Iz yureekahumul laahu fee manaamika qaleela; wa law araakahum kaseeral lafashiltum wa latanaaza`tum fil amri wa laakinnal laaha sallam; innahoo `aleemum bizaatis sudoor
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
در خواب، خدا شمارشان را به تو اندك نشان داد. اگر شمار آنها را بسيار نشان داده بود، از ترس ناتوان مىشديد و در تصميم به جنگ به مناقشه برمىخاستيد، ولى خداوند شما را از دشمنان در امان داشت، كه او به آنچه در دلهاست آگاه است.
فِي مَنَامِكَ: آپ کے خواب میں (یہاں منام سے مراد خواب ہے، جیسا کہ جمہور مفسرین کا قول ہے)۔
قَلِيلًا: تھوڑی تعداد میں۔
كَثِيرًا: بہت زیادہ تعداد میں۔
لَفَشِلْتُمْ: تو تم ضرور ناکام ہو جاتے (یعنی ہمت ہار دیتے)۔
وَلَتَنَازَعْتُمْ: اور تم آپس میں جھگڑتے / اختلاف کرتے۔
سَلَّمَ: بچایا، سلامتی عطا کی۔
بِذَاتِ الصُّدُورِ: دلوں کے بھیدوں (چھپی ہوئی باتوں) سے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت محمد ﷺ اور اہل ایمان پر ایک عظیم احسان کا ذکر فرما رہے ہیں، جو غزوہ بدر کے موقع پر ظاہر ہوا۔ اللہ نے اپنے نبی کو خواب میں دشمنوں کی تعداد بہت کم دکھائی، حالانکہ حقیقت میں ان کی تعداد مسلمانوں سے تین گنا زیادہ تھی۔ اس خواب کی وجہ سے نبی ﷺ نے صحابہ کرام کو بشارت دی، جس سے ان کے دل مضبوط ہوئے اور وہ دشمن سے مقابلے کے لیے پوری طرح مستعد ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر وہ آپ کو خواب میں دشمنوں کی کثرت دکھاتا، تو مسلمان گھبرا جاتے، ان کی ہمت ٹوٹ جاتی، اور وہ آپس میں لڑائی یا ترکِ جنگ کے بارے میں اختلاف کرتے۔ لیکن اللہ نے اپنی حکمت سے انہیں کم دکھا کر مسلمانوں کے دلوں کو جرأت اور استقامت عطا کی، اور انہیں فتنے اور انتشار سے محفوظ رکھا۔
یہ اللہ کی خاص رحمت اور نصرت تھی، کیونکہ وہ دلوں کے رازوں سے خوب واقف ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کس دل میں شجاعت ہے، کس میں کمزوری، کس میں صبر اور کس میں بے صبری۔ اسی لیے اس نے مسلمانوں کی نفسیات کے مطابق انہیں قوت اور ہمت عطا کی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے، چاہے ظاہری اسباب کمزور ہوں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ ان کے دلوں کی حالت جانتا ہے اور ان کی کمزوریوں کے مطابق انہیں تقویت دیتا ہے۔ جب ہم اپنے معاملات کو اللہ کے سپرد کر دیتے ہیں، تو وہ ہمارے لیے ایسے راستے کھولتا ہے جن کا ہمیں گمان بھی نہیں ہوتا۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اتحاد اور یکجہتی کتنی اہم ہے، کیونکہ اختلاف اور تنازع ہمیشہ ناکامی کا سبب بنتا ہے۔ اللہ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں اپنے دین پر ثابت قدم رکھے اور ہمارے دلوں کو آپس میں جوڑے رکھے۔
اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے
اور جان رکھو کہ جو چیز تم (کفار سے) لوٹ کر لاؤ اس میں سے پانچواں حصہ خدا کا اور اس کے رسول کا اور اہل قرابت کا اور یتیموں کا اور محتاجوں کا اور مسافروں کا ہے۔ اگر تم خدا پر اور اس (نصرت) پر ایمان رکھتے ہو جو (حق وباطل میں) فرق کرنے کے دن (یعنی جنگ بدر میں) جس دن دونوں فوجوں میں مڈھ بھیڑ ہوگئی۔ اپنے بندے (محمدﷺ) پر نازل فرمائی۔ اور خدا ہر چیز پر قادر ہے
جس وقت تم (مدینے سے) قریب کے ناکے پر تھے اور کافر بعید کے ناکے پر اور قافلہ تم سے نیچے (اتر گیا) تھا۔ اور اگر تم (جنگ کے لیے) آپس میں قرارداد کرلیتے تو وقت معین (پر جمع ہونے) میں تقدیم وتاخیر ہو جاتی۔ لیکن خدا کو منظور تھا کہ جو کام ہو کر رہنے والا تھا اسے کر ہی ڈالے تاکہ جو مرے بصیرت پر (یعنی یقین جان کر) مرے اور جو جیتا رہے وہ بھی بصیرت پر (یعنی حق پہچان کر) جیتا رہے۔ اور کچھ شک نہیں کہ خدا سنتا جانتا ہے
اس وقت خدا نے تمہیں خواب میں کافروں کو تھوڑی تعداد میں دکھایا۔ اور اگر بہت کر کے دکھاتا تو تم لوگ جی چھوڑ دیتے اور (جو) کام (درپیش تھا اس) میں جھگڑنے لگتے لیکن خدا نے (تمہیں اس سے) بچا لیا۔ بےشک وہ سینوں کی باتوں تک سے واقف ہے
اور اس وقت جب تم ایک دوسرے کے مقابل ہوئے تو کافروں کو تمہاری نظروں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا اور تم کو ان کی نگاہوں میں تھوڑا کر کے دکھاتا تھا تاکہ خدا کو جو کام منظور کرنا تھا اسے کر ڈالے۔ اور سب کاموں کا رجوع خدا کی طرف ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔