Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْيَتَامَىٰ: یتیموں (جن کے والد فوت ہو چکے ہوں) کے بارے میں۔
- إِصْلَاحٌ لَّهُمْ: ان کے لیے بہتری اور ان کے مال کی حفاظت و اصلاح کرنا۔
- تُخَالِطُوهُمْ: ان کے ساتھ مل جل کر رہنا، ان کے مال کو اپنے مال میں شامل کرنا (مثلاً کھانے پینے یا رہن سہن میں شرکت)۔
- لَأَعْنَتَكُمْ: تم پر سختی اور مشقت ڈالتا۔
تفسیر:
اے نبی! لوگ آپ سے یتیموں کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ ان کے ساتھ کیسا سلوک کیا جائے؟ ان کے مال کو کیسے سنبھالا جائے؟ کیا ان کے مال کو اپنے مال کے ساتھ ملا کر خرچ کرنا جائز ہے؟ تو آپ انہیں جواب دیں کہ یتیموں کے لیے بہتری اور اصلاح کرنا (یعنی ان کے مال کو محفوظ رکھنا، اسے بڑھانا، اور ان کی پرورش میں خلوص سے کام لینا) تمہارے لیے بہترین عمل ہے۔ اگر تم ان کے ساتھ مل جل کر رہو اور ان کے مال کو اپنے مال میں شامل کرو (کھانے پینے یا رہن سہن میں) تو اس میں کوئی حرج نہیں، کیونکہ وہ تمہارے دینی بھائی ہیں۔ بھائی کا فرض ہے کہ وہ اپنے بھائی کے ساتھ بھلائی کرے اور اس کے مفاد کا خیال رکھے۔ اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے کہ کون شخص یتیموں کے مال میں فساد پھیلانے والا ہے (یعنی ان کے مال کو نقصان پہنچانے والا یا غبن کرنے والا) اور کون ان کی اصلاح کرنے والا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو تم پر سختی کرتا (یعنی یتیموں کے ساتھ میل جول کو مکمل طور پر حرام کر دیتا)، لیکن اس نے تم پر آسانی رکھی ہے، کیونکہ وہ چاہتا ہے کہ تمہارے لیے دین میں آسانی ہو۔ بے شک اللہ غالب ہے، حکمت والا ہے، وہ جو حکم دیتا ہے حکمت کے ساتھ دیتا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام دینِ فطرت ہے، جس میں سختی نہیں بلکہ آسانی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے بارے میں ایسا حکم دیا جو نہ صرف ان کی حفاظت کرتا ہے بلکہ معاشرے میں محبت اور اخوت کا جذبہ بھی پیدا کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ یتیموں کی کفالت کریں، ان کے ساتھ نرمی اور شفقت سے پیش آئیں، اور ان کے مال کو امانت سمجھ کر اس کی حفاظت کریں۔ یاد رکھیں! جو شخص یتیم کی پرورش کرتا ہے، وہ جنت میں رسول اللہ ﷺ کے قریب ہوگا، جیسا کہ حدیث میں آیا ہے۔ یہ عمل ہمارے دلوں کو پاکیزہ بناتا ہے اور ہمیں اللہ کی رحمت کا مستحق بناتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر نیت کو جانتا ہے، اس لیے ہمیشہ خلوص اور نیک نیتی سے کام کریں، کیونکہ اللہ جزا دینے والا اور حکمت والا ہے۔
📜 آیت 218-222 — سورہ بقرہ
ترجمہ — بقرہ 220
سورہ بقرہ آیت 220 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو) ۔…سورہ آیت 220/286 — سورہ بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ بقرہ سنیں, سورہ بقرہ ترجمہ, سورہ بقرہ mp3, سورہ بقرہ pdf. آیت 218–222. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, September 29, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


