ترجمہ — Tafsir
أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ...
معانی الفاظ:
- الْمَلَإِ: قوم کے معزز اور سردار لوگ، رائے والے اور بڑے آدمی۔
- ابْعَثْ لَنَا: ہمارے لیے مقرر کرو، منتخب کرو۔
- هَلْ عَسَيْتُمْ: کیا امید ہے کہ تم...، یعنی کیا تم سے یہ توقع کی جا سکتی ہے۔
- كُتِبَ عَلَيْكُمُ: تم پر فرض کیا گیا۔
- تَوَلَّوْا: منہ موڑ لیا، پیٹھ پھیر لی۔
تفسیر:
اے نبی! کیا تمہیں بنی اسرائیل کے ان معزز اور سردار لوگوں کا حال معلوم نہیں ہوا جو موسیٰ علیہ السلام کے بعد کے زمانے میں تھے؟ انہوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کرو تاکہ ہم اس کی قیادت میں اللہ کی راہ میں جہاد کریں۔ ان کا یہ مطالبہ بظاہر بہت اچھا تھا، لیکن ان کا نبی ان کے حال سے واقف تھا، اس لیے اس نے ان سے کہا: کیا تمہیں اندیشہ نہیں کہ اگر تم پر جہاد فرض کر دیا گیا تو تم جہاد نہیں کرو گے؟ یعنی تمہارے دعوے اور تمہاری حقیقت میں فرق ہے۔
اس پر انہوں نے حیرت سے کہا: ہمیں کون سی چیز اللہ کی راہ میں جہاد سے روک سکتی ہے، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا اور ہمارے بچوں سے جدا کر دیا گیا؟ وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے پاس جہاد کا سب سے بڑا محرک موجود ہے — وطن سے بے دخلی اور اولاد کی جدائی۔ یہ سن کر ان کا نبی خاموش ہو گیا۔
پھر جب اللہ نے ان پر جہاد فرض کر دیا اور ان کے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دیا، تو انہوں نے وعدہ خلافی کی اور جہاد سے منہ موڑ لیا، سوائے ان چند لوگوں کے جو سچے دل سے ایمان لائے تھے اور ثابت قدم رہے۔ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے جنہوں نے اپنے وعدے توڑے اور اللہ کے حکم سے روگردانی کی، اور وہ انہیں ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔
موعظت اور دعوت:
اس واقعہ میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ کتنے لوگ ہیں جو زبان سے جہاد اور قربانی کے دعوے کرتے ہیں، لیکن جب حقیقی موقع آتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے قول اور فعل میں مطابقت رکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں کا حال جانتا ہے، وہ دیکھتا ہے کہ ہم سچے ہیں یا جھوٹے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ جہاد اور اللہ کی راہ میں قربانی صرف الفاظ کا معاملہ نہیں، بلکہ جان و مال سے عملی حصہ لینے کا نام ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں سے محبت کرتا ہے جو سچے دل سے اس کی راہ میں لڑتے ہیں اور ثابت قدم رہتے ہیں۔ آئیے ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ سے سچا عہد کریں کہ جب بھی حق کی خاطر قربانی کا موقع آئے گا، ہم پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 244-248 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 246
سورہ بقرہ آیت 246 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں…سورہ آیت 246/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 244–248. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








