ترجمہ — Tafsir
﴿وَلَا تَنكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّىٰ يُؤْمِنَّ﴾
معانی الفاظ:
- تَنکِحُوا: نکاح کرو، شادی کرو
- المُشرِکات: مشرک عورتیں، وہ عورتیں جو اللہ کے ساتھ شرک کرتی ہیں
- أَمَةٌ: لونڈی، باندی، غلام عورت
- تُنکِحُوا: نکاح کرواؤ، بیاہ دو
- عَبدٌ: غلام، باندی کا مرد
- یَدعُونَ: بلاتے ہیں، دعوت دیتے ہیں
- المَغفِرَة: بخشش، گناہوں کی معافی
- یَتَذَکَّرُونَ: نصیحت حاصل کریں، سوچیں سمجھیں
تفسیر:
اے مومنو! اللہ تعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ مشرک عورتوں سے نکاح نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ یعنی جب تک وہ شرک چھوڑ کر توحید پر ایمان نہ لائیں، ان سے شادی نہ کرو۔ یہ حکم اس لیے ہے کہ ایمان اور شرک کبھی ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے، اور نکاح کی بنیاد محبت اور موافقت پر ہوتی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک اہم حقیقت بیان فرماتا ہے کہ ایک مومنہ لونڈی جو اللہ پر ایمان رکھتی ہو، وہ ایک مشرک آزاد عورت سے بہتر ہے، چاہے وہ مشرک عورت تمہیں اپنے حسن و جمال، مال و دولت یا حسب و نسب سے کتنی ہی متاثر کیوں نہ کر لے۔ کیونکہ ایمان ہی اصل عزت ہے، اور بغیر ایمان کے دنیاوی خوبیاں کوئی حقیقی فائدہ نہیں دیتیں۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ اپنی مسلمان عورتوں (خواہ وہ آزاد ہوں یا لونڈیاں) کا نکاح مشرک مردوں سے نہ کرو جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں۔ اور ایک مومن غلام جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہو، وہ ایک مشرک آزاد شخص سے بہتر ہے، چاہے وہ مشرک تمہیں اپنے مال، مرتبے یا خاندان سے کتنا ہی متاثر کیوں نہ کرے۔
اس کی وجہ اللہ تعالیٰ خود بیان فرماتا ہے کہ مشرک لوگ اپنے قول و فعل سے لوگوں کو آگ کی طرف بلاتے ہیں، یعنی ان کی زندگی کا راستہ جہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، یعنی وہ اپنے رسولوں کے ذریعے لوگوں کو ایسے اعمال کی دعوت دیتا ہے جو جنت اور گناہوں کی بخشش تک پہنچاتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ اپنی آیات اور احکام لوگوں کے لیے واضح طور پر بیان فرماتا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں، نصیحت حاصل کریں اور سیدھے راستے پر چلیں۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ ایمان ہی اصل دولت ہے، اور دنیاوی خوبیاں اس کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ آج بھی بہت سے مسلمان اپنے بچوں کی شادیاں کرتے وقت ایمان اور تقویٰ کو نظر انداز کر کے مال و دولت اور ظاہری خوبصورتی کو ترجیح دیتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے صاف فرمایا ہے کہ ایک مومن غریب انسان، ایک کافر امیر انسان سے بہتر ہے۔
یاد رکھیں! نکاح صرف دنیاوی معاملہ نہیں، بلکہ ایک عبادت اور دینی ذمہ داری ہے۔ اس لیے شادی کے فیصلے میں سب سے پہلے دین اور ایمان کو دیکھیں، کیونکہ یہی وہ چیز ہے جو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی کا ضامن ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے فیصلوں میں اللہ کی رضا کو مقدم رکھیں۔ آمین۔
📜 آیت 219-223 — بقرہ
ترجمہ — بقرہ 221
سورہ بقرہ آیت 221 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (مومنو) مشرک عورتوں سے جب تک کہ ایمان نہ…سورہ آیت 221/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 219–223. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








