ترجمہ — Tafsir
﴿وَلَا تَقْرَبُوا مَالَ الْيَتِيمِ﴾
معانی الفاظ:
- الْيَتِيمِ: وہ بچہ جس کا باپ وفات پا چکا ہو اور وہ ابھی بلوغت کو نہ پہنچا ہو۔
- أَشُدَّهُ: بلوغت اور عقل کی پختگی، یعنی جوانی کی طاقت اور سمجھداری کی مکمل عمر۔
- الْقِسْطِ: انصاف اور عدل۔
- وُسْعَهَا: طاقت اور استطاعت کی حد۔
- ذَا قُرْبَىٰ: رشتہ دار اور قریبی عزیز۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے بندوں کو چند اہم ہدایات دے رہا ہے جو معاشرتی انصاف اور اخلاقی بلندی کی بنیاد ہیں۔
پہلی ہدایت: یتیم کے مال کے قریب نہ جانا۔ یتیم وہ معصوم بچہ ہے جس کا باپ چل بسا ہو۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے مال کی حفاظت کا خاص حکم دیا ہے۔ ولی اور سرپرست کو اجازت نہیں کہ وہ یتیم کے مال کو اپنے فائدے کے لیے استعمال کرے، ہاں البتہ اگر وہ اس مال کو اس طرح استعمال کرے جس میں یتیم کا بھلا ہو، جیسے تجارت کرنا اور نفع کو یتیم کے مال میں شامل کرنا، تو یہ جائز ہے۔ یہ اجازت صرف اس وقت تک ہے جب تک یتیم بلوغت کو نہ پہنچ جائے اور اس میں رشد و ہدایت (سمجھداری) نظر نہ آئے۔ جب وہ بالغ اور سمجھدار ہو جائے تو اس کا پورا مال اسے سونپ دینا ضروری ہے۔
دوسری ہدایت: ناپ اور تول میں پورا پورا دینا۔ خرید و فروخت میں جب ناپیں یا تولیں تو انصاف کے ساتھ پورا ناپیں اور پوری تولیں۔ کسی کے ساتھ کمی زیادتی نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا کہ ہم کسی نفس کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے، یعنی اگر کوئی شخص پوری کوشش کرے اور پھر بھی معمولی سی کمی رہ جائے جو اس کے اختیار میں نہ ہو تو اس پر مواخذہ نہیں۔
تیسری ہدایت: بات کرتے وقت عدل کرو۔ جب بھی کوئی بات کہو، چاہے وہ گواہی ہو، فیصلہ ہو، یا مشورہ، تو سچ اور انصاف پر قائم رہو۔ چاہے وہ بات تمہارے قریبی رشتہ دار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ رشتہ داری اور دوستی کو حق کو چھپانے کا ذریعہ نہ بناؤ۔
چوتھی ہدایت: اللہ کے عہد کو پورا کرو۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے جو عہد لیا ہے، جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، اور تمام احکام پر عمل کرنا، ان سب کو پورا کرو۔ نیز جو وعدہ اللہ کے نام پر کرو اسے ضرور پورا کرو۔
آخر میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ تمام احکام وہ ہیں جن کی اس نے تمہیں تاکیدی وصیت کی ہے، تاکہ تم نصیحت حاصل کرو اور ان پر عمل کرتے ہوئے اپنی آخرت سنوار لو۔
دعوتی پہلو:
پیارے مسلمانوں! دیکھیں کہ اسلام کا معاشرتی نظام کتنا اعلیٰ اور مکمل ہے۔ یتیم کی حفاظت، کاروبار میں دیانتداری، بات میں سچائی، اور اللہ کے عہد کی پاسداری — یہ وہ خوبیاں ہیں جو ایک فرد کو بھی عزت دیتی ہیں اور پورے معاشرے کو امن و سکون کا گہوارہ بناتی ہیں۔ جب ہم ان ہدایات پر عمل کریں گے تو نہ صرف ہماری دنیا سنور جائے گی بلکہ آخرت میں بھی ہمیں کامیابی ملے گی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان احکام پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 150-154 — انعام
ترجمہ — انعام 152
سورہ انعام آیت 152 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور یتیم کے مال کے پاس بھی نہ جانا مگر…سورہ آیت 152/165 — انعام الأنعام (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: انعام سنیں, انعام ترجمہ, انعام mp3, انعام pdf. آیت 150–154. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








