Lilfuqaraaa`il Muhaaji reenal lazeena ukhrijoo min diyaarihim wa amwaalihim yabtaghoona fadlam minal laahi wa ridwaananw wa yansuroonal laaha wa Rasoolah; ulaaa`ika humus saadiqoon
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
نيز غنايم از آن مهاجران فقيرى است كه از سرزمينشان رانده شدهاند و آنها در طلب فضل و خشنودى خدايند و خدا و پيامبرش را يارى مىكنند، اينان راستگويانند.
(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں
الْمُهَاجِرِينَ: وہ مومن جنہوں نے اللہ کے حکم سے اپنا وطن چھوڑ کر مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی۔
فَضْلًا: رزق اور روزی، اللہ تعالیٰ کا عطا کردہ فضل۔
رِضْوَانًا: اللہ کی رضا اور خوشنودی۔
يَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ: اللہ کے دین کی مدد کرتے ہیں اور اس کے رسول کی حمایت کرتے ہیں۔
الصَّادِقُونَ: سچے لوگ، جن کا ایمان اور عمل دونوں سچے ہوں۔
تفسیر:
یہ آیت کریمہ اس مالِ فیء کے مستحقین کا ذکر کر رہی ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول ﷺ کو بنی نضیر کے مال سے عطا کیا تھا۔ اس مال کا ایک حصہ ان غریب مہاجرین کے لیے مقرر کیا گیا جو اپنے گھروں اور اموال سے بے دخل کر دیے گئے تھے۔ یہ وہ عظیم لوگ تھے جنہیں کفارِ مکہ نے ظلم و ستم سے اپنے وطن چھوڑنے پر مجبور کیا، ان کے گھر چھین لیے، ان کے مال و اسباب ضبط کر لیے، اور وہ صرف اللہ کی رضا کے لیے ہجرت کر کے مدینہ آئے۔
ان مہاجرین کا مقصد دنیاوی فائدہ یا مال کمانا نہیں تھا، بلکہ وہ اللہ تعالیٰ سے فضل یعنی رزق کی طلب کر رہے تھے اور آخرت میں اس کی رضا اور خوشنودی کے طالب تھے۔ وہ اپنے جان و مال سے اللہ اور اس کے رسول کی مدد کرتے تھے، اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دینِ اسلام کی سربلندی کے لیے جہاد کرتے تھے۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کو صرف زبانی نہیں بلکہ عملی طور پر ثابت کیا، ان کے قول اور فعل میں مکمل مطابقت تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ نے انہیں "صادقین" یعنی سچے لوگ قرار دیا۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں قربانی دینے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں ہوتا۔ مہاجرین نے سب کچھ چھوڑا، لیکن اللہ نے انہیں دنیا میں بھی عزت دی اور آخرت میں بھی ان کے لیے عظیم اجر تیار کیا۔ آج ہمیں بھی اپنے ایمان کی صداقت ثابت کرنی ہے، نہ صرف زبان سے بلکہ اپنے اعمال سے۔ جب ہم اللہ کی راہ میں اپنا مال، وقت اور محنت خرچ کرتے ہیں تو اللہ ہمیں اس سے بہتر بدلہ دیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم مہاجرین کی سچائی اور خلوص سے سبق حاصل کریں، اپنے ایمان کو عملی شکل دیں، اور اللہ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھیں۔ یاد رکھیں، اللہ کے سچے بندے وہی ہیں جو اپنے ایمان کو اپنے عمل سے ثابت کرتے ہیں، اور اللہ انہیں دنیا و آخرت میں کبھی محروم نہیں رکھتا۔
اور جو (مال) خدا نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے
(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں
اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو۔ اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ مراد پانے والے ہیں
اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔