ترجمہ — Tafsir
لیس البر أن تولوا وجوہکم قبل المشرق والمغرب ولکن البر من آمن باللہ والیوم الآخر والملائکۃ والکتاب والنبیین وآتی المال علی حبہ ذوی القربیٰ والیتامیٰ والمساکین وابن السبیل والسائلین وفی الرقاب وأقام الصلاۃ وآتی الزکاۃ والموفون بعهدہم إذا عاہدوا والصابرین فی البأساء والضراء وحین البأس أولٰئک الذین صدقوا وأولٰئک ہم المتقون
معانی الفاظ:
- البر: نیکی، بھلائی، خیر کا وہ عمل جو انسان کو جنت تک پہنچائے۔
- تولوا: پھیرنا، رخ کرنا۔
- قبل: سمت، جانب۔
- ذوی القربیٰ: قریبی رشتہ دار۔
- ابن السبیل: مسافر جو راستے میں پھنس گیا ہو اور اپنے گھر سے دور ہو۔
- السائلین: مانگنے والے، حاجت مند۔
- الرقاب: گردنیں، مراد غلاموں اور قیدیوں کو آزاد کرنا۔
- البأساء: سختی، فقر، تنگی۔
- الضراء: بیماری، تکلیف۔
- حین البأس: جنگ کے وقت، لڑائی کی شدت۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں بتا رہے ہیں کہ نیکی کا اصل معیار صرف قبلہ کی طرف منہ کرنا نہیں ہے، جیسا کہ کچھ لوگ سمجھتے تھے کہ مشرق یا مغرب کی طرف نماز پڑھنا ہی نیکی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیکی تو وہ ہے جو انسان کے دل اور اعمال دونوں کو خوبصورت بنائے۔
نیکی کا پہلا رکن ایمان ہے: اللہ پر ایمان لانا کہ وہی اکیلا معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔ آخرت کے دن پر یقین رکھنا کہ ہمیں مرنے کے بعد زندہ ہو کر اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ فرشتوں پر ایمان لانا، اللہ کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان لانا، اور تمام انبیاء علیہم السلام پر ایمان لانا، بغیر کسی فرق کے۔
دوسرا رکن عمل ہے: اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، حالانکہ انسان کو اپنے مال سے محبت ہوتی ہے۔ یہ خرچ کرنا چاہیے رشتہ داروں پر، یتیموں پر، مسکینوں پر، مسافروں پر جو راستے میں رک گئے ہوں، مانگنے والوں پر، اور غلاموں اور قیدیوں کو آزاد کرنے پر۔ نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا بھی نیکی کا حصہ ہے۔
تیسرا رکن عہد و پیمان کی پاسداری ہے: جب کوئی وعدہ کرے تو اسے پورا کرے، چاہے وہ اللہ سے وعدہ ہو یا لوگوں سے۔
چوتھا رکن صبر ہے: فقر اور تنگی پر صبر کرنا، بیماری اور تکلیف پر صبر کرنا، اور جنگ کے وقت صبر کرنا اور ثابت قدم رہنا۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان میں سچائی دکھائی، اور یہی لوگ حقیقی متقی ہیں جنہوں نے اللہ کے حکموں پر عمل کیا اور اس کی نافرمانیوں سے بچے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام صرف ظاہری رسومات کا نام نہیں، بلکہ یہ دل کی پاکیزگی، اللہ سے محبت، اور مخلوق کے ساتھ حسن سلوک کا نام ہے۔ ہم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کرے، اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرے، اپنے وعدوں کو پورا کرے، اور مصیبتوں میں صبر کرے۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں اللہ کی رحمت اور جنت تک پہنچائے گا۔ اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 175-179 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 177
سورہ بقرہ آیت 177 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : نیکی یہی نہیں کہ تم مشرق یا مغرب کو (قبلہ…سورہ آیت 177/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 175–179. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








