِّيُدْخِلَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا
یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد حرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی کہ اپنی جگہ پہنچنے سے رکی رہیں۔ اور اگر ایسے مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے کہ اگر تم ان کو پامال کر دیتے تو تم کو ان کی طرف سے بےخبری میں نقصان پہنچ جاتا۔ (تو بھی تمہارے ہاتھ سے فتح ہوجاتی مگر تاخیر) اس لئے (ہوئی) کہ خدا اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے۔ اور اگر دونوں فریق الگ الگ ہوجاتے تو جو ان میں کافر تھے ان ہم دکھ دینے والا عذاب دیتے
26إِذْ جَعَلَ الَّذِينَ كَفَرُوا فِي قُلُوبِهِمُ الْحَمِيَّةَ حَمِيَّةَ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَنزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ وَعَلَى الْمُؤْمِنِينَ وَأَلْزَمَهُمْ كَلِمَةَ التَّقْوَىٰ وَكَانُوا أَحَقَّ بِهَا وَأَهْلَهَا ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا
جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد بھی جاہلیت کی۔ تو خدا نے اپنے پیغمبر اور مومنوں پر اپنی طرف سے تسکین نازل فرمائی اور ان کو پرہیزگاری کی بات پر قائم رکھا اور وہ اسی کے مستحق اور اہل تھے۔ اور خدا ہر چیز سے خبردار ہے
27لَّقَدْ صَدَقَ اللَّهُ رَسُولَهُ الرُّؤْيَا بِالْحَقِّ ۖ لَتَدْخُلُنَّ الْمَسْجِدَ الْحَرَامَ إِن شَاءَ اللَّهُ آمِنِينَ مُحَلِّقِينَ رُءُوسَكُمْ وَمُقَصِّرِينَ لَا تَخَافُونَ ۖ فَعَلِمَ مَا لَمْ تَعْلَمُوا فَجَعَلَ مِن دُونِ ذَٰلِكَ فَتْحًا قَرِيبًا
بےشک خدا نے اپنے پیغمبر کو سچا (اور) صحیح خواب دکھایا۔ کہ تم خدا نے چاہا تو مسجد حرام میں اپنے سر منڈوا کر اور اپنے بال کتروا کر امن وامان سے داخل ہوگے۔ اور کسی طرح کا خوف نہ کرو گے۔ جو بات تم نہیں جانتے تھے اس کو معلوم تھی سو اس نے اس سے پہلے ہی جلد فتح کرادی
28هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَىٰ وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ ۚ وَكَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا
وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت (کی کتاب) اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ اس کو تمام دینوں پر غالب کرے۔ اور حق ظاہر کرنے کے لئے خدا ہی کافی ہے
فتحقرآن فہرست
29آیت
مدنیRevelation
26آیت

ترجمہ — فتح 26

سورہ فتح آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب کافروں نے اپنے دلوں میں ضد کی اور ضد…

سورہ آیت 26/29 — فتح الفتح (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فتح سنیں, فتح ترجمہ, فتح mp3, فتح pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں