ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تَعَالَوْا: آؤ، قریب آؤ
- أَتْلُ: میں پڑھ کر سناؤں
- إِمْلَاق: فقر، غربت، تنگ دستی
- الْفَوَاحِش: بڑے گناہ، بے حیائی کے کام
- مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ: جو ظاہر ہوں اور جو پوشیدہ ہوں
- وَصَّاكُمْ: اس نے تمہیں وصیت کی، حکم دیا
تفسیر:
اے نبی! آپ ان لوگوں سے فرما دیجیے جو آپ سے پوچھتے ہیں کہ اللہ نے کیا کچھ حرام کیا ہے: "آؤ، میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر سناؤں جو تمہارے رب نے تم پر حرام کی ہیں۔" یہ وہ احکام ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر لازم کیے ہیں تاکہ وہ سمجھیں اور راہ راست پائیں۔
پہلا اور سب سے اہم حکم یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو۔ شرک سب سے بڑا ظلم اور ناقابل معافی جرم ہے۔ اللہ ہی عبادت کا مستحق ہے، اسی سے ڈرو، اسی سے امید رکھو، اسی سے دعا مانگو۔ کسی بت، کسی شخصیت، کسی ستارے یا کسی اور چیز کو اللہ کا شریک نہ بناؤ۔
دوسرا حکم والدین کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ اللہ نے اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے۔ ان کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ، ان کی خدمت کرو، ان کی اطاعت کرو (جب تک وہ اللہ کی نافرمانی کا حکم نہ دیں)، ان کے لیے دعا کرو اور ان کی بوڑھی عمر میں انہیں تنہا نہ چھوڑو۔
تیسرا حکم: اپنی اولاد کو فقر و غربت کے ڈر سے قتل نہ کرو۔ جاہلیت کے لوگ اپنی بیٹیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے اور بعض اپنے بیٹوں کو بھی غربت کے خوف سے مار ڈالتے تھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رزق دینے والا میں ہوں، تمہیں بھی اور تمہاری اولاد کو بھی میں روزی دیتا ہوں۔ تمہیں اپنی اولاد کی روزی کا فکر کرنے کی ضرورت نہیں، وہ میرے ذمے ہے۔
چوتھا حکم: بے حیائی کے کاموں کے قریب بھی نہ جاؤ، چاہے وہ ظاہر ہوں یا پوشیدہ۔ جاہلیت کے لوگ علانیہ زنا کو برا سمجھتے تھے لیکن چھپ کر کرتے تھے۔ اللہ نے دونوں کو حرام کیا ہے۔ یہ حکم صرف زنا تک محدود نہیں بلکہ ہر قسم کے گناہوں پر محیط ہے، خواہ وہ کھلے عام کیے جائیں یا چھپ کر۔
پانچواں حکم: کسی جان کو قتل نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے، سوائے حق کے۔ حق کے ساتھ قتل صرف تین صورتوں میں جائز ہے: قصاص (یعنی قاتل کو اس کے جرم کی سزا)، شادی شدہ زانی کو رجم کرنا، اور مرتد کو سزا دینا۔ اس کے علاوہ کسی بھی انسان کا قتل، چاہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم، بہت بڑا گناہ ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: یہ وہ احکام ہیں جن کی اللہ نے تمہیں وصیت کی ہے تاکہ تم عقل سے کام لو اور سمجھ جاؤ کہ تمہارا رب تم سے کیا چاہتا ہے۔ یہ احکام تمہاری دنیا اور آخرت دونوں کی بھلائی کے لیے ہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! دیکھیں اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو احکام لازم کیے ہیں، وہ ہماری اپنی بھلائی کے لیے ہیں۔ اللہ کو ہماری عبادت کی ضرورت نہیں، بلکہ ہمیں اللہ کی عبادت کی ضرورت ہے۔ شرک سے بچنا، والدین کا احترام، اولاد کی حفاظت، پاکیزگی اور جان کی حرمت — یہ سب وہ اصول ہیں جو ایک پرسکون اور خوشحال معاشرہ بناتے ہیں۔ جس معاشرے میں یہ اصول رائج ہوں، وہاں امن، محبت اور برکت ہوتی ہے۔ آئیے ہم ان احکام پر عمل کریں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کے بتائے ہوئے راستے پر چلائیں، کیونکہ اسی میں ہماری کامیابی ہے۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 149-153 — انعام
ترجمہ — انعام 151
سورہ انعام آیت 151 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہہ کہ (لوگو) آؤ میں تمہیں وہ چیزیں پڑھ کر…سورہ آیت 151/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 149–153. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








