ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- آیاتنا: ہماری نشانیاں اور قدرت کے نمونے
- آفاق: دنیا کے کنارے، زمین کے اطراف اور مختلف علاقے
- أنفسهم: خود ان کے وجود اور ان کی اپنی ذات
- یتبین: واضح ہو جائے، شک و شبہ کی گنجائش ختم ہو جائے
- شهید: حاضر و ناظر، ہر چیز کا مشاہدہ کرنے والا، گواہ
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے نبی کریم ﷺ اور اہل ایمان کو تسلی دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ عنقریب ہم ان کافروں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے۔ یہ نشانیاں دو طرح کی ہوں گی:
پہلی قسم: آفاقی نشانیاں، یعنی زمین کے مختلف گوشوں میں رونما ہونے والے واقعات۔ جیسے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو فتوحات عطا کرے گا، اسلام کا دامن دنیا کے مختلف علاقوں تک پھیلے گا، اور کفر و شرک کی قوتیں مغلوب ہوں گی۔ یہ نشانیاں اس بات کا عملی ثبوت ہوں گی کہ یہ دین حق ہے اور اللہ ہی کی طرف سے نازل کردہ ہے۔
دوسری قسم: انسانی وجود کے اندر کی نشانیاں، یعنی خود انسان کی اپنی ذات میں اللہ کی قدرت کے بے شمار نمونے۔ انسان کا اپنا جسم، اس کے اعضاء، اس کی عقل، اس کے جذبات، اس کی پیدائش اور موت، غرض ہر چیز اللہ کی عظیم قدرت اور حکمت کی گواہ ہے۔ یہ نشانیاں اس قدر واضح اور قریب ہیں کہ انسان کو صرف اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔
یہاں تک کہ جب یہ نشانیاں ظاہر ہو جائیں گی تو ان لوگوں پر یہ بات بالکل واضح ہو جائے گی کہ یہ قرآن اور یہ دین حق ہے، اس میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ یہ نشانیاں اس قدر کھلی اور صاف ہوں گی کہ کوئی عقل سلیم والا انکار نہیں کر سکے گا۔
پھر اللہ تعالیٰ ایک زبردست دلیل پیش کرتا ہے کہ کیا یہ بات تمہارے رب کے لیے کافی نہیں کہ وہ ہر چیز پر شاہد ہے؟ یعنی اللہ تعالیٰ خود گواہ ہے کہ یہ قرآن اس کا کلام ہے اور یہ رسول اس کا سچا رسول ہے۔ اللہ کی گواہی سب سے بڑی گواہی ہے، اس سے بڑھ کر کوئی تصدیق نہیں ہو سکتی۔ اگر یہ لوگ حق کے طالب ہوتے تو اللہ کی یہ گواہی ہی ان کے لیے کافی تھی، لیکن ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے دلوں پر مہر لگی ہوئی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑی نصیحت اور سبق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں اپنی نشانیاں دیکھنے کی دعوت دی ہے۔ جب ہم کائنات کے اس وسیع نظام پر غور کرتے ہیں، آسمان و زمین کی تخلیق، دن رات کی گردش، ستاروں کی ترتیب، پہاڑوں کی مضبوطی، سمندروں کی گہرائی، ہر چیز میں اللہ کی قدرت کے نقوش نمایاں ہیں۔ اور جب ہم اپنے وجود پر غور کرتے ہیں، اپنے دل کی دھڑکن، سانس کا آنا جانا، آنکھوں کا دیکھنا، کانوں کا سننا، ہر چیز ایک معجزہ ہے۔
یہ نشانیاں ہمارے ایمان کو مضبوط کرنے کا ذریعہ ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ان نشانیوں پر غور و فکر کریں، کیونکہ غور و فکر ایمان کی غذا ہے۔ جس شخص کا ایمان ان نشانیوں پر مبنی ہو، وہ کبھی گمراہ نہیں ہو سکتا۔ اللہ کی گواہی ہمارے لیے کافی ہے، ہمیں کسی اور کی تصدیق کی ضرورت نہیں۔ آئیے ہم اپنے رب کی نشانیوں پر غور کریں اور اپنے ایمان کو تازہ کریں، کیونکہ یہی کامیابی کا راستہ ہے۔
📜 آیت 51-54 — فصلت
ترجمہ — فصلت 53
سورہ آیت 53/54 — فصلت فصلت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: فصلت سنیں, فصلت ترجمہ, فصلت mp3, فصلت pdf. آیت 51–54. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








