بقرہ · 245/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ ۝٢٤٥
Man zal lazee yuqridul laaha qardan hasanan fayudaa `ifahoo lahoo ad`aafan kaseerah; wallaahu yaqbidu wa yabsut-u wa ilaihi turja`oon
📖 اردو ترجمہ
کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یُقْرِضُ اللہَ قَرْضًا حَسَنًا: اللہ کو قرض دینا یعنی اپنا مال اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، اس نیت سے کہ اس کا اجر اللہ سے ملے گا۔
  • فَیُضَاعِفَهُ: تو اللہ اسے کئی گنا بڑھا دے گا۔
  • اَضْعَافًا کَثِیرَةً: بے شمار اور بہت زیادہ گنا۔
  • یَقْبِضُ: تنگی کرتا ہے (رزق میں
  • یَبْسُطُ: کشادگی دیتا ہے (رزق میں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ایک عظیم دعوت دے رہا ہے اور فرماتا ہے: کون ہے جو اللہ کو قرضِ حسنہ دے؟ یعنی اپنے مال میں سے خلوصِ نیت اور پاک دل سے اللہ کی راہ میں خرچ کرے، بغیر کسی ریا اور دکھاوے کے، صرف اللہ کی رضا کے لیے۔ اللہ تعالیٰ اس قرض کو قبول فرماتا ہے اور اس کا بدلہ اتنا بڑھا کر دیتا ہے کہ اس کا شمار کرنا ممکن نہیں۔ ایک نیکی دس گنا سے سات سو گنا تک بڑھائی جاتی ہے، بلکہ اللہ جسے چاہتا ہے اس سے بھی زیادہ عطا فرماتا ہے۔

یہ اللہ کی بے پناہ رحمت اور کرم ہے کہ وہ خود مالدار اور بے نیاز ہے، پھر بھی اپنے بندوں کو اس بات کی ترغیب دیتا ہے کہ وہ اسے قرض دیں، حالانکہ اصل میں سارا مال اسی کا ہے۔ یہ دراصل بندے کی اپنی بھلائی کے لیے ہے، کیونکہ جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، وہ حقیقت میں اپنے لیے ذخیرہ کرتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ ہی رزق میں تنگی اور کشادگی کرتا ہے۔ وہ جسے چاہتا ہے تنگی دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کشادگی عطا فرماتا ہے۔ یہ اس کی حکمت اور عدل پر مبنی ہے۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ رزق کی کمی کے ڈر سے اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے نہ رکے، کیونکہ رزق دینے والا صرف اللہ ہے۔ وہ جسے چاہے کم دے اور جسے چاہے زیادہ۔

آخر میں اللہ تعالیٰ یاد دلاتا ہے کہ تم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ موت کے بعد قیامت کے دن تم سب اسی کے سامنے حاضر ہو گے، اور وہ تمہارے اعمال کا مکمل بدلہ دے گا۔ جو نیکی کرے گا، اسے اس کا اجر ملے گا اور جو برائی کرے گا، اسے اس کا انجام بھگتنا پڑے گا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت مسلمانوں کے دلوں میں سخاوت اور فیاضی کا جذبہ پیدا کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کو ایک ایسا موقع دیا ہے کہ وہ اپنے مال کو اللہ کے نام پر خرچ کریں اور اس کے بدلے میں بے حساب اجر حاصل کریں۔ یہ وہ تجارت ہے جو کبھی خسارے میں نہیں ہوتی۔ اللہ نے وعدہ فرمایا ہے کہ وہ اس قرض کو کئی گنا بڑھا کر واپس کرے گا۔ کون سا عاقل شخص ایسی نفع بخش تجارت سے محروم رہنا چاہے گا؟ آئیے ہم سب اس دعوت پر لبیک کہیں اور اپنے مال میں سے اللہ کی راہ میں خرچ کریں، تاکہ دنیا میں بھی برکت حاصل ہو اور آخرت میں بھی کامیابی نصیب ہو۔ یاد رکھیں، جو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، اللہ اسے کبھی محروم نہیں رکھتا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 243-247 — بقرہ

243۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ خَرَجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ أُلُوفٌ حَذَرَ الْمَوْتِ فَقَالَ لَهُمُ اللَّهُ مُوتُوا ثُمَّ أَحْيَاهُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَذُو فَضْلٍ عَلَى النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَشْكُرُونَ
بھلا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جو (شمار میں) ہزاروں ہی تھے اور موت کے ڈر سے اپنے گھروں سے نکل بھاگے تھے۔ تو خدا نے ان کو حکم دیا کہ مرجاؤ۔ پھر ان کو زندہ بھی کردیا۔ کچھ شک نہیں کہ خدا لوگوں پر مہربانی رکھتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ شکر نہیں کرتے
244وَقَاتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ
اور (مسلمانو) خدا کی راہ میں جہاد کرو اور جان رکھو کہ خدا (سب کچھ) جانتا ہے
245مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً ۚ وَاللَّهُ يَقْبِضُ وَيَبْسُطُ وَإِلَيْهِ تُرْجَعُونَ
کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ اس کے بدلے اس کو کئی حصے زیادہ دے گا۔ اور خدا ہی روزی کو تنگ کرتا اور (وہی اسے) کشادہ کرتا ہے۔ اور تم اسی کی طرف لوٹ کر جاؤ گے
246أَلَمْ تَرَ إِلَى الْمَلَإِ مِن بَنِي إِسْرَائِيلَ مِن بَعْدِ مُوسَىٰ إِذْ قَالُوا لِنَبِيٍّ لَّهُمُ ابْعَثْ لَنَا مَلِكًا نُّقَاتِلْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۖ قَالَ هَلْ عَسَيْتُمْ إِن كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِتَالُ أَلَّا تُقَاتِلُوا ۖ قَالُوا وَمَا لَنَا أَلَّا نُقَاتِلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَقَدْ أُخْرِجْنَا مِن دِيَارِنَا وَأَبْنَائِنَا ۖ فَلَمَّا كُتِبَ عَلَيْهِمُ الْقِتَالُ تَوَلَّوْا إِلَّا قَلِيلًا مِّنْهُمْ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ بِالظَّالِمِينَ
بھلا تم نے بنی اسرائیل کی ایک جماعت کو نہیں دیکھا جس نے موسیٰ کے بعد اپنے پیغمبر سے کہا کہ آپ ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردیں تاکہ ہم خدا کی راہ میں جہاد کریں۔ پیغمبر نے کہا کہ اگر تم کو جہاد کا حکم دیا جائے تو عجب نہیں کہ لڑنے سے پہلو تہی کرو۔ وہ کہنے لگے کہ ہم راہ خدا میں کیوں نہ لڑیں گے جب کہ ہم وطن سے (خارج) اور بال بچوں سے جدا کردیئے گئے۔ لیکن جب ان کو جہاد کا حکم دیا گیا تو چند اشخاص کے سوا سب پھر گئے۔ اور خدا ظالموں سے خوب واقف ہے
247وَقَالَ لَهُمْ نَبِيُّهُمْ إِنَّ اللَّهَ قَدْ بَعَثَ لَكُمْ طَالُوتَ مَلِكًا ۚ قَالُوا أَنَّىٰ يَكُونُ لَهُ الْمُلْكُ عَلَيْنَا وَنَحْنُ أَحَقُّ بِالْمُلْكِ مِنْهُ وَلَمْ يُؤْتَ سَعَةً مِّنَ الْمَالِ ۚ قَالَ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَاهُ عَلَيْكُمْ وَزَادَهُ بَسْطَةً فِي الْعِلْمِ وَالْجِسْمِ ۖ وَاللَّهُ يُؤْتِي مُلْكَهُ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ
اور پیغمبر نے ان سے (یہ بھی) کہا کہ خدا نے تم پر طالوت کو بادشاہ مقرر فرمایا ہے۔ وہ بولے کہ اسے ہم پر بادشاہی کا حق کیونکر ہوسکتا ہےبادشاہی کے مستحق تو ہم ہیں اور اس کے پاس تو بہت سی دولت بھی نہیں۔ پیغمبر نے کہا کہ خدا نےاس کو تم پر فضیلت دی ہے اور (بادشاہی کے لئے) منتخب فرمایا ہے اس نے اسے علم بھی بہت سا بخشا ہے اور تن و توش بھی (بڑا عطا کیا ہے) اور خدا (کو اختیار ہے) جسے چاہے بادشاہی بخشے۔ وہ بڑا کشائش والا اور دانا ہے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
245آیت

ترجمہ — بقرہ 245

سورہ بقرہ آیت 245 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کوئی ہے کہ خدا کو قرض حسنہ دے کہ وہ…

سورہ آیت 245/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 243–247. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں