Wa`lamooo annamaa ghanimtum min sha`in fa anna lillaahi khumusahoo wa lir Rasooli wa lizil qurba walyataamaa walmasaakeeni wabnis sabeeli in kuntum aamantum billaahi wa maaa anzalnaa `ala `abdinaa yawmal Furqaani yawmaltaqal jam`aan; wal laahu `alaa kulli shai`in Qadeer
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اگر به خدا و آنچه بر بنده خود در روز فرقان كه دو گروه به هم رسيدند نازل كردهايم ايمان آوردهايد، بدانيد كه هرگاه چيزى به غنيمت گرفتيد خمس آن از آن خدا و پيامبر و خويشاوندان و يتيمان و مسكينان و در راه ماندگان است. و خدا به هر چيز تواناست.
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
غَنِمْتُم: جو مال تم نے جنگ میں دشمن سے بزور قوت حاصل کیا۔
خُمُسَهُ: اس کا پانچواں حصہ۔
ذِي الْقُرْبَى: رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ دار (بنی ہاشم اور بنی مطلب)۔
الْيَتَامَى: وہ یتیم بچے جن کے والد فوت ہو چکے ہوں اور وہ مسلمان اور محتاج ہوں۔
ابْنِ السَّبِيل: وہ مسافر جو راستے میں تنگ دست ہو گیا ہو اور اپنے وطن سے دور ہو۔
يَوْمَ الْفُرْقَانِ: وہ دن جب حق و باطل میں فرق کیا گیا، یعنی غزوہ بدر کا دن۔
تفسیر:
اے ایمان والو! یہ حکم سنو اور خوب سمجھ لو کہ جو کچھ بھی تم نے جہاد فی سبیل اللہ میں دشمن سے بطورِ غنیمت حاصل کیا ہے، خواہ وہ تھوڑا ہو یا زیادہ، اس کا پانچواں حصہ (خمس) اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے لیے ہے، اور باقی چار پانچویں حصے ان مجاہدین میں تقسیم ہوں گے جنہوں نے جنگ میں حصہ لیا۔ پھر یہ خمس خود پانچ حصوں میں تقسیم ہوگا: ایک حصہ اللہ اور رسول ﷺ کے لیے جو مسلمانوں کی عمومی بھلائی اور مصالحِ عامہ میں صرف ہوگا، دوسرا حصہ رسول اللہ ﷺ کے قریبی رشتہ داروں (بنی ہاشم اور بنی مطلب) کو دیا جائے گا، کیونکہ ان کے لیے صدقہ حلال نہیں، اس لیے خمس میں سے ان کا حق مقرر کیا گیا۔ تیسرا حصہ یتیموں کے لیے، چوتھا حصہ مساکین اور محتاجوں کے لیے، اور پانچواں حصہ ان مسافروں کے لیے جو راستے میں اپنا مال کھو بیٹھے ہوں یا ان کے پاس سفر جاری رکھنے کے لیے کچھ نہ بچا ہو۔
یہ حکم اس وقت تم پر لازم ہے جب تم حقیقی معنوں میں اللہ پر ایمان رکھتے ہو اور اس پر یقین رکھتے ہو جو کچھ اس نے اپنے بندے محمد ﷺ پر نازل کیا، خاص طور پر اس فیصلہ کن دن جس میں حق کو باطل سے الگ کیا گیا، یعنی غزوہ بدر کا دن جب دو فوجیں آمنے سامنے ہوئیں۔ اس دن اللہ نے اپنے بندے پر فرشتے اتارے، مدد بھیجی اور تمہیں فتح عطا فرمائی، حالانکہ تم تعداد اور اسلحے میں دشمن سے بہت کم تھے۔ یہ اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ وہ قلیل تعداد کو کثیر پر غلبہ دیتا ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے، اس کے لیے کچھ بھی مشکل نہیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مال و دولت کی محبت میں اندھے نہ بنو۔ جب اللہ تمہیں کسی نعمت سے نوازے تو اس کا حق اللہ اور اس کے راستے میں ضرور ادا کرو۔ غنیمت کا یہ نظام اسلام کا وہ عظیم اقتصادی نظام ہے جو امت کے غریب اور محتاج طبقے کا خیال رکھتا ہے، یتیموں کی کفالت کرتا ہے، مسافروں کی مدد کرتا ہے، اور رسول اللہ ﷺ کے خاندان کی عزت و تکریم کو برقرار رکھتا ہے۔ یہ محض ایک مالی حکم نہیں بلکہ ایمان کی آزمائش ہے۔ جس طرح بدر کے دن اللہ نے اپنے بندوں کی مدد کی اور انہیں عزت دی، اسی طرح آج بھی اگر ہم اللہ کے احکام پر پورا اتر آئیں تو وہ ہمیں عزت دے گا اور ہر مشکل سے نکالے گا۔ اللہ کی قدرت کا اندازہ کرو کہ اس نے کم تر تعداد کو فتح دی، تو کیا وہ تمہاری مشکلات کو حل نہیں کر سکتا؟ بس شرط یہ ہے کہ ایمان کو صرف زبان تک محدود نہ رکھو بلکہ اسے عمل سے ثابت کرو۔
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے
اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔