حشر · 7/24
ترجمہ تلفظ — حشر
مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ۝٧
Maaa afaaa`al laahu `alaa Rasoolihee min ahlil quraa falillaahi wa lir Rasooli wa lizil qurbaa wal yataamaa walmasaakeeni wabnis sabeeli kai laa yakoona doolatam bainal aghniyaaa`i minkum; wa maaa aataakumur Rasoolu fakhuzoohu wa maa nahaakum `anhu fantahoo; wattaqul laaha innal laaha shadeedul-`iqaab
📖 اردو ترجمہ
جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

مفردات الآية:

  • أَفَاءَ: لوٹا دیا، واپس کر دیا۔ یہ مال جو بغیر جنگ کے کافروں سے حاصل ہو۔
  • أَهْلِ الْقُرَىٰ: بستیوں والے، یعنی مختلف علاقوں کے کافر جن کا مال بغیر لڑائی کے مسلمانوں کے ہاتھ آیا۔
  • دُولَةً: گردش کرنے والا، ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل ہونے والا۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو جو مال بغیر جنگ کے عطا فرمایا، اس کی تقسیم کا حکم بیان کیا ہے۔ یہ مال (جسے "فیء" کہتے ہیں) صرف آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نہیں، بلکہ اس کے حقیقی مالک اللہ تعالیٰ ہیں، اور اسے انہی مصارف میں خرچ کیا جائے گا جو اللہ نے مقرر کیے ہیں۔ اس مال کے مستحقین یہ ہیں: اللہ اور اس کے رسول (یعنی دین کی اشاعت اور مسلمانوں کی عام بھلائی کے کام)، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی رشتہ دار (بنی ہاشم اور بنی مطلب)، یتیم (جن کے والد وفات پا چکے ہوں)، مسکین (جو حاجت مند ہوں)، اور مسافر (جو راستے میں پھنس گیا ہو اور اس کے پاس خرچ نہ ہو

اس تقسیم کا مقصد یہ ہے کہ مال صرف امیروں کے ہاتھوں میں گردش نہ کرتا رہے، بلکہ غریب اور ضرورت مند بھی اس سے مستفید ہوں۔ یہ ایک عظیم معاشی انصاف ہے جو اسلام نے قائم کیا، تاکہ دولت چند لوگوں میں جمع نہ ہو جائے اور معاشرے میں توازن برقرار رہے۔

پھر اللہ تعالیٰ نے ایک عمومی اصول بیان فرمایا: "جو کچھ رسول تمہیں دیں وہ لے لو، اور جس سے منع کریں اس سے رک جاؤ۔" یہ حکم صرف مال تک محدود نہیں، بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تمام احکام اور نہیوں کو شامل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر قول، فعل اور تقریر دین کا حصہ ہے، اور مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ آپ کی اطاعت کو اپنی زندگی کا لازمی حصہ بنائے۔

آخر میں اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کا حکم دیا اور ڈرایا کہ اس کا عذاب بہت سخت ہے۔ یہ ایک محبت بھرا انتباہ ہے کہ اپنے رب کے احکام کی خلاف ورزی نہ کرو، کیونکہ اس کا نتیجہ بہت برا ہوگا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اسلام ایک مکمل نظام زندگی ہے جو معاشی انصاف، سماجی بھلائی اور اللہ کی اطاعت پر مبنی ہے۔ جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرتے ہیں تو ہم دراصل اللہ کی اطاعت کرتے ہیں، اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔ آئیے ہم اس آیت پر عمل کریں، مال کو صرف اپنے لیے نہ رکھیں بلکہ ضرورت مندوں کا خیال رکھیں، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کو دل و جان سے قبول کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت میں کامیابی تک پہنچائے گا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔



📜 آیت 5-9 — حشر

5مَا قَطَعْتُم مِّن لِّينَةٍ أَوْ تَرَكْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَىٰ أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ
(مومنو) کھجور کے جو درخت تم نے کاٹ ڈالے یا ان کو اپنی جڑوں پر کھڑا رہنے دیا سو خدا کے حکم سے تھا اور مقصود یہ تھا کہ وہ نافرمانوں کو رسوا کرے
6وَمَا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْهُمْ فَمَا أَوْجَفْتُمْ عَلَيْهِ مِنْ خَيْلٍ وَلَا رِكَابٍ وَلَٰكِنَّ اللَّهَ يُسَلِّطُ رُسُلَهُ عَلَىٰ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
اور جو (مال) خدا نے اپنے پیغمبر کو ان لوگوں سے (بغیر لڑائی بھڑائی کے) دلوایا ہے اس میں تمہارا کچھ حق نہیں کیونکہ اس کے لئے نہ تم نے گھوڑے دوڑائے نہ اونٹ لیکن خدا اپنے پیغمبروں کو جن پر چاہتا ہے مسلط کردیتا ہے۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
7مَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَىٰ رَسُولِهِ مِنْ أَهْلِ الْقُرَىٰ فَلِلَّهِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَابْنِ السَّبِيلِ كَيْ لَا يَكُونَ دُولَةً بَيْنَ الْأَغْنِيَاءِ مِنكُمْ ۚ وَمَا آتَاكُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوهُ وَمَا نَهَاكُمْ عَنْهُ فَانتَهُوا ۚ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۖ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے دلوایا ہے وہ خدا کے اور پیغمبر کے اور (پیغمبر کے) قرابت والوں کے اور یتیموں کے اور حاجتمندوں کے اور مسافروں کے لئے ہے۔ تاکہ جو لوگ تم میں دولت مند ہیں ان ہی کے ہاتھوں میں نہ پھرتا رہے۔ سو جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو۔ اور جس سے منع کریں (اس سے) باز رہو۔ اور خدا سے ڈرتے رہو۔ بےشک خدا سخت عذاب دینے والا ہے
8لِلْفُقَرَاءِ الْمُهَاجِرِينَ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِن دِيَارِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا وَيَنصُرُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ أُولَٰئِكَ هُمُ الصَّادِقُونَ
(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں
9وَالَّذِينَ تَبَوَّءُوا الدَّارَ وَالْإِيمَانَ مِن قَبْلِهِمْ يُحِبُّونَ مَنْ هَاجَرَ إِلَيْهِمْ وَلَا يَجِدُونَ فِي صُدُورِهِمْ حَاجَةً مِّمَّا أُوتُوا وَيُؤْثِرُونَ عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَلَوْ كَانَ بِهِمْ خَصَاصَةٌ ۚ وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ
اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے (اور) جو لوگ ہجرت کرکے ان کے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور ان کو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو۔ اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے لوگ مراد پانے والے ہیں
حشرقرآن فہرست
24آیت
مدنیRevelation
7آیت

ترجمہ — حشر 7

سورہ حشر آیت 7 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو مال خدا نے اپنے پیغمبر کو دیہات والوں سے…

سورہ آیت 7/24 — حشر الحشر (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حشر سنیں, حشر ترجمہ, حشر mp3, حشر pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Wednesday, August 19, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں