Lillazeenas tajaaboo lirabbihimul husnaa; wallazeena lam yastajeeboo lahoo law anna lahum maa fil ardi jamee`anw wa mislahoo ma`ahoo laftadaw bih; ulaaa`ika lahum sooo`ul hisaab; wa maawaahum Jahannamu wa bi`sal mihaad
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
براى آنان كه دعوت پروردگارشان را پذيرفتند پاداش نيكويى است. و كسانى كه دعوت او را نپذيرفتهاند، اگر هر آنچه را كه بر روى زمين است و همانند آن را داشته باشند، آن را فدا دهند. آنان به سختى بازخواست خواهند شد و مكانشان جهنّم است و بد جايگاهى است.
جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
اسْتَجَابُوا: قبول کیا، لبیک کہا، حکم مانا۔
الْحُسْنَىٰ: بہترین جزا، یعنی جنت۔
لَافْتَدَوْا بِهِ: اسے اپنے بدلے میں فدیہ دے ڈالیں۔
سُوءُ الْحِسَابَ: سخت حساب، جس میں کوئی رعایت نہ ہو۔
مِهَادَ: بچھونا، فرش، آرام گاہ۔
تفسیر:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت مومن اور کافر کے انجام کو اس قدر واضح انداز میں بیان کرتی ہے کہ دل لرز جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں نے اپنے رب کی پکار پر لبیک کہا، اُس کی توحید کو قبول کیا، اُس کے رسول کی اطاعت کی اور اپنی زندگیاں اُس کے حکم کے مطابق ڈھال لیں، اُن کے لیے "الحسنى" ہے یعنی ہر قسم کی بھلائی، جنت کی نعمتیں، اللہ کی رضا اور اُس کا دیدار — یہ سب کچھ اُن کا انتظار کر رہا ہے۔ یہ اُس عظیم انعام کا وعدہ ہے جو آنکھوں نے نہ دیکھا، کانوں نے نہ سنا اور کسی انسان کے دل میں نہیں آیا۔
اس کے برعکس، جن لوگوں نے اپنے رب کی دعوت کو ٹھکرا دیا، اُن کا حال کیا ہوگا؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر اُن کے پاس روئے زمین کی ساری دولت ہو اور اُتنی ہی اور بھی، تو وہ قیامت کے دن اُسے اپنے بدلے میں فدیہ دے کر عذاب سے بچنا چاہیں گے — لیکن یہ فدیہ ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا۔ وہ ساری دولت، وہ سارا خزانہ، اُس دن اُن کے کسی کام نہ آئے گا۔ یہ کتنی بڑی حسرت اور ندامت کا مقام ہوگا کہ انسان اپنی ساری کمائی دے کر بھی اپنے آپ کو نہ بچا سکے۔
پھر فرمایا کہ "اُن کا حساب بہت سخت ہوگا" — یعنی اُن سے ہر چھوٹے بڑے گناہ کا مواخذہ ہوگا، کوئی معافی نہیں، کوئی رعایت نہیں۔ اور اُن کا ٹھکانا جہنم ہے، جو اُن کے لیے بدترین بچھونا ہے۔ ذرا تصور کیجئے — جس فرش پر انسان آرام کرتا ہے، وہ کیسا ہو؟ جہنم کا فرش آگ کا ہوگا، اُن کے لیے نیند بھی عذاب بن جائے گی۔
دعوتی پہلو:
میرے پیارے بھائیو! یہ آیت ہمیں دو راستے دکھاتی ہے — ایک راستہ اطاعت کا جو جنت تک پہنچاتا ہے، اور دوسرا راستہ سرکشی کا جو جہنم تک لے جاتا ہے۔ آج ہماری زندگی میں یہی امتحان ہے کہ ہم کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ اللہ نے ہمیں عقل دی، قرآن دیا، رسول بھیجا — یہ سب اسی لیے کہ ہم سیدھے راستے پر چلیں۔ آج اگر ہم اپنے رب کی طرف متوجہ ہو جائیں، اُس کے حکموں کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، تو یہی وہ لمحہ ہے جو ہماری تقدیر بدل سکتا ہے۔ اللہ کے وعدے سچے ہیں — اُس نے جنت کا وعدہ مومنوں سے کیا ہے اور وہ کبھی اپنا وعدہ نہیں توڑتا۔ آئیے ہم اُس رب کی پکار پر لبیک کہیں، اُس کی رحمت کے سائے میں آ جائیں، اور اُس عظیم کامیابی کو حاصل کریں جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اللہ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین!
ان سے پوچھو کہ آسمانوں اور زمین کا پروردگار کون ہے؟ (تم ہی ان کی طرف سے) کہہ دو کہ خدا۔ پھر (ان سے) کہو کہ تم نے خدا کو چھوڑ کر ایسے لوگوں کو کیوں کارساز بنایا ہے جو خود اپنے نفع ونقصان کا بھی اختیار نہیں رکھتے (یہ بھی) پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہیں؟ یا اندھیرا اور اُجالا برابر ہوسکتا ہے؟ بھلا ان لوگوں نے جن کو خدا کا شریک مقرر کیا ہے۔ کیا انہوں نے خدا کی سی مخلوقات پیدا کی ہے جس کے سبب ان کو مخلوقات مشتبہ ہوگئی ہے۔ کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے
اسی نے آسمان سے مینہ برسایا پھر اس سے اپنے اپنے اندازے کے مطابق نالے بہہ نکلے پھر نالے پر پھولا ہوا جھاگ آگیا۔ اور جس چیز کو زیور یا کوئی اور سامان بنانے کے لیے آگ میں تپاتے ہیں اس میں بھی ایسا ہی جھاگ ہوتا ہے۔ اس طرح خدا حق اور باطل کی مثال بیان فرماتا ہے۔ سو جھاگ تو سوکھ کر زائل ہو جاتا ہے۔ اور (پانی) جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتا ہے وہ زمین میں ٹھہرا رہتا ہے۔ اس طرح خدا (صحیح اور غلط کی) مثالیں بیان فرماتا ہے (تاکہ تم سمجھو)
جن لوگوں نے خدا کے حکم کو قبول کیا ان کی حالت بہت بہتر ہوگی۔ اور جنہوں نے اس کو قبول نہ کیا اگر روئے زمین کے سب خزانے ان کے اختیار میں ہوں تو وہ سب کے سب اور ان کے ساتھ اتنے ہی اور (نجات کے) بدلے میں صرف کرڈالیں (مگر نجات کہاں؟) ایسے لوگوں کا حساب بھی برا ہوگا۔ اور ان کا ٹھکانا بھی دوزخ ہے۔ اور وہ بری جگہ ہے
بھلا جو شخص یہ جانتا ہے کہ جو کچھ تمہارے پروردگار کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے حق ہے وہ اس شخص کی طرح ہے جو اندھا ہے اور سمجھتے تو وہی ہیں جو عقلمند ہیں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔