اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام کی نافرمانی کرنے والوں کے انجام کو بیان فرمایا ہے۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی کرے، یعنی اللہ کے مقرر کردہ احکام کو ماننے سے انکار کرے، ان پر عمل نہ کرے، یا ان میں شک کرے، اور اللہ کی مقرر کردہ حدود سے تجاوز کرے یعنی حلال کو حرام اور حرام کو حلال قرار دے، یا اللہ کے احکام کو بدلنے کی کوشش کرے، تو اس کے لیے سخت وعید ہے۔ ایسا شخص جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا جہاں وہ ہمیشہ رہے گا، اور اس کے لیے ذلت آمیز عذاب ہوگا جو اسے رسوا کرے گا۔
یہ آیت اللہ کے احکام کی اہمیت کو واضح کرتی ہے کہ اللہ نے جو حدود مقرر کی ہیں وہ بندوں کی مصلحت کے لیے ہیں، ان کی خلاف ورزی کرنا انسان کے اپنے نقصان کا باعث ہے۔ اللہ تعالیٰ رحیم و کریم ہے، اس نے اپنے بندوں پر احسان فرماتے ہوئے واضح احکام دیے ہیں تاکہ وہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہوں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کے احکام پر عمل کرنا ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر ظلم نہیں کیا، بلکہ انہیں راہ ہدایت دکھائی ہے۔ جو شخص ان احکام پر عمل کرے گا، وہ جنت کی نعمتوں سے ہمیشہ کے لیے سرفراز ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کے احکام کو اپنی زندگی میں نافذ کریں، ان کی حفاظت کریں، اور ان سے تجاوز نہ کریں۔ اللہ کی رحمت بہت وسیع ہے، لیکن اس کی پکڑ بھی بہت سخت ہے۔ آئیے ہم اپنے خالق کے احکام کو اپنے لیے باعث نجات بنائیں اور اس کی نافرمانی سے بچیں، کیونکہ آخرت کا عذاب بہت ہی شدید اور ذلت والا ہے۔ اللہ ہمیں اپنی اطاعت کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اور جو مال تمہاری عورتیں چھوڑ مریں۔ اگر ان کے اولاد نہ ہو تو اس میں نصف حصہ تمہارا۔ اور اگر اولاد ہو تو ترکے میں تمہارا حصہ چوتھائی۔ (لیکن یہ تقسیم) وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو انہوں نے کی ہو یا قرض کے (ادا ہونے کے بعد جو ان کے ذمے ہو، کی جائے گی) اور جو مال تم (مرد) چھوڑ مرو۔ اگر تمہارے اولاد نہ ہو تو تمہاری عورتوں کا اس میں چوتھا حصہ۔ اور اگر اولاد ہو تو ان کا آٹھواں حصہ (یہ حصے) تمہاری وصیت (کی تعمیل) کے بعد جو تم نے کی ہو اور (ادائے) قرض کے (بعد تقسیم کئے جائیں گے) اور اگر ایسے مرد یا عورت کی میراث ہو جس کے نہ باپ ہو نہ بیٹا مگر اس کے بھائی بہن ہو تو ان میں سے ہر ایک کا چھٹا حصہ اور اگر ایک سے زیادہ ہوں تو سب ایک تہائی میں شریک ہوں گے (یہ حصے بھی ادائے وصیت و قرض بشرطیکہ ان سے میت نے کسی کا نقصان نہ کیا ہو (تقسیم کئے جائیں گے) یہ خدا کا فرمان ہے۔ اور خدا نہایت علم والا (اور) نہایت حلم والا ہے
(یہ تمام احکام) خدا کی حدیں ہیں۔ اور جو شخص خدا اور اس کے پیغمبر کی فرمانبرداری کرے گا خدا اس کو بہشتوں میں داخل کرے گا جن میں نہریں بہہ رہی ہیں وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اور یہ بڑی کامیابی ہے
مسلمانو تمہاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی شہادت لو۔ اگر وہ (ان کی بدکاری کی) گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کردے یا خدا ان کے لئے کوئی اور سبیل (پیدا) کرے
اور جو دو مرد تم میں سے بدکاری کریں تو ان کو ایذا دو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نیکوکار ہوجائیں تو ان کا پیچھا چھوڑ دو۔ بےشک خدا توبہ قبول کرنے والا (اور) مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔