اور اگر روگردانی کریں تو جان رکھو کہ خدا تمہارا حمایتی ہے۔ (اور) وہ خوب حمایتی اور خوب مددگار ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
تَوَلَّوْا: منہ پھیر لیں، یعنی ایمان سے اور آپ کی اطاعت سے روگردانی کریں۔
مَوْلَاكُمْ: آپ کا مددگار، حامی اور سرپرست۔
نِعْمَ الْمَوْلَىٰ: کیا ہی اچھا سرپرست ہے۔
نَصِيرُ: مددگار، نصرت کرنے والا۔
تفسیر:
اے ایمان والو! اگر یہ مشرکین اور کافر تمہاری دعوتِ حق سے منہ موڑ لیں، اور ایمان لانے اور تمہارے ساتھ جنگ بندی کرنے سے انکار کر دیں، بلکہ کفر اور تمہارے خلاف لڑائی پر اصرار کریں، تو پھر تم یقین رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمہارا مولیٰ اور کارساز ہے۔ وہ تمہاری حفاظت کرنے والا، تمہاری مدد کرنے والا اور تمہیں دشمنوں پر غلبہ دینے والا ہے۔ وہ کیا ہی عمدہ مولیٰ ہے! جو شخص اس کی ولایت حاصل کر لے، وہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ اور وہ کیا ہی بہترین مددگار ہے! جو اس کی نصرت پر بھروسہ کرے، وہ کبھی مغلوب نہیں ہوتا۔
یہ آیت مومنین کے دلوں کو مضبوط کرتی ہے اور انہیں یقین دلاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے بندوں کے ساتھ ہے۔ جب تک تم اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہو گے، وہ تمہارا حامی و ناصر رہے گا۔ چاہے دنیا کی ساری طاقتیں تمہارے خلاف جمع ہو جائیں، اللہ کی مدد تمہارے ساتھ ہو تو کوئی طاقت تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔
یہ وعدہ صرف اس امت کے لیے نہیں تھا بلکہ آج بھی ہر وہ مسلمان جو اللہ کی راہ میں اخلاص کے ساتھ جدوجہد کرتا ہے، اللہ کی نصرت کا مستحق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں سے محبت کا یہ عظیم اظہار فرمایا ہے کہ وہ خود ان کا سرپرست اور مددگار بن گیا ہے۔ کیا اس سے بڑی سعادت اور کوئی ہو سکتی ہے؟ پس اے مسلمان! اللہ پر بھروسہ رکھ، اس کی راہ میں ثابت قدم رہ، اور یقین رکھ کہ اللہ تیرے ساتھ ہے۔ وہ تجھے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا، وہ تیرا مولیٰ ہے اور وہی بہترین مددگار ہے۔
(اے پیغمبر) کفار سے کہہ دو کہ اگر وہ اپنے افعال سے باز آجائیں تو جو ہوچکا وہ انہیں معاف کردیا جائے گا۔ اور اگر پھر (وہی حرکات) کرنے لگیں گے تو اگلے لوگوں کا (جو) طریق جاری ہوچکا ہے (وہی ان کے حق میں برتا جائے گا)
اور ان لوگوں سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ (یعنی کفر کا فساد) باقی نہ رہے اور دین سب خدا ہی کا ہوجائے اور اگر باز آجائیں تو خدا ان کے کاموں کو دیکھ رہا ہے
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔