Fa izansalakhal Ashhurul Hurumu faqtulul mushrikeena haisu wajattumoohum wa khuzoohum wahsuroohum qaq`udoo lahum kulla marsad; fa-in taaboo wa aqaamus Salaata wa aatawuz Zakaata fakhalloo sabeelahum; innal laaha Ghafoorur Raheem
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و چون ماههاى حرام به پايان رسيد، هر جا كه مشركان را يافتيد بكشيد و بگيريد و به حبس افكنيد و در همه جا به كمينشان نشينيد. اما اگر توبه كردند و نماز خواندند و زكات دادند، از آنها دست برداريد، زيرا خدا آمرزنده و مهربان است.
جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
انسلخ: گزر جانا، ختم ہو جانا (جیسے جانور کی کھال اتار دی جائے)۔
الأشهر الحرم: وہ چار مہینے (محرم، رجب، ذوالقعدہ، ذوالحجہ) جن میں مشرکین کو امن دیا گیا تھا۔
خذوهم: انہیں قید کرو، گرفتار کرو۔
احصروهم: انہیں گھیراؤ میں رکھو، ان کے قلعوں اور ٹھکانوں کا محاصرہ کرو۔
کل مرصد: ہر گھاٹی، راستے اور گزرگاہ پر۔
تفسیر:
جب وہ چار مہینے گزر جائیں جو مشرکین کو مہلت کے طور پر دیے گئے تھے، اور وہ اپنی ضد اور کفر پر قائم رہیں، تو پھر اے مسلمانو! ان مشرکین سے جنگ کرو جہاں کہیں بھی انہیں پاؤ — چاہے وہ حرمِ مکہ میں ہوں یا باہر۔ انہیں گرفتار کرو، ان کا محاصرہ کرو، اور ہر راستے اور گھاٹی پر ان کی تاک میں بیٹھو تاکہ وہ کہیں بھاگ نہ سکیں۔ یہ حکم سختی اور قوت کے ساتھ ہے، کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عہد شکنی کی اور اسلام کے دشمن بنے رہے۔
لیکن اس سخت حکم کے ساتھ ہی رحمت کا دروازہ بھی کھلا ہے: اگر وہ توبہ کر لیں، شرک چھوڑ دیں، نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں — جو اسلام کے بنیادی ارکان ہیں — تو پھر انہیں چھوڑ دو، ان کا راستہ آزاد کر دو، کیونکہ وہ اب تمہارے بھائی بن چکے ہیں۔ ان کے ساتھ نرمی اور بھلائی کرو، ان پر ظلم نہ کرو۔
یہ حکم محض انتقام یا خونریزی کا حکم نہیں، بلکہ امن و سلامتی کا حکم ہے۔ اسلام دشمنوں کے خلاف سختی کرتا ہے تاکہ فتنہ ختم ہو، لیکن جیسے ہی وہ اسلام کی طرف لوٹ آئیں، انہیں معاف کر دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے — وہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان پر رحم فرماتا ہے، چاہے وہ پہلے کتنے ہی بڑے گناہوں میں مبتلا کیوں نہ رہے ہوں۔
دعوتی انداز:
اس آیت میں مسلمانوں کے لیے بہت بڑی حکمت اور رحمت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جنگ کا حکم صرف اس لیے دیا تاکہ امن قائم ہو اور فتنہ ختم ہو، لیکن ساتھ ہی توبہ کا دروازہ ہمیشہ کھلا رکھا۔ یہ اسلام کی خوبصورتی ہے کہ دشمن بھی جب توبہ کر لے تو وہ بھائی بن جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگیوں میں بھی یہی راستہ اپنائیں — سختی صرف حق کے لیے، اور رحمت ہر حال میں۔ اللہ ہمیں سمجھنے اور عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور حج اکبر کے دن خدا اور اس کے رسول کی طرف سے لوگوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ خدا مشرکوں سے بیزار ہے اور اس کا رسول بھی (ان سے دستبردار ہے) ۔ پس اگر تم توبہ کرلو تو تمھارے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر نہ مانو (اور خدا سے مقابلہ کرو) تو جان رکھو کہ تم خدا کو ہرا نہیں سکو گے اور (اے پیغمبر) کافروں کو دکھ دینے والے عذاب کی خبر سنا دو
البتہ جن مشرکوں کے ساتھ تم نے عہد کیا ہو اور انہوں نے تمہارا کسی طرح کا قصور نہ کیا ہو اور نہ تمہارے مقابلے میں کسی کی مدد کی ہو تو جس مدت تک ان کے ساتھ عہد کیا ہو اسے پورا کرو۔ (کہ) خدا پرہیزگاروں کو دوست رکھتا ہے
جب عزت کے مہینے گزر جائیں تو مشرکوں کو جہاں پاؤ قتل کر دو اور پکڑلو اور گھیرلو اور ہر گھات کی جگہ ان کی تاک میں بیٹھے رہو۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز پڑھنے اور زکوٰة دینے لگیں تو ان کی راہ چھوڑ دو۔ بےشک خدا بخشنے والا مہربان ہے
اور اگر کوئی مشرک تم سے پناہ کا خواستگار ہو تو اس کو پناہ دو یہاں تک کہ کلام خدا سننے لگے پھر اس کو امن کی جگہ واپس پہنچادو۔ اس لیے کہ یہ بےخبر لوگ ہیں
بھلا مشرکوں کے لیے (جنہوں نے عہد توڑ ڈالا) خدا اور اس کے رسول کے نزدیک عہد کیونکر (قائم) رہ سکتا ہے ہاں جن لوگوں کے ساتھ تم نے مسجد محترم (یعنی خانہ کعبہ) کے نزدیک عہد کیا ہے اگر وہ (اپنے عہد پر) قائم رہیں تو تم بھی اپنے قول وقرار (پر) قائم رہو۔ بےشک خدا پرہیز گاروں کو دوست رکھتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔