Fid dunyaa wal aakhirah; wa yas`aloonaka `anil yataamaa qul islaahullahum khayr, wa in tukhaalitoohum fa ikhwaanukum; wallaahu ya`lamul mufsida minalmuslih; wa law shaaa`al laahu la-a`natakum; innal laaha `Azeezun Hakeem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو) ۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
تو را از يتيمان مىپرسند. بگو: اصلاح حالشان بهتر است. و اگر با آنها آميزش مىكنيد چون برادران شما باشند. خداوند تبهكار را از نيكوكار بازمىشناسد و اگر خواهد بر شما سخت مىگيرد، كه پيروزمند و حكيم است.
(یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو) ۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
الْيَتَامَىٰ: یتیموں (جن کے والد فوت ہو چکے ہوں) کے بارے میں۔
إِصْلَاحٌ لَّهُمْ: ان کے لیے بہتری اور ان کے مال کی حفاظت و اصلاح کرنا۔
تُخَالِطُوهُمْ: ان کے ساتھ مل جل کر رہنا، ان کے مال کو اپنے مال میں شامل کرنا (مثلاً کھانے پینے یا رہن سہن میں شرکت)۔
لَأَعْنَتَكُمْ: تم پر سختی اور مشقت ڈالتا۔
تفسیر:
اے نبی! لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے؟ ان کے مال کو کیسے سنبھالا جائے؟ کیا ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر خرچ کرنا جائز ہے؟ تو آپ انہیں جواب دیں کہ یتیموں کے لیے بہتری اور اصلاح کرنا (یعنی ان کے مال کو محفوظ رکھنا، اسے بڑھانا، اور ان کی پرورش میں خلوص سے کام لینا) تمہارے لیے بہترین عمل ہے۔ اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو اور ان کے مال کو اپنے مال میں شامل کرو (کھانے پینے یا رہن سہن میں) تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ بھائی کا فرض ہے کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ بھلائی کرے اور اس کے مفاد کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون شخص یتیموں کے مال میں فساد پھیلانے والا ہے (یعنی ان کے مال کو نقصان پہنچانے والا یا غبن کرنے والا) اور کون ان کی اصلاح کرنے والا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تم پر سختی کرتا (یعنی یتیموں کے ساتھ میل جول کو مکمل طور پر حرام کر دیتا)، لیکن اس نے تم پر آسانی رکھی ہے، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے دین میں آسانی ہو۔ بے شک اللہ غالب ہے، حکمت والا ہے، وہ جو حکم دیتا ہے حکمت کے ساتھ دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، جس میں سختی نہیں بلکہ آسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے بارے میں ایسا حکم دیا جو نہ صرف ان کی حفاظت کرتا ہے بلکہ معاشرے میں محبت اور اخوت کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ یتیموں کی کفالت کریں، ان کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آئیں، اور ان کے مال کو امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کریں۔ یاد رکھیں! جو شخص یتیم کی پرورش کرتا ہے، وہ جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوگا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ یہ عمل ہمارے دلوں کو پاکیزہ بناتا ہے اور ہمیں اللہ کی رحمت کا مستحق بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر نیت کو جانتا ہے، اس لیے ہمیشہ خلوص اور نیک نیتی سے کام کریں، کیونکہ اللہ جزا دینے والا اور حکمت والا ہے۔
(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو
(یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو) ۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں
اور تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ تو نجاست ہے۔ سو ایام حیض میں عورتوں سے کنارہ کش رہو۔ اور جب تک پاک نہ ہوجائیں ان سے مقاربت نہ کرو۔ ہاں جب پاک ہوجائیں تو جس طریق سے خدا نے ارشاد فرمایا ہے ان کے پاس جاؤ۔ کچھ شک نہیں کہ خدا توبہ کرنے والوں اور پاک صاف رہنے والوں کو دوست رکھتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔