بقرہ · 145/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ ۝١٤٥
Wa la`in ataital lazeena ootul kitaaba bikulli aayatim maa tabi`oo Qiblatak; wa maaa anta bitaabi`in Qiblatahum; wa maa ba`duhum bitaabi``in Qiblata ba`d; wa la`init taba`ta ahwaaa;ahum mim ba`di maa jaaa`aka minal `ilmi innaka izal laminaz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آیت: معجزہ، نشانی، دلیل اور برہان۔
  • قبلت: وہ سمت جس کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی جائے۔
  • اہواء: خواہشات، نفسانی خواہشیں، من مانی باتیں۔
  • علم: یقینی اور قطعی علم جو اللہ کی طرف سے آیا۔
  • ظالمین: ظلم کرنے والے، حق کو چھوڑ کر باطل پر چلنے والے۔

تفسیر:

اے نبی مکرم! آپ یہ بات اچھی طرح جان لیں کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کو آپ اپنے ساتھ ہر قسم کی نشانیاں اور معجزے لے کر آجائیں، حتیٰ کہ وہ تمام دلائل بھی پیش کر دیں جو ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کو ختم کر سکتے ہوں، تب بھی وہ آپ کے قبلے (کعبۃ اللہ) کی پیروی نہیں کریں گے۔ اس کی وجہ ان کا عناد، تکبر اور حق سے برگشتگی ہے، نہ کہ دلیل کی کمی۔ وہ جانتے ہوئے بھی حق کو قبول نہیں کریں گے، کیونکہ ان کے دلوں پر ہٹ دھرمی چھائی ہوئی ہے۔

اور اے نبی! آپ بھی ان کے قبلے کی پیروی نہیں کریں گے، کیونکہ اللہ نے آپ کو حق پر قائم رکھا ہے اور آپ کا قبلہ وہی ہے جو اللہ نے مقرر کیا ہے۔ نیز خود اہل کتاب کا آپس میں بھی کوئی اتحاد نہیں، ان کے قبلے بھی ایک دوسرے سے مختلف ہیں، کوئی مشرق کی طرف منہ کرتا ہے تو کوئی مغرب کی طرف، اور وہ ایک دوسرے کے قبلے کو بھی نہیں مانتے۔ یہ ان کے اختلاف اور انتشار کی دلیل ہے کہ وہ حق پر نہیں ہیں۔

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی اور پوری امت کو تنبیہ فرماتا ہے: اگر آپ ان کی خواہشات کی پیروی کر لیں، ان کی من مانی باتوں کو مان لیں، اس کے بعد جو آپ کے پاس علم (یقینی وحی اور حق) آ چکا ہے، یعنی قبلے کی تبدیلی اور دیگر شرعی احکام کے بارے میں واضح حکم مل چکا ہے، تو پھر آپ ظالموں میں شمار ہوں گے۔ یہ خطاب اگرچہ ظاہری طور پر نبی ﷺ سے ہے، لیکن اللہ نے آپ کو اس سے محفوظ رکھا، حقیقی مقصد امت کو ڈرانا اور خبردار کرنا ہے کہ حق واضح ہونے کے بعد کسی کی خواہش کی پیروی کرنا ظلم ہے۔

یہ آیت مسلمانوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ حق پر قائم رہنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنے ہی زیادہ اور طاقتور کیوں نہ ہوں۔ کعبہ ہمارا قبلہ ہے، یہ اللہ کا حکم ہے، اور ہمیں اس پر فخر ہے۔ ہمیں کسی کی خوشامد یا ڈر کی وجہ سے اپنے دین کے احکام نہیں چھوڑنے چاہئیں۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کو پہچاننے کے بعد اس پر مضبوطی سے جمے رہنا ہی کامیابی ہے، اور خواہشات کی پیروی کرنا ہلاکت کا سبب ہے۔ اللہ ہمیں حق پر ثابت قدم رکھے اور ہر طرح کی خواہشات کی پیروی سے بچائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 143-147 — بقرہ

143وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِّتَكُونُوا شُهَدَاءَ عَلَى النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًا ۗ وَمَا جَعَلْنَا الْقِبْلَةَ الَّتِي كُنتَ عَلَيْهَا إِلَّا لِنَعْلَمَ مَن يَتَّبِعُ الرَّسُولَ مِمَّن يَنقَلِبُ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ ۚ وَإِن كَانَتْ لَكَبِيرَةً إِلَّا عَلَى الَّذِينَ هَدَى اللَّهُ ۗ وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ بِالنَّاسِ لَرَءُوفٌ رَّحِيمٌ
اور اسی طرح ہم نے تم کو امتِ معتدل بنایا ہے، تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور پیغمبر (آخرالزماں) تم پر گواہ بنیں۔ اور جس قبلے پر تم (پہلے) تھے، اس کو ہم نے اس لیے مقرر کیا تھا کہ معلوم کریں، کون (ہمارے) پیغمبر کا تابع رہتا ہے، اور کون الٹے پاؤں پھر جاتا ہے۔ اور یہ بات (یعنی تحویل قبلہ لوگوں کو) گراں معلوم ہوئی، مگر جن کو خدا نے ہدایت بخشی (وہ اسے گراں نہیں سمجھتے) اور خدا ایسا نہیں کہ تمہارے ایمان کو یونہی کھو دے۔ خدا تو لوگوں پر بڑا مہربان (اور) صاحبِ رحمت ہے
144قَدْ نَرَىٰ تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِي السَّمَاءِ ۖ فَلَنُوَلِّيَنَّكَ قِبْلَةً تَرْضَاهَا ۚ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ۚ وَحَيْثُ مَا كُنتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ ۗ وَإِنَّ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ لَيَعْلَمُونَ أَنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّهِمْ ۗ وَمَا اللَّهُ بِغَافِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں
145وَلَئِنْ أَتَيْتَ الَّذِينَ أُوتُوا الْكِتَابَ بِكُلِّ آيَةٍ مَّا تَبِعُوا قِبْلَتَكَ ۚ وَمَا أَنتَ بِتَابِعٍ قِبْلَتَهُمْ ۚ وَمَا بَعْضُهُم بِتَابِعٍ قِبْلَةَ بَعْضٍ ۚ وَلَئِنِ اتَّبَعْتَ أَهْوَاءَهُم مِّن بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ ۙ إِنَّكَ إِذًا لَّمِنَ الظَّالِمِينَ
اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
146الَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْرِفُونَهُ كَمَا يَعْرِفُونَ أَبْنَاءَهُمْ ۖ وَإِنَّ فَرِيقًا مِّنْهُمْ لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ وَهُمْ يَعْلَمُونَ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے
147الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِينَ
(اے پیغمبر، یہ نیا قبلہ) تمہارے پروردگار کی طرف سے حق ہے تو تم ہرگز شک کرنے والوں میں نہ ہونا
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
145آیت

ترجمہ — بقرہ 145

سورہ بقرہ آیت 145 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں…

سورہ آیت 145/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 143–147. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں