ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- يَصِلُونَ: تعلق رکھنے والے، پناہ لینے والے، یا کسی قوم سے الحاق کرنے والے۔
- مِيثَاقٌ: عہد و پیمان، معاہدہ۔
- حَصِرَتْ صُدُورُهُمْ: ان کے سینے تنگ ہو گئے، یعنی ان کے دل میں کشادگی نہ رہی۔
- السَّلَمَ: صلح، اطاعت، یا اسلام (یہاں مراد صلح اور امن ہے)۔
- سَبِيلًا: کوئی راستہ، کوئی ذریعہ (یعنی قتل یا گرفتاری کا کوئی جواز)۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں مومنین کو ہدایت فرماتے ہیں کہ کافروں اور مشرکوں کے بارے میں جو حکم پہلے دیا گیا تھا کہ انہیں قتل کرو اور گرفتار کرو، اس میں دو قسم کے لوگ مستثنیٰ ہیں:
پہلی قسم: وہ لوگ جو کسی ایسی قوم سے جا ملے ہیں جن سے تمہارا معاہدہ اور عہد ہو۔ ایسے لوگوں سے جنگ نہ کرو، کیونکہ وہ اس قوم کی حفاظت میں ہیں جس سے تمہارا صلح کا معاہدہ ہے۔ انہیں قتل کرنا معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔
دوسری قسم: وہ لوگ جو تمہارے پاس اس حالت میں آئیں کہ ان کے دل تنگ ہو گئے ہیں، نہ وہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں اور نہ اپنی قوم سے لڑنا چاہتے ہیں۔ وہ جنگ سے بیزار ہیں اور دونوں طرف سے کنارہ کشی اختیار کرنا چاہتے ہیں۔ ایسے لوگ نہ تمہارے خلاف ہیں اور نہ اپنی قوم کے ساتھ مل کر تم پر حملہ آور ہوں گے۔ ان سے بھی جنگ نہ کرو۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اگر وہ چاہتا تو انہیں تم پر مسلط کر دیتا اور وہ تم سے لڑتے، لیکن اللہ نے اپنی حکمت سے ان کے دلوں میں جنگ سے نفرت ڈال دی اور انہیں تم سے دور رکھا۔ یہ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے انہیں تمہارے خلاف نہیں کھڑا کیا۔
پھر اللہ تعالیٰ حکم دیتے ہیں کہ اگر یہ لوگ تم سے کنارہ کشی اختیار کریں، تم سے نہ لڑیں، اور تمہاری طرف صلح کا ہاتھ بڑھائیں، امن کا پیغام دیں اور مطیع ہو جائیں، تو اللہ نے تمہیں ان کے خلاف کوئی راستہ نہیں دیا، یعنی تمہیں ان سے جنگ کرنے، انہیں قتل کرنے یا گرفتار کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں اسلام کا عظیم امن پسند پیغام ملتا ہے۔ اسلام جنگ کو پسند نہیں کرتا، بلکہ امن اور صلح کو ترجیح دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا کہ جب دشمن صلح کی طرف مائل ہو تو تم بھی صلح کی طرف مائل ہو جاؤ۔ یہ اسلام کی خوبصورت تعلیم ہے کہ ہم دشمن کے ساتھ بھی انصاف کریں اور جب وہ امن چاہیں تو ہم جنگ نہ کریں۔ آج دنیا کو اسلام کے اس امن پسند پیغام کی اشد ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے معاملات میں نرمی، رحم دلی اور امن کو فروغ دیں، اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ اللہ تعالیٰ امن کو پسند کرتا ہے اور جنگ کو صرف مجبوری میں اجازت دی گئی ہے۔
📜 آیت 88-92 — نساء
ترجمہ — نساء 90
سورہ نساء آیت 90 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مگر جو لوگ ایسے لوگوں سے جا ملے ہوں جن…سورہ آیت 90/176 — نساء النساء (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نساء سنیں, نساء ترجمہ, نساء mp3, نساء pdf. آیت 88–92. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








