Wa lammaa barazoo liJaaloota wa junoodihee qaaloo Rabbanaaa afrigh `alainaa sabranw wa sabbit aqdaamanaa wansurnaa `alal qawmil kaafireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون با جالوت و سپاهش رو به رو شدند، گفتند: اى پروردگار ما، بر ما شكيبايى ببار و ما را ثابتقدم گردان و بر كافران پيروز ساز.
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَرَزُوا: میدانِ جنگ میں نکل آئے، دشمن کے سامنے صف آرا ہو گئے۔
أَفْرِغْ: انڈیل دے، خوب برسا دے۔
صَبْرًا: برداشت اور استقامت۔
ثَبِّتْ أَقْدَامَنَا: ہمارے قدموں کو جمائے رکھ، میدانِ جنگ میں ہمیں ثابت قدم رکھ۔
تفسیر:
جب طالوت اور ان کے ساتھی مومن میدانِ جنگ میں نکلے اور جالوت اور اس کی بڑی فوج کو سامنے دیکھا تو ان کی آنکھوں کے سامنے دشمن کی طاقت اور کثرت تھی۔ اس نازک گھڑی میں انہوں نے اپنی کمزوری اور اپنے رب کی قدرت کا اعتراف کیا اور گڑگڑا کر دعا مانگی۔ انہوں نے کہا: "اے ہمارے رب! ہم پر صبر انڈیل دے" یعنی ہمارے دلوں کو صبر سے بھر دے، ایسا صبر جو ہمیں ہر مصیبت اور ہولناک منظر میں ڈگمگانے نہ دے۔ پھر کہا: "ہمارے قدموں کو جمائے رکھ" یعنی میدانِ جنگ میں ہمارے پاؤں نہ پھسلنے پائیں، ہم بزدلی سے بھاگ نہ جائیں، بلکہ ثابت قدم رہیں۔ اور آخر میں کہا: "اور کافر قوم پر ہماری مدد فرما" یعنی اپنی قوت اور تائید سے ہمیں فتح عطا فرما۔
یہ دعا سکھاتی ہے کہ جب مومن کو خطرہ اور مشکل پیش آئے تو وہ اپنی طاقت پر نہیں بلکہ اللہ کی مدد پر بھروسہ کرے۔ صبر، ثبات اور اللہ سے نصرت کی درخواست — یہ تین چیزیں ہر مومن کی کامیابی کی کنجی ہیں۔ جب دل صبر سے لبریز ہو، قدم جمے رہیں اور اللہ کی مدد شاملِ حال ہو تو کوئی طاقت مومن کو شکست نہیں دے سکتی۔ یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر مشکل میں اللہ سے جڑے رہو، کیونکہ وہی واحد ہے جو صبر بھی دیتا ہے اور فتح بھی عطا کرتا ہے۔
اور پیغمبر نے ان سے کہا کہ ان کی بادشاہی کی نشانی یہ ہے کہ تمہارے پاس ایک صندوق آئے گا جس کو فرشتے اٹھائے ہوئے ہوں گے اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تسلی (بخشنے والی چیز) ہوگی اور کچھ اور چیزیں بھی ہوں گی جو موسیٰ اور ہارون چھوڑ گئے تھے۔ اگر تم ایمان رکھتے ہو تو یہ تمہارے لئے ایک بڑی نشانی ہے
غرض جب طالوت فوجیں لے کر روانہ ہوا تو اس نے (ان سے) کہا کہ خدا ایک نہر سے تمہاری آزمائش کرنے والا ہے۔ جو شخص اس میں سے پانی پی لے گا (اس کی نسبت تصور کیا جائے گا کہ) وہ میرا نہیں۔ اور جو نہ پئے گا وہ (سمجھا جائے گا کہ) میرا ہے۔ ہاں اگر کوئی ہاتھ سے چلو بھر پانی پی لے (تو خیر۔ جب وہ لوگ نہر پر پہنچے) تو چند شخصوں کے سوا سب نے پانی پی لیا۔ پھر جب طالوت اور مومن لوگ جو اس کے ساتھ تھے نہر کے پار ہوگئے۔ تو کہنے لگے کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکر سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں۔ جو لوگ یقین رکھتے تھے کہ ان کو خدا کے روبرو حاضر ہونا ہے وہ کہنے لگے کہ بسااوقات تھوڑی سی جماعت نے خدا کے حکم سے بڑی جماعت پر فتح حاصل کی ہے اور خدا استقلال رکھنے والوں کے ساتھ ہے
اور جب وہ لوگ جالوت اور اس کے لشکر کے مقابل آئے تو (خدا سے) دعا کی کہ اے پروردگار ہم پر صبر کے دہانے کھول دے اور ہمیں (لڑائی میں) ثابت قدم رکھ اور (لشکر) کفار پر فتحیاب کر
تو طالوت کی فوج نے خدا کے حکم سے ان کو ہزیمت دی۔ اور داؤد نے جالوت کو قتل کر ڈالا۔ اور خدا نے اس کو بادشاہی اور دانائی بخشی اور جو کچھ چاہا سکھایا۔ اور خدا لوگوں کو ایک دوسرے (پر چڑھائی اور حملہ کرنے) سے ہٹاتا نہ رہتا تو ملک تباہ ہوجاتا لیکن خدا اہل عالم پر بڑا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔