ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ: جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو، جس کا اسے وہم و گمان بھی نہ ہو۔
- فَهُوَ حَسْبُهُ: تو وہ (اللہ) اس کے لیے کافی ہے۔
- بَالِغُ أَمْرِهِ: اپنے فیصلے اور حکم کو پورا کرنے والا، کوئی چیز اس سے باہر نہیں۔
- قَدْرًا: ایک مقررہ اندازہ، ایک حد اور میعاد۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے پرہیزگار بندوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ جو شخص اس سے ڈرتا ہے اور اس کے حکموں پر عمل کرتا ہے، اللہ اس کے لیے ہر تنگی سے نکلنے کا راستہ پیدا فرماتا ہے۔ اور پھر فرماتا ہے کہ "اور اسے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہ ہو" یعنی جب بندہ اللہ پر بھروسہ کرکے اس کی اطاعت میں لگ جاتا ہے، تو اللہ اس کے رزق کے ایسے دروازے کھول دیتا ہے جن کا اس نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے، اور اللہ کا وعدہ ہمیشہ سچا ہوتا ہے۔
پھر فرمایا: "اور جو شخص اللہ پر توکل کرے، تو وہ (اللہ) اس کے لیے کافی ہے" یعنی جو بندہ اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کرتا ہے، اپنی تدبیر کو اللہ کی تدبیر کے سامنے پیش کرتا ہے، تو اللہ اس کے لیے کافی ہوجاتا ہے، اس کی حفاظت کرتا ہے، اس کی رہنمائی کرتا ہے، اور اس کے تمام معاملات سنوار دیتا ہے۔ یہ توکل کا مقام بہت بلند ہے، اور یہی وہ چیز ہے جو بندے کو ہر پریشانی اور فکر سے نجات دلاتی ہے۔
"بے شک اللہ اپنے حکم کو پورا کرنے والا ہے" یعنی اللہ نے جو فیصلہ فرمایا ہے، وہ ضرور پورا ہو کر رہے گا، کوئی اسے روک نہیں سکتا، نہ کوئی اسے بدل سکتا ہے۔ اس لیے بندے کو چاہیے کہ وہ اللہ کے فیصلوں پر راضی رہے، کیونکہ اللہ جو کرتا ہے بھلائی کے لیے کرتا ہے۔
آخر میں فرمایا: "بے شک اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک اندازہ مقرر کیا ہے" یعنی ہر چیز کی ایک حد ہے، ہر مصیبت کی ایک میعاد ہے، ہر راحت کا ایک وقت ہے، نہ کوئی چیز اس حد سے آگے بڑھ سکتی ہے اور نہ پیچھے رہ سکتی ہے۔ اس لیے جب تنگی آئے تو یہ ہمیشہ نہیں رہے گی، اور جب خوشحالی آئے تو یہ بھی ہمیشہ نہیں رہے گی۔ یہی اللہ کا نظام ہے، اور اس نظام پر یقین رکھنے والے کا دل ہمیشہ مطمئن رہتا ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمارے لیے بہت بڑی خوشخبری ہے۔ آج کا انسان رزق کی فکر میں اتنا پریشان ہے کہ اسے نیند نہیں آتی، لیکن اللہ ہمیں بتا رہا ہے کہ رزق کا مالک صرف وہی ہے، اور وہ اپنے بندے کو ایسی جگہ سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم اللہ سے ڈریں، اس کے حکموں پر عمل کریں، اور اس پر بھروسہ کریں۔ توکل کا مطلب یہ نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ جائیں، بلکہ توکل یہ ہے کہ اسباب اختیار کریں، لیکن دل کا بھروسہ اللہ پر رکھیں۔ جب دل میں یہ یقین ہوگا کہ اللہ کافی ہے، تو پھر کوئی فکر، کوئی پریشانی، کوئی اندیشہ باقی نہیں رہتا۔ اللہ ہمیں اس کا حقیقی توکل نصیب فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 1-5 — طلاق
ترجمہ — طلاق 3
سورہ طلاق آیت 3 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور اس کو ایسی جگہ سے رزق دے گا جہاں…سورہ آیت 3/12 — طلاق الطلاق (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طلاق سنیں, طلاق ترجمہ, طلاق mp3, طلاق pdf. آیت 1–5. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








