نساء · 90/176
ترجمہ تلفظ — نساء
إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا ۝٩٠
Illal lazeena yasiloona ilaa qawmim binakum wa bainahum meesaaqun aw jaaa`ookum hasirat sudooruhum ai yuqaatilookum aw yuqaatiloo qawmahum, wa law shaaa`al laahu lasallatahum `alaikum falaqaatalookum; fa ini` tazalookum falam yuqaatilookum wa alqaw ilaikumus salama famaa ja`alal laahu lakum `alaihim sabeelaa
📖 اردو ترجمہ
مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يَصِلُونَ: تعلق رکھنے والے، پناہ لینے والے، یا کسی قوم سے الحاق کرنے والے۔
  • مِيثَاقٌ: عہد و پیمان، معاہدہ۔
  • حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ: ان کے سینے تنگ ہو گئے، یعنی ان کے دل میں کشادگی نہ رہی۔
  • السَّلَمَ: صلح، اطاعت، یا اسلام (یہاں مراد صلح اور امن ہے
  • سَبِيلًا: کوئی راستہ، کوئی ذریعہ (یعنی قتل یا گرفتاری کا کوئی جواز

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں مومنین کو ہدایت فرماتے ہیں کہ کافروں اور مشرکوں کے بارے میں جو حکم پہلے دیا گیا تھا کہ انہیں قتل کرو اور گرفتار کرو، اس میں دو قسم کے لوگ مستثنیٰ ہیں:

پہلی قسم: وہ لوگ جو کسی ایسی قوم سے جا ملے ہیں جن سے تمہارا معاہدہ اور عہد ہو۔ ایسے لوگوں سے جنگ نہ کرو، کیونکہ وہ اس قوم کی حفاظت میں ہیں جس سے تمہارا صلح کا معاہدہ ہے۔ انہیں قتل کرنا معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔

دوسری قسم: وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حالت میں آئیں کہ ان کے دل تنگ ہو گئے ہیں، نہ وہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں اور نہ اپنی قوم سے لڑنا چاہتے ہیں۔ وہ جنگ سے بیزار ہیں اور دونوں طرف سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ تمہارے خلاف ہیں اور نہ اپنی قوم کے ساتھ مل کر تم پر حملہ آور ہوں گے۔ ان سے بھی جنگ نہ کرو۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا اور وہ تم سے لڑتے، لیکن اللہ نے اپنی حکمت سے ان کے دلوں میں جنگ سے نفرت ڈال دی اور انہیں تم سے دور رکھا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے انہیں تمہارے خلاف نہیں کھڑا کیا۔

پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی اختیار کریں، تم سے نہ لڑیں، اور تمہاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں، امن کا پیغام دیں اور مطیع ہو جائیں، تو اللہ نے تمہیں ان کے خلاف کوئی راستہ نہیں دیا، یعنی تمہیں ان سے جنگ کرنے، انہیں قتل کرنے یا گرفتار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں اسلام کا عظیم امن پسند پیغام ملتا ہے۔ اسلام جنگ کو پسند نہیں کرتا، بلکہ امن اور صلح کو ترجیح دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہو جاؤ۔ یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے کہ ہم دشمن کے ساتھ بھی انصاف کریں اور جب وہ امن چاہیں تو ہم جنگ نہ کریں۔ آج دنیا کو اسلام کے اس امن پسند پیغام کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں نرمی، رحم دلی اور امن کو فروغ دیں، اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ امن کو پسند کرتا ہے اور جنگ کو صرف مجبوری میں اجازت دی گئی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 88-92 — نساء

88۞ فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُم بِمَا كَسَبُوا ۚ أَتُرِيدُونَ أَن تَهْدُوا مَنْ أَضَلَّ اللَّهُ ۖ وَمَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا
تو کیا سبب ہے کہ تم منافقوں کے بارے میں دو گروہ ہو رہے ہو حالانکہ خدا نے ان کو ان کے کرتوتوں کے سبب اوندھا کردیا ہے کیا تم چاہتے ہو کہ جس شخص کو خدا نے گمراہ کردیا ہے اس کو رستے پر لے آؤ اور جس شخص کو خدا گمراہ کردے تو اس کے لئے کبھی بھی رستہ نہیں پاؤ گے
89وَدُّوا لَوْ تَكْفُرُونَ كَمَا كَفَرُوا فَتَكُونُونَ سَوَاءً ۖ فَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ أَوْلِيَاءَ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ ۚ فَإِن تَوَلَّوْا فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ وَجَدتُّمُوهُمْ ۖ وَلَا تَتَّخِذُوا مِنْهُمْ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا
وہ تو یہی چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں (اسی طرح) تم بھی کافر ہو کر (سب) برابر ہوجاؤ تو جب تک وہ خدا کی راہ میں وطن نہ چھوڑ جائیں ان میں سے کسی کو دوست نہ بنانا اگر (ترک وطن کو) قبول نہ کریں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو اور ان میں سے کسی کو اپنا رفیق اور مددگار نہ بناؤ
90إِلَّا الَّذِينَ يَصِلُونَ إِلَىٰ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ أَوْ جَاءُوكُمْ حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ أَن يُقَاتِلُوكُمْ أَوْ يُقَاتِلُوا قَوْمَهُمْ ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَسَلَّطَهُمْ عَلَيْكُمْ فَلَقَاتَلُوكُمْ ۚ فَإِنِ اعْتَزَلُوكُمْ فَلَمْ يُقَاتِلُوكُمْ وَأَلْقَوْا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ فَمَا جَعَلَ اللَّهُ لَكُمْ عَلَيْهِمْ سَبِيلًا
مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن میں اور تم میں (صلح کا) عہد ہو یا اس حال میں کہ ان کے دل تمہارے ساتھ یا اپنی قوم کے ساتھ لڑنے سے رک گئے ہوں تمہارے پاس آجائیں (تو احتراز ضروری نہیں) اور اگر خدا چاہتا تو ان کو تم پر غالب کردیتا تو وہ تم سے ضرور لڑتے پھر اگر وہ تم سے (جنگ کرنے سے) کنارہ کشی کریں اور لڑیں نہیں اور تمہاری طرف صلح (کا پیغام) بھیجیں تو خدا نے تمہارے لئے ان پر (زبردستی کرنے کی) کوئی سبیل مقرر نہیں کی
91سَتَجِدُونَ آخَرِينَ يُرِيدُونَ أَن يَأْمَنُوكُمْ وَيَأْمَنُوا قَوْمَهُمْ كُلَّ مَا رُدُّوا إِلَى الْفِتْنَةِ أُرْكِسُوا فِيهَا ۚ فَإِن لَّمْ يَعْتَزِلُوكُمْ وَيُلْقُوا إِلَيْكُمُ السَّلَمَ وَيَكُفُّوا أَيْدِيَهُمْ فَخُذُوهُمْ وَاقْتُلُوهُمْ حَيْثُ ثَقِفْتُمُوهُمْ ۚ وَأُولَٰئِكُمْ جَعَلْنَا لَكُمْ عَلَيْهِمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا
تم کچھ اور لوگ ایسے بھی پاؤ گے جو یہ چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی امن میں رہیں لیکن فتنہ انگیزی کو بلائے جائیں تو اس میں اوندھے منہ گر پڑیں تو ایسے لوگ اگر تم سے (لڑنے سے) کنارہ کشی نہ کریں اور نہ تمہاری طرف (پیغام) صلح بھیجیں اور نہ اپنے ہاتھوں کو روکیں تو ان کو پکڑ لو اور جہاں پاؤ قتل کردو ان لوگوں کے مقابلے میں ہم نے تمہارے لئے سند صریح مقرر کردی ہے
92وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً ۚ وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا ۚ فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَىٰ أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ ۖ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا
اور کسی مومن کو شایان نہیں کہ مومن کو مار ڈالے مگر بھول کر اور جو بھول کر بھی مومن کو مار ڈالے تو (ایک تو) ایک مسلمان غلام آزاد کردے اور (دوسرے) مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے ہاں اگر وہ معاف کردیں (تو ان کو اختیار ہے) اگر مقتول تمہارے دشمنوں کی جماعت میں سے ہو اور وہ خود مومن ہو تو صرف ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور اگر مقتول ایسے لوگوں میں سے ہو جن میں اور تم میں صلح کا عہد ہو تو وارثان مقتول کو خون بہا دینا اور ایک مسلمان غلام آزاد کرنا چاہیئے اور جس کو یہ میسر نہ ہو وہ متواتر دو مہینے کے روزے رکھے یہ (کفارہ) خدا کی طرف سے (قبول) توبہ (کے لئے) ہے اور خدا (سب کچھ) جانتا اور بڑی حکمت والا ہے
نساءقرآن فہرست
176آیت
مدنیRevelation
90آیت

ترجمہ — نساء 90

سورہ نساء آیت 90 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن…

سورہ آیت 90/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 88–92. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں