Iz antum bil`udwatid dunyaa wa hum bil`udwatil quswaa warrakbu asfala minkum; wa law tawaa`attum lakhtalaftum fil mee`aadi wa laakil liyaqdiyal laahu amran kaana maf`oolal liyahlika man halaka `am baiyinatinw wa yahyaa man haiya `am baiyinah; wa innal laaha la Samee`un `Aleem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
شما در كرانه نزديكتر بيابان بوديد و آنها در كرانه دورتر بودند و آن قافله در مكانى فروتر از شما بود. اگر شما با يكديگر زمان جنگ را تعيين مىكرديد باز هم از آن تخلف مىورزيديد تا كارى كه خدا مقرر كرده است واقع شود، تا هر كه هلاك مىشود به دليلى هلاك شود و هر كه زنده مىماند به دليلى زنده ماند. هرآينه خدا شنوا و داناست.
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْعُدْوَةِ الدُّنْيَا: وادی کے قریب والے کنارے کو کہتے ہیں، یعنی مدینہ کی طرف والا کنارہ۔
الْعُدْوَةِ الْقُصْوَىٰ: وادی کے دور والے کنارے کو کہتے ہیں، یعنی مکہ کی طرف والا کنارہ۔
الرَّكْبُ: قافلہ، یہاں مراد ابوسفیان کا تجارتی قافلہ ہے۔
أَسْفَلَ مِنكُمْ: تم سے نیچے کی طرف، یعنی سمندر کے کنارے کی طرف۔
بَيِّنَةٍ: واضح دلیل اور حجت۔
تفسیر آیت:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو غزوہ بدر کے وقت اپنے فضل و کرم کی یاد دلاتا ہے۔ وہ وقت یاد کرو جب تم لوگ وادی کے اس کنارے پر تھے جو مدینہ کے قریب تھا، اور کفار مکہ اس وادی کے دوسرے کنارے پر تھے جو مکہ کی طرف تھا۔ ابوسفیان کا تجارتی قافلہ تم سے نیچے سمندر کے کنارے کی طرف تھا۔ یہ سب کچھ اللہ کی مشیت سے اس طرح ترتیب دیا گیا تھا۔
اگر تم آپس میں پہلے سے کوئی وعدہ کرتے کہ فلاں وقت فلاں جگہ مل کر جنگ کریں گے، تو تمہارے اور کفار کے درمیان اختلاف ہو جاتا اور تم ایک جگہ جمع نہ ہو پاتے۔ لیکن اللہ نے تمہیں بغیر کسی پہلے وعدے کے اس میدان میں جمع کر دیا، تاکہ وہ اپنا وہ فیصلہ پورا کرے جو اس نے پہلے ہی لکھ دیا تھا۔ یہ فیصلہ تھا اپنے نیک بندوں کی مدد کرنا اور اپنے دشمنوں کو ذلیل و خوار کرنا۔
یہ سب کچھ اس لیے ہوا تاکہ جو شخص ہلاک ہو وہ دلیل اور حجت واضح ہونے کے بعد ہلاک ہو، اور جو زندہ رہے وہ بھی دلیل اور حجت واضح ہونے کے بعد زندہ رہے۔ یعنی بدر کا معرکہ ایک کھلی نشانی بن گیا جس نے حق کو باطل سے الگ کر دیا۔ جو ایمان لایا اس نے بصیرت کے ساتھ ایمان قبول کیا، اور جو کفر پر قائم رہا اس نے جان بوجھ کر حق کا انکار کیا۔ اللہ تعالیٰ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے، وہ تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے اور تمہارے دلوں کے حال سے واقف ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ مسلمانوں کی تعداد کم تھی، ہتھیار کم تھے، لیکن اللہ نے انہیں فتح عظیم عطا کی۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے اور اپنے دین کی سربلندی کے لیے کوشش کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جب وہ اس کی راہ میں خلوص سے نکلتے ہیں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ حق و باطل کا فرق ہمیشہ واضح ہوتا ہے، اور اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر حجت قائم کرتا ہے تاکہ کوئی شخص قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکے کہ مجھے علم نہیں تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن کی ان نشانیوں پر غور کریں اور اپنے ایمان کو مضبوط کریں۔
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے
اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے
اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔