Allazeena aatainaahumul kitaaba ya`rifoonahoo kamaa ya`rifoona abnaaa`ahum wa inna fareeqam minhum layaktumoonal haqqa wa hum ya`lamoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اهل كتاب همچنان كه فرزندان خود را مىشناسند او را مىشناسند، ولى گروهى از ايشان در عين آگاهى حقيقت را پنهان مىدارند.
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ: جنہیں ہم نے کتاب (تورات و انجیل) عطا کی۔
يَعْرِفُونَهُ: وہ اسے (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو) پہچانتے ہیں۔
لَيَكْتُمُونَ الْحَقَّ: وہ حق کو چھپاتے ہیں۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) کے علماء اور احبار کے بارے میں ارشاد فرماتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں تورات اور انجیل جیسی آسمانی کتابیں عطا فرمائی تھیں، جن میں نبی آخر الزمان حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح نشانات اور صفات موجود تھیں۔ وہ ان نشانات کی بنا پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح کوئی باپ اپنے بیٹے کو پہچانتا ہے — بالکل یقینی اور غیر مشتبہ طور پر۔ ان کے دلوں میں اس بات کا کوئی شک نہ تھا کہ آپ ہی وہ نبی ہیں جن کا ذکر ان کی کتابوں میں کیا گیا ہے۔
یہاں تک کہ قبلہ کی تبدیلی کا واقعہ بھی ان کے علم میں تھا کہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی ایک نشانی ہے، جیسا کہ ان کی کتابوں میں مذکور تھا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود، ان میں سے ایک گروہ — جو حسد اور عناد میں مبتلا تھا — حق کو چھپاتا ہے۔ وہ جانتے بوجھتے ہوئے، دانستہ طور پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی نشانیوں کو لوگوں سے مخفی رکھتا ہے، تاکہ لوگ ایمان نہ لائیں۔
یہ آیت مومنوں کے لیے ایک عظیم سبق ہے کہ حق کی پہچان کے باوجود بعض لوگ اپنی دنیاوی خواہشات اور حسد کی وجہ سے حق کو چھپا دیتے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو قبول کریں، اس پر عمل کریں، اور اسے دوسروں تک پہنچائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن جیسی عظیم کتاب عطا فرمائی ہے جو ہر دور کے لیے ہدایت ہے — ہمیں اس کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے دوسروں تک بھی پہنچانا چاہیے، اور کبھی بھی حق کو چھپانا نہیں چاہیے، کیونکہ حق چھپانا اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔
یاد رکھیں! جو لوگ حق کو پہچان کر اس پر عمل کرتے ہیں، اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں عزت عطا فرماتا ہے، اور جو حق کو چھپاتے ہیں، ان کا انجام برا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم سچائی کے علمبردار بنیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی حق کی طرف بلائیں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
(اے محمدﷺ) ہم تمہارا آسمان کی طرف منہ پھیر پھیر کر دیکھنا دیکھ رہے ہیں۔ سو ہم تم کو اسی قبلے کی طرف جس کو تم پسند کرتے ہو، منہ کرنے کا حکم دیں گے تو اپنا منہ مسجد حرام (یعنی خانہٴ کعبہ) کی طرف پھیر لو۔ اور تم لوگ جہاں ہوا کرو، (نماز پڑھنے کے وقت) اسی مسجد کی طرف منہ کر لیا کرو۔ اور جن لوگوں کو کتاب دی گئی ہے، وہ خوب جانتے ہیں کہ (نیا قبلہ) ان کے پروردگار کی طرف سے حق ہے۔ اور جو کام یہ لوگ کرتے ہیں، خدا ان سے بے خبر نہیں
اور اگر تم ان اہلِ کتاب کے پاس تمام نشانیاں بھی لے کر آؤ، تو بھی یہ تمہارے قبلے کی پیروی نہ کریں۔ اور تم بھی ان کے قبلے کی پیروی کرنے والے نہیں ہو۔ اور ان میں سے بھی بعض بعض کے قبلے کے پیرو نہیں۔ اور اگر تم باوجود اس کے کہ تمہارے پاس دانش (یعنی وحئ خدا) آ چکی ہے، ان کی خواہشوں کے پیچھے چلو گے تو ظالموں میں (داخل) ہو جاؤ گے
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ ان (پیغمبر آخرالزماں) کو اس طرح پہچانتے ہیں، جس طرح اپنے بیٹوں کو پہچانا کرتے ہیں، مگر ایک فریق ان میں سے سچی بات کو جان بوجھ کر چھپا رہا ہے
اور ہر ایک (فرقے) کے لیے ایک سمت (مقرر) ہے۔ جدھر وہ (عبادت کے وقت) منہ کیا کرتے ہیں۔ تو تم نیکیوں میں سبقت حاصل کرو۔ تم جہاں رہو گے خدا تم سب کو جمع کرلے گا۔ بے شک خدا ہر چیز پر قادر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔