ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سُعِدُوا: جن لوگوں کو اللہ نے سعادت عطا فرمائی، یعنی ایمان اور نیک اعمال کی توفیق دی۔
- مَا دَامَتِ السَّمَاوَاتُ وَالْأَرْضُ: جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، یعنی ہمیشہ کے لیے۔
- إِلَّا مَا شَاءَ رَبُكَ: مگر جو اللہ چاہے، یعنی اس استثنا سے مراد عاصی مومنین ہیں۔
- عَطَاءً غَيْرَ مَجْذُوذٍ: ایسا عطیہ جو کبھی منقطع نہ ہو، نہ ختم ہونے والا تحفہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہلِ جنت کے انجام کو بیان فرما رہے ہیں۔ جن لوگوں کو اللہ نے سعادت عطا فرمائی، یعنی جو ایمان لائے اور نیک اعمال کیے، ان کا انجام جنت ہے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، جب تک آسمان اور زمین قائم ہیں، یعنی ان کا قیام ابدی اور لازوال ہوگا۔
البتہ اس میں ایک استثنا ہے: "إِلَّا مَا شَاءَ رَبُكَ" یعنی مگر جو اللہ چاہے۔ اس سے مراد وہ عاصی مومنین ہیں جنہوں نے توحید پر ایمان تو رکھا لیکن گناہوں میں مبتلا رہے۔ وہ ایک مدت تک جہنم میں رہیں گے، پھر اللہ کے فضل و رحمت سے انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ یہ استثنا دراصل اللہ کی رحمت کا اظہار ہے کہ وہ جسے چاہے معاف فرمائے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ عطا "غیر مجذوذ" ہے، یعنی ایسا عطیہ جو کبھی منقطع نہ ہوگا، نہ ختم ہوگا اور نہ گھٹے گا۔ جنت کی نعمتیں ہمیشہ رہنے والی ہیں، ان میں کوئی کمی نہیں آئے گی اور نہ وہ ختم ہوں گی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کے لیے ایسی خوشخبری سنائی ہے جو دل کو گرما دیتی ہے۔ جنت کی نعمتیں صرف عارضی نہیں، بلکہ ابدی اور لازوال ہیں۔ یہ اللہ کا وہ عظیم فضل ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لیے تیار کیا ہے۔ اگر ہم ایمان اور نیک اعمال پر ثابت قدم رہیں تو یہی ہمارا انجام ہوگا۔ اللہ کی رحمت بےپایاں ہے، وہ چاہتا ہے کہ ہم اس کی طرف رجوع کریں، اپنے گناہوں سے توبہ کریں اور اس کی اطاعت میں زندگی گزاریں تاکہ اس ابدی نعمت سے بہرہ مند ہوں۔ یہ وہ کامیابی ہے جس کے بعد کوئی ناکامی نہیں، اور وہ نعمت ہے جس کے بعد کوئی محرومی نہیں۔
📜 آیت 106-110 — ہود
ترجمہ — ہود 108
سورہ ہود آیت 108 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جو نیک بخت ہوں گے، وہ بہشت میں داخل…سورہ آیت 108/123 — ہود هود (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ہود سنیں, ہود ترجمہ, ہود mp3, ہود pdf. آیت 106–110. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








