حشر · 9/24
ترجمہ تلفظ — حشر
وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ ۝٩
Wallazeena tabawwa`ud daara wal eemaana min qablihim yuhibboona man haajara ilaihim wa laa yajidoona fee sudoorihim haajatam mimmaa ootoo wa yu`siroona `alaa anfusihim wa law kaana bihim khasaasah; wa many yooqa shuhha nafsihee fa ulaaa`ika humul muflihoon
📖 اردو ترجمہ
اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو۔ اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ مراد پانے والے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَبَوَّؤُوا: اپنے لیے جگہ بنائی، وہاں قیام کیا۔
  • الدَّارَ: اس سے مراد مدینہ منورہ ہے۔
  • حَاجَةً: یہاں اس سے مراد دل میں کینہ، حسد یا جلن ہے۔
  • خَصَاصَةٌ: فقر، حاجت اور تنگی۔
  • شُحَّ: بخل، حرص اور طمع، یعنی نفس کا اس چیز پر بہت زیادہ ڈٹ جانا جو اس کے پاس ہے اور اسے خرچ نہ کرنا۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ انصارِ مدینہ کے بلند مقام اور ان کی عظیم قربانیوں کا ذکر فرما رہے ہیں، جو اس امت کے لیے ہمیشہ کے لیے روشن مثال ہیں۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے ہجرت سے پہلے ہی مدینہ کو اپنا وطن بنایا اور ایمان کو اپنے دلوں میں جگہ دی۔ انہوں نے نہ صرف اسلام قبول کیا بلکہ اسے اپنے گھروں، دلوں اور زندگیوں میں بسایا۔

یہ انصارِ کرام مہاجرینِ مکہ سے والہانہ محبت کرتے تھے۔ جب مہاجرین مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو انصار نے انہیں اپنے گھروں میں جگہ دی، اپنے اموال میں شریک کیا، اور ان کی ہر ممکن مدد کی۔ ان کے دلوں میں مہاجرین کے لیے ذرہ برابر بھی حسد یا جلن نہ تھی، چاہے انہیں مالِ غنیمت یا فیء میں سے کچھ دیا جاتا اور انصار کو نہ دیا جاتا، تب بھی وہ خوش رہتے اور کسی قسم کی شکایت نہ کرتے۔

سب سے بڑی خوبی جو اللہ تعالیٰ نے انصار کی بیان فرمائی وہ یہ ہے کہ وہ ایثار کرتے تھے، یعنی دوسروں کو اپنی ذات پر مقدم رکھتے تھے۔ وہ اپنے مہاجر بھائیوں کو اپنے مال، گھر اور سہولیات میں سے دیتے تھے، چاہے خود انہیں اس کی سخت حاجت ہوتی۔ یہ ایثار و قربانی کی انتہا ہے کہ انسان خود فاقہ کشی کرے لیکن دوسرے کو کھلائے، خود تنگی میں رہے لیکن دوسرے کو آرام پہنچائے۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ ایک عظیم اصول بیان فرماتے ہیں: "اور جو شخص اپنے نفس کے بخل سے بچایا گیا، تو ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔" یعنی کامیابی اور فلاح کا راز اس میں ہے کہ انسان اپنے دل سے بخل، حرص اور طمع کو نکال دے۔ جو شخص اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے، دوسروں کی مدد کرتا ہے، اور اپنے نفس کی تنگی اور بخل پر قابو پاتا ہے، وہی حقیقی کامیاب ہے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلامی معاشرہ محبت، ایثار اور قربانی پر قائم ہوتا ہے۔ آج کے دور میں بھی ہمیں انصارِ مدینہ کے اسوہ پر چلنا چاہیے۔ اپنے بھائیوں کی مدد کرنی چاہیے، ان کی ضروریات کا خیال رکھنا چاہیے، اور اپنے دلوں سے حسد، بخل اور خودغرضی کو نکال دینا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا میں عزت اور آخرت میں کامیابی دلاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عظیم کردار کو اپنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 7-11 — حشر

7مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے
8لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ
(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں
9وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو۔ اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ مراد پانے والے ہیں
10وَالَّذِينَ جَاءُوا مِن بَعْدِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِّلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ
اور (ان کے لئے بھی) جو ان (مہاجرین) کے بعد آئے (اور) دعا کرتے ہیں کہ اے پروردگار ہمارے اور ہمارے بھائیوں کے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں گناہ معاف فرما اور مومنوں کی طرف سے ہمارے دل میں کینہ (وحسد) نہ پیدا ہونے دے۔ اے ہمارے پروردگار تو بڑا شفقت کرنے والا مہربان ہے
11۞ أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ نَافَقُوا يَقُولُونَ لِإِخْوَانِهِمُ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ لَئِنْ أُخْرِجْتُمْ لَنَخْرُجَنَّ مَعَكُمْ وَلَا نُطِيعُ فِيكُمْ أَحَدًا أَبَدًا وَإِن قُوتِلْتُمْ لَنَنصُرَنَّكُمْ وَاللَّهُ يَشْهَدُ إِنَّهُمْ لَكَاذِبُونَ
کیا تم نے ان منافقوں کو نہیں دیکھا جو اپنے کافر بھائیوں سے جو اہل کتاب ہیں کہا کرتے ہیں کہ اگر تم جلا وطن کئے گئے تو ہم بھی تمہارے ساتھ نکل چلیں گے اور تمہارے بارے میں کبھی کسی کا کہا نہ مانیں گے۔ اور اگر تم سے جنگ ہوئی تو تمہاری مدد کریں گے۔ مگر خدا ظاہر کئے دیتا ہے کہ یہ جھوٹے ہیں
حشرقرآن فہرست
24آیت
مدنیRevelation
9آیت

ترجمہ — حشر 9

سورہ حشر آیت 9 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے…

سورہ آیت 9/24 — حشر الحشر (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حشر سنیں, حشر ترجمہ, حشر mp3, حشر pdf. آیت 7–11. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں