ترجمہ — Tafsir
قد كانت لكم - اے ایمان والو! - ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں میں بہترین نمونہ ہے، جب انہوں نے اپنی کافر قوم سے کہا: ہم تم سے اور ان چیزوں سے جنہیں تم اللہ کے سوا پوجتے ہو، بالکل بری ہیں، ہم نے تمہارے کفر کا انکار کیا، اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی اور بغض ظاہر ہو گیا، یہاں تک کہ تم صرف ایک اللہ پر ایمان لاؤ۔ لیکن ابراہیم کا اپنے باپ سے یہ کہنا کہ "میں تمہارے لیے مغفرت طلب کروں گا" اس نمونے میں شامل نہیں ہے، کیونکہ یہ اس وقت تھا جب انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ ان کے والد اللہ کے دشمن ہیں، جب معلوم ہو گیا تو انہوں نے ان سے براءت ظاہر کر دی۔ اے ہمارے رب! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
معانی الفاظ:
- أُسْوَةٌ: نمونہ، مثال، پیروی کا ذریعہ
- بُرَآءُ: بری، بیزار (یہ "بریء" کی جمع ہے)
- كَفَرْنَا بِكُمْ: ہم نے تمہارے دین اور تمہارے کفر کا انکار کیا
- الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ: دشمنی اور سخت نفرت
- أَنَبْنَا: ہم نے توبہ کی، رجوع کیا
- الْمَصِيرُ: لوٹ کر جانے کی جگہ، انجام
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ مومنین کو ایک عظیم سبق سکھا رہے ہیں کہ ابراہیم علیہ السلام اور ان کے ساتھیوں کی زندگی تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے۔ انہوں نے اپنی کافر قوم کے سامنے کھڑے ہو کر صاف صاف اعلان کیا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بری ہیں، ہم تمہارے دین کو نہیں مانتے، اور تمہارے اور ہمارے درمیان ہمیشہ کے لیے دشمنی ہے جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہیں لاتے۔ یہ براءت اور محبت کا اصول ہے - کافروں سے محبت نہیں رکھنی چاہیے، چاہے وہ رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں۔
لیکن اللہ تعالیٰ نے ایک استثناء بیان کیا - ابراہیم علیہ السلام کا اپنے والد کے لیے استغفار کرنا۔ یہ اس وقت تھا جب انہیں معلوم نہیں تھا کہ والد اللہ کے دشمن ہیں، لیکن جب معلوم ہو گیا تو انہوں نے فوراً تبرا کیا۔ اس سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ رشتہ داری کی محبت ایمان پر غالب نہیں آنی چاہیے۔
آخر میں ابراہیم علیہ السلام کی دعا کا ذکر ہے: "اے ہمارے رب! ہم نے تجھ پر بھروسہ کیا، تیری طرف رجوع کیا، اور تیری ہی طرف لوٹ کر جانا ہے۔" یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر حال میں اللہ پر توکل کریں، اسی سے مدد مانگیں، اور اسی کی طرف پلٹنا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان کی بنیاد محبت اور براءت پر ہے - اللہ اور اس کے نیک بندوں سے محبت، اور کفر و شرک سے بیزاری۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے ایمان کو مضبوط کریں، کافروں سے محبت نہ کریں، اور اللہ پر مکمل بھروسہ رکھیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ابراہیم علیہ السلام کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 2-6 — ممتحنہ
ترجمہ — ممتحنہ 4
سورہ ممتحنہ آیت 4 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تمہیں ابراہیم اور ان کے رفقاء کی نیک چال چلنی…سورہ آیت 4/13 — ممتحنہ الممتحنة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: ممتحنہ سنیں, ممتحنہ ترجمہ, ممتحنہ mp3, ممتحنہ pdf. آیت 2–6. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








