Yas`aloonaka `anilkhamri walmaisiri qul feehimaaa ismun kabeerunw wa manaafi`u linnaasi wa ismuhumaa akbaru min naf`ihimaa; wa yas`aloonaka maaza yunfiqoona qulil-`afw; kazaalika yubaiyinul laahu lakumul-aayaati la`allakum tatafakkaroon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
تو را از شراب و قمار مىپرسند. بگو: در آن دو گناهى بزرگ و سودهايى است براى مردم. و گناهشان از سودشان بيشتر است. و از تو مىپرسند، چه چيز انفاق كنند؟ بگو: آنچه افزون آيد. خدا آيات را اينچنين براى شما بيان مىكند، باشد كه در كار دنيا و آخرت بينديشيد.
(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو
📜
ترجمہ — Tafsir
آیت کا ترجمہ:
"اے نبی! لوگ آپ سے شراب اور جوا کے بارے میں پوچھتے ہیں۔ کہہ دیجیے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے لیے کچھ فائدے بھی ہیں، لیکن ان کا گناہ ان کے فائدے سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔ اور وہ آپ سے پوچھتے ہیں کہ کیا خرچ کریں؟ کہہ دیجیے کہ جو ضرورت سے زائد ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے احکام واضح کرتا ہے تاکہ تم غور و فکر کرو۔"
مفردات (لغوی تشریح):
الْخَمْرِ: ہر وہ چیز جو عقل کو ڈھانپ لے، خواہ پینے کی ہو یا کھانے کی، جس سے عقل زائل ہو جائے۔
الْمَيْسِرِ: جوا، یعنی وہ کھیل یا مقابلہ جس میں دونوں طرف سے مال لگایا جائے اور جیتنے والا دوسرے کا مال لے لے۔
إِثْمٌ: گناہ، نقصان، اور وہ چیز جو دین و دنیا میں برائی کا سبب بنے۔
الْعَفْوَ: وہ مال جو انسان کی ضرورت سے زائد ہو، یعنی اضافی دولت۔
تفسیر:
اے نبی! آپ کے اصحاب آپ سے شراب اور جوئے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہ ان کا کیا حکم ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جواب دینے کا حکم دیتا ہے کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے، کیونکہ یہ عقل کو تباہ کرتے ہیں، مال کو ضائع کرتے ہیں، آپس میں دشمنی اور بغض پیدا کرتے ہیں، اور انسان کو اللہ کی یاد اور نماز سے غافل کر دیتے ہیں۔ البتہ ان میں کچھ دنیاوی فائدے بھی ہیں، جیسے شراب سے عارضی لطف اندوزی یا جوا کھیل کر مال حاصل کرنا، لیکن ان کے نقصانات اور گناہ ان کے فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں۔ یہ بیان دراصل ان کے حرام ہونے کی تمہید تھی، تاکہ مسلمانوں کے دل ان سے نفرت کریں اور وہ آہستہ آہستہ اس برائی سے دور ہو جائیں۔
پھر لوگ آپ سے پوچھتے ہیں کہ ہم اللہ کی راہ میں کتنا خرچ کریں؟ تو آپ کہہ دیجیے کہ اپنی ضرورت سے زائد مال خرچ کرو، یعنی جو تمہارے اہل و عیال کی ضروریات سے بچ جائے، اسے اللہ کی راہ میں دو۔ یہ حکم ابتدائی تھا، بعد میں اللہ نے زکوٰۃ کا مکمل نظام نازل فرمایا۔
اللہ تعالیٰ اس طرح اپنے احکام واضح کرتا ہے تاکہ تم لوگ غور و فکر کرو اور سمجھو کہ کون سا راستہ تمہارے لیے دنیا و آخرت میں بہتر ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ رب العزت ہمیں سکھاتا ہے کہ وہ چیز جو عقل کو تباہ کرے اور مال کو ضائع کرے، وہ کبھی بھی بھلائی کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ اسلام ہمیشہ اعتدال اور پاکیزگی کی تعلیم دیتا ہے۔ شراب اور جوا آج بھی معاشرے کی تباہی کا سبب ہیں، جبکہ صدقہ و خیرات انسان کو اللہ کا محبوب بناتی ہے اور معاشرے میں محبت و اخوت پیدا کرتی ہے۔ آئیے ہم اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں، اپنے دلوں کو پاک رکھیں، اور ان چیزوں سے بچیں جو ہمیں اللہ سے دور کر دیں۔ اللہ ہمیں سمجھنے کی توفیق دے۔ آمین۔
(اے محمدﷺ) لوگ تم سے عزت والے مہینوں میں لڑائی کرنے کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان میں لڑنا بڑا (گناہ) ہےاور خدا کی راہ سے روکنا اور اس سے کفر کرنا اور مسجد حرام (یعنی خانہ کعبہ میں جانے) سے (بند کرنا) ۔ اور اہل مسجد کو اس میں سے نکال دینا (جو یہ کفار کرتے ہیں) خدا کے نزدیک اس سے بھی زیادہ (گناہ) ہے۔ اور فتنہ انگیزی خونریزی سے بھی بڑھ کر ہے۔ اور یہ لوگ ہمیشہ تم سے لڑتے رہیں گے یہاں تک کہ اگر مقدور رکھیں تو تم کو تمہارے دین سے پھیر دیں۔ اور جو کوئی تم میں سے اپنے دین سے پھر کر (کافر ہو) جائے گا اور کافر ہی مرے گا تو ایسے لوگوں کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں برباد ہوجائیں گے اور یہی لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں جس میں ہمیشہ رہیں گے
(اے پیغمبر) لوگ تم سے شراب اور جوئے کا حکم دریافت کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ ان میں نقصان بڑے ہیں اور لوگوں کے لئے کچھ فائدے بھی ہیں مگر ان کے نقصان فائدوں سے کہیں زیادہ ہیں اور یہ بھی تم سے پوچھتے ہیں کہ (خدا کی راہ میں) کون سا مال خرچ کریں۔ کہہ دو کہ جو ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح خدا تمہارے لئے اپنے احکام کھول کھول کر بیان فرماتا ہے تاکہ تم سوچو
(یعنی) دنیا اور آخرت (کی باتوں) میں (غور کرو) ۔ اور تم سے یتیموں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں کہہ دو کہ ان کی (حالت کی) اصلاح بہت اچھا کام ہے۔ اور اگر تم ان سے مل جل کر رہنا (یعنی خرچ اکھٹا رکھنا) چاہو تو وہ تمہارے بھائی ہیں اور خدا خوب جانتا ہے کہ خرابی کرنے والا کون ہے اور اصلاح کرنے والا کون۔ اور اگر خدا چاہتا تو تم کو تکلیف میں ڈال دیتا۔بےشک خدا غالب (اور) حکمت والا ہے
اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ لائیں نکاح نہ کرنا۔ کیونکہ مشرک عورت خواہ تم کو کیسی ہی بھلی لگے اس سے مومن لونڈی بہتر ہے۔ اور (اسی طرح) مشرک مرد جب تک ایمان نہ لائیں مومن عورتوں کو ان کو زوجیت میں نہ دینا کیونکہ مشرک (مرد) سے خواہ وہ تم کو کیسا ہی بھلا لگے مومن غلام بہتر ہے۔ یہ (مشرک لوگوں کو) دوزخ کی طرف بلاتے ہیں۔ اور خدا اپنی مہربانی سے بہشت اور بخشش کی طرف بلاتا ہے۔ اور اپنے حکم لوگوں سے کھول کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ نصیحت حاصل کریں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔